کیرونا وائرس

حضرت انسان ابتدائے آفرینش سے تھپیڑوں کی زد میں ہے، زندگی اور موت کا کھیل ہمیشہ سے جاری ہے اسے جنگیں چین لینے نہیں دیتیں، کبھی سیلاب ہزاروں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں اور کبھی وبائی بیماریاں آبادیوں کی آبادیاں چٹ کرجاتی ہیں۔ آج کل چین کے شہر ووہان میں موت کا رقص کورونا وائرس کے نام سے جاری ہے، چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک سو بتیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ منگل کے روز اس سے متاثر ہونے والے 1459نئے مریض سامنے آئے ہیں جن میں چار پاکستانی طلبا بھی شامل ہیں! بدھ تک چین میں اس وائرس سے تصدیق شدہ متاثرہ افراد کی کل تعداد 5974 تک پہنچ چکی ہے، سینکڑوں غیرملکی شہریوں کو چین کے مرکزی شہر ووہان سے نکال لیا گیا ہے ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس چین کے دوسرے شہروں کے علاوہ فضائی سفر کرنے والوں کی بدولت دنیا کے سولہ ممالک میں پھیل چکا ہے! تھائی لینڈ، فرانس، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت 16ممالک میں کم ازکم 47 کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے، زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں ادھیڑ عمر کے افراد شامل ہیں یا پھر وہ مریض جو پہلے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے۔ اسی خطرے کے پیش نظر پاکستا ن کے وزیرمملکت برائے صحت ڈاکٹر مظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کے تناظر میں پاکستان نے ووہان سے اپنے شہریوں کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہری چین سے نکال لئے ہیں۔ جاپان نے 29جنوری کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے چین میں پھنسے ہوئے اپنے 206 شہریوں کو واپس ٹوکیو بلا لیا ہے جبکہ چارسو سے زائد مزید شہریوں کو چین کے متاثرہ صوبے ووہان سے نکالنے کا انتظام کیا جارہا ہے! وہاں پر موجود پاکستانی طلبہ کے مطابق ابتدا میں شہر میں کھانے پینے کو کچھ بھی نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ سڑک پر چل بھی نہیں سکتے تھے، صورتحال بہت سنگین تھی ہماری یونیورسٹی کے تمام بیرونی دروازوں پر بڑے بڑے تالے لگے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، آپ اطمینان رکھیں اور باہر نہ جائیں۔کورونا وائرس ہے کیا؟ یہ عام سا نظر آنے والا وائرس ہے جس کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں ناک اور گلا اس سے متاثر ہوتے ہیں، اس وائرس کی بہت سی اقسام ایسی بھی ہیں جو خطرناک نہیں ہیں مگر بعض اقسام ایسی ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں، اگر آپ کو یاد ہو تو یہ وہی وائرس ہے جو 2012میں سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں ظاہر ہوا تھا اس کے بعد یہ افریقہ، ایشیا اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی ظاہر ہوا تھا اسی وائرس کی وجہ سے 2014میں مڈل ایسٹ میں تقریباً 858 ہلاکتیں ہوئی تھیں لوگوں کو بڑے پیمانے پر اس وائرس کی وجہ سے سانس کی بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں، اپریل 2014میں اسی وائرس کی وجہ سے دو امریکیوں کو ہسپتال داخل کیا گیا تھا جو سعودی عرب سے واپس آئے تھے، انہیں سانس کی تکلیف تھی۔ مئی 2015 میں کورونا وائرس کا حملہ کوریا پر ہوا تھا اس سے پہلے 2003 میں یہاں 774 لوگ اس وائرس کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے! کورونا وائرس کا شمار اس لئے بھی خطرناک دشمنوں میں کیا جاتا ہے کہ اب تک اس سے بچاؤ کیلئے کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج! 2003میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر اس کے بعد انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا نظام تنفس متاثر ہوا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی سب سے پہلی علامت بخار ہے سب سے پہلے مریض کو شدید بخار ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی شروع ہوجاتی ہے، اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گلے کو خشک نہیں چھوڑنا چاہئے، وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا چاہئے، خشک کھانسی کے تقریباً ایک ہفتے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جو مریض پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اس وائرس کے حملے کا آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے متاثر مریض کا شروع ہی سے مناسب علاج شروع کر دیا جائے تو پھر یہ بیماری اتنی خطرناک نہیں ہوتی۔ آسڑیلیا نے کورونا وائرس سے متاثر شہریوں کو اپنے ملک سے دور ایک جزیرے میں رکھا ہوا ہے جہاں تقریباً دو ہفتوں تک ان کا علاج ہوگا انہیں شہری آبادیوں سے دور رکھنے کی یہی وجہ ہے کہ یہ وائرس بڑی تیزی سے پھیلتا ہے اس کی حساسیت انتی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر مریض نے کسی چیز کو ہاتھ لگایا ہو جیسے دروازہ، چھتری یا کوئی اور چیز تو اس کو چھونے والا شخص بھی اس وائرس کا شکار ہو جاتا ہے! اس قسم کے وبائی امراض کی دہشت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ پاکستا ن میں کورونا وائرس کا ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اگلے ساٹھ دن تک حتی الامکان کوشش کریں کہ بکرے کا گوشت نہ کھایا جائے، پاکستان میں بکروں کے اندر اس وائرس کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں! (کہتے ہیں بکرے اس خبر کی وجہ سے بہت خوش ہیں) ہمیں تو اس خبر کی صحت کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں، اس کیساتھ ساتھ اس بات کی تسلی بھی ہے کہ پاکستان میں بکرے کا گوشت کھانے والے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں! جہاں سبزیاں اور دالیں خریدنا عام آدمی کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو وہاں بکرے کا گوشت کون خرید سکتا ہے!۔