ملک میں پولیو کے مزید 4 کیسز سامنے آگئے

اسلام آباد: ملک میں پولیو کے مزید 4 کیسز سامنے آگئے جن میں 2 بچوں کا تعلق سندھ جبکہ 2 کا پنجاب سے ہے۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مریضوں کے نمونے گزشتہ برس لے کر این آئی ایچ کو بھجوائے گئے تھے۔

عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سندھ کے ضلع جیکب آباد کی تحصیل تھل کی یونین کونسل دین پور کا ایک 5 سالہ بچہ پولیو کے باعث معذوری کا شکار بنا۔

اس کے علاوہ ضلع میر پور خاص کی تحصیل سندھڑی کی یونین کونسل پھلاڈیوں میں 4 سال کا بچہ پولیو سے متاثر ہوا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ پنجاب میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی یونین کونسل علی والا میں 2 بچیاں پولیو کے باعث مفلوج ہوئیں ان میں ایک بچی کی عمر 4 سال جبکہ دوسری کی 10 ماہ تھی۔

اس ضمن میں جب نیشنل کووآرڈنیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو ڈاکٹر رانا صفدر نے رابطہ کیا تو انہوں نے 4 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ہم پولیو کیس کے وقت کا تعین نمونے لیے جانے کی تاریخ سے کرتے ہیں لہٰذا سامنے آنے والے چاروں نئے کیسز سال 2019 میں درج کیے جائیں گے جس کی مجموعی تعداد 144 ہوگئی ہے‘۔

ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ اب تک سال 2020 میں 7 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں اور رواں برس کا آخری کیس صوبہ خیبرپختونخوا میں سامنے آیا۔

مذکورہ کیس میں تحصیل لکی مروت کی یونین کونسل ابا خیل میں ایک 18 ماہ کی بچی پولیو وائرس سے متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں انسداد پولیو مہم میں آنے والے تعطل کے باعث پولیو کا پھیلاؤ صحت حکام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا اور نئے کیسز کو شمار کر کے سال 2019 میں پولیو سے 144 بچے معذوری کا شکار ہوئے۔

واضح رہے کہ پولیو وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اعصابی نظام میں داخل ہوکر تاحیات معذور بنا سکتا ہے۔

ویکسین کے علاوہ پولیو کے خاتمے کا کوئی سبب نہیں تاہم بروقت قطرے پلانے سے بچے اس خطرناک وائرس سے بچ سکتے ہیں اور ماہرین صحت والدین پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ہر دفعہ قطرے ضرور پلوائیں۔

دنیا کے اکثر ممالک پولیو کے مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں اور اس کا انسداد نہ ہوسکا۔

پاکستان تاحال پولیو سے متاثرہ ملک ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکار ہے اور 2014 سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو پولیو سے متعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔