چین میں پھنسے ہم وطنوں کا معاملہ

اگرچہ مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو چین سے نکالا ہے اور مزید کیلئے کوششیں ہورہی ہیں جبکہ پاکستان نے اپنے شہریوں کو چین سے اس خدشہ کے پیش نظر نہ نکالنے کا اعلان کیا ہے کہ خدانخواستہ وائرس پاکستان منتقل نہ ہو۔تشویشناک امر یہ ہے کہ چین میں وائرس پھیلنے سے صورتحال وہ نہیں جو بتایا جارہا ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہاں پر صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ہو کا عالم ہے اور لوگ خوف کے مارے گھروں سے نکل نہیں سکتے۔ کاروبار حیات منجمد ہونے سے بہت سارے مسائل پیدا ہونا فطری امر ہے جس میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت وکمیابی فطری امور ہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اس صورتحال سے چین میں مقیم پاکستانی بھی متاثر ہوں گے ان کو وہاں سے پاکستان منتقل نہ کرنے کی وجوہات جو بھی ہوں کم از کم وہاں پر ان کی دست گیری اور ان تک رسائی کی ذمہ داری کی ادائیگی تو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جن پاکستانی طلبہ نے بی بی سی سے بات کی ہے ان میں سے کسی نے بھی پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ان کی مدد اور ان تک رسائی سے انکار کیا ہے۔طلباء کے مطابق جو صورتحال ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں دکھائی جا رہی ہے، اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔شہر میں کھانے پینے کو کچھ مل نہیں رہا یہاں تک کہ سڑک پر آپ چل بھی نہیں سکتے۔ صورتحال بہت سنگین ہے۔دنیا کے کئی ممالک جس میں بنگلہ دیش اور اردن بھی شامل ہے انہوں نے شدید متاثرہ صوبے سے اپنے طالب علموں کو نکال لیا ہے ایسے میں پاکستانی طالب علموں اور اُن کے اہل خاندان کی پریشانی اور پاکستانی حکومت سے اپنے شہریوں کے انخلا ء کے انتظامات کے مطالبے کو بلاجواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک اس وائرس کے ممکنہ منتقلی کے خطرے کا سوال ہے یہ خطرہ پاکستان سے پہلے امریکہ، جاپان، روس، بنگلہ دیش اور اردن مول لے چکے ہیں۔ پاکستانی شہریوں کی واپسی ظاہر ہے سکریننگ کے بعد ہی ہوگی اور واپسی پر اُن کا جدید آلات کے ذریعے معائنہ ہوگاجس کے بعد ہی اُن کو گھر جانے کی اجازت دی جائے گی، بہرحال جس قسم کی صورتحال پاکستانی طلبہ نے بیان کی ہے ممکن ہے مجموعی صورتحال ایسا نہ ہو لیکن اگر متاثرہ صوبے میں پھنسے طلبہ سے پاکستانی سفارتخانے کے رابطے اور امداد کا یہ عالم ہو تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم خطرے والے علاقوں میں مقیم پاکستانیوں سے سفارتخانے کا شاید ہی رابطہ ہو جہاں تک سفارتخانے کیساتھ رجسٹریشن نہ رکھنے والے پاکستانی افراد کا سوال ہے وہ تو ویسے بھی دائرہ کار سے باہر ہوں گے۔جب بھی دنیا کے کسی ملک میں کوئی بڑا حادثہ ہو جائے جنگ چھڑ جائے یا کوئی اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے پاکستانی سفارتخانے اپنے شہریوں سے رابطے اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری میں کوتاہی برتتے ہیں اور ناکامی کا شکار ہوتے ہیں جس سے دنیا میں پاکستان کے حوالے اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔ اس طرح کی صورتحال میں پاکستانی سفارتخانوں کو متحرک کردار ادا کرنے کا پابند بنانے اور ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لیکر ان کو دور کرنے پر توجہ کی حکومتی ذمہ داری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے جہاں تک پاکستانیوں کی چین سے عدم منتقلی کا سوال ہے وائرس کے پھیلائوں کی روک تھام کیلئے اس اقدام کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن ساتھ ہی دنیا کے جو جو ممالک اپنے شہریوں کے انخلاء کی تگ ودو میں ہیں ان کے فیصلے کی بھی کوئی معقول وجہ ضرور ہوگی جب تک چین سے پاکستانیوں کے حوالے سے حقیقی صورتحال کا علم نہ ہوگا مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ وزارت خارجہ چین میں پاکستانی سفارتخانے کے تمام دفاتر اور عملے کو پاکستانیوں سے رابطے اور ان کو ممکنہ مالی وطبی اور خوراک کی اشیاء پہنچانے کی ذمہ داری جتنا ممکن ہو سکے نبھانی چاہئے اور چین کی حکومت سے بیماری میں مبتلا پاکستانیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے رابطہ کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان میں ان کے خاندانوں کو ان کے حوالے سے معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری نبھانی چاہئے اس حوالے سے فوری طور پر وزارت خارجہ میں ڈیسک قائم کر نے کی ضرورت ہے جو ان تمام معاملات کی نگرانی کرے،چین میں مقیم افراد کے خاندانوں کی رہنمائی کرے اور جو بھی صورتحال ہو اس سے آگاہ کرے۔