آٹا وگندم کی طلب ورسد کے توازن کیلئے احسن اقدام

خیبرپختونخوا میں نئے تیار کردہ آئی ٹی بیسڈ آٹا سپلائی چین سسٹم کے تحت صوبے میں گندم کے آٹا کے موجود سٹاک ، ضلع وائز آٹا کی ڈیمانڈ وسپلائی، شارٹ فال کے رجحان، گوداموں اور ملوں کی جیوٹیگنگ اور ڈیلرز کو آٹا کی فراہمی سمیت تمام امور کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈکئے جانے سے آٹا کی بقدرضرورت نقل وحمل ومنتقلی کے کام کی مربوط انداز میں نگرانی ممکن ہوسکے گی ۔ آٹا کی صوبائی اور ضلع وائز روزانہ کی صورتحال وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کیلئے ڈیش بورڈ پر دستیاب ہونے سے اولاً اس امر کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو وزیراعلیٰ بروقت اس کانوٹس لے سکیں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا اقدام حسب روایت جدید اصلاحات اور رجحانات کی طرف صوبائی حکومت کی گراں قدر پیش رفت ہے ۔ صوبے میں صوبائی حکومت کے اپنے سستے آٹا کی مقدار وسپلائی سمیت ضرورت کی بنیادپر باہر سے آنے والے آٹا کی مقدار و سپلائی، کارخانوں میں آٹا کی پیداوار اور کس کارخانے سے کس ڈیلر کو کتنی مقدار میں آٹا گیا، یہ تمام تر تفصیلات ڈیش بورڈ پردستیاب ہونے سے صورتحال پوری طرح واضح اورحکومتی پالیسی ومنشاء کے مطابق ہوگی۔ہم سمجھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کو ڈیجٹلائز کرنے کے جن اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے اس نظام کو پوری طرح بروئے کار لانے سے صوبے میں حکومتی وانتظامی مشینری کی فعالیت اور محکموں کی کارکردگی مربوط وفعال ہوگی جو شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کی بنیاد ثابت ہوگی۔صوبے میں آٹا بحران کا جو خدشہ پیدا ہوگیا تھا اور خاص طور پر آٹا کی سمگلنگ کی جو صورتحال تھی اس پر قابو پانے کی سنجیدہ کوششوں کے بعد اب ان خدشات کا ازالہ ہونا چاہئے توقع کی جانی چاہیے کہ اس جدید نظام سے پوری طرح استفادہ کر کے نہ صرف آٹا بحران اور گندم کی قلت پر قابو پایا جائے گا بلکہ آٹا اور گندم کی ناجائز حمل ونقل کی بھی پوری طرح روک تھام ہوگی اور مارکیٹ میں طلب ورسد کے توازن سے قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔

منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے اقدامات کی ضرورت

معززین شہر کی طرف سے انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کو سنٹرل جیل پشاور میں قائم ہسپتال کی توسیع سمیت ممکنہ تعاون کا یقین دلانا قابل قدر جذبہ ہے جس سے منشیات کے عادی افراد کے علاج میں سہولت ہوگی۔امر واقع یہ ہے کہ اس وقت صوبے کے مرکزی قید خانے میں ستائیس سو منشیات کے عادی افراد کو علاج کی ضرورت ہے جو سنٹرل جیل پشاور کے چھوٹے سے ہسپتال میں ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں جس بڑے پیمانے پر اضافہ ہورہا ہے اور روز بروز ان کی شرح بڑھ رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت اور ڈویژنز میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کیلئے بڑے بڑے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں نشے کے عادی افراد کو اس وقت تک رکھا جائے جب تک وہ پوری طرح سے صحت مند نہیں ہوتے۔ ان مراکز میں ان افراد کو معاشی بحالی اور روزگار کے حصول کا بھی قابل بنانے کے انتظامات ہونے چاہئیں۔ بدقسمتی سے منشیات کے عادی افراد کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور ہنرمندوں کی بھی ہوتی ہے جنہیں علاج اور تھوڑی سی توجہ دے کر دوبارہ سے معاشرے کا ذمہ داری فرد بنایا جا سکتا ہے۔