دیگر ممالک کی طرح پاکستانی شہریوں کا بھی انخلاء کیا جائے

حکومت پاکستان کے دعوئوں کے برعکس چین سے کسی نہ کسی ذریعے ملنے والے ویڈیوز میں پاکستانی طلبہ کی جانب سے جس بے بسی اور پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جس بے حسی کا اظہار سامنے آیا ہے وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔چین میں مقیم پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کے حکومتی فیصلے کی حکمت جو بھی ہو اس کا تو حکمرانوں ہی کو علم ہوگا لیکن فلسطین اور اردن سمیت دنیا کے تمام چھوٹے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کا انخلاء مکمل کرلیا ہے یا پھر اس کیلئے انتظامات کر رہے ہیں جبکہ دنیا کے بڑے ممالک نے ابتدائی ایام میں ہی اپنے شہریوں کو چین سے خصوصی طیاروں کے ذریعے اپنے وطن واپس منتقل کردیا ہے۔ جہاں تک ممکنہ متاثرین کی واپسی کی صورت میں خدانخواستہ وائرس کے پھیلائو کے خدشے کا تعلق ہے اس کا حل پندرہ سے اٹھائیس دنوں تک واپس آنے والے افراد کوقرنطینہ میں یعنی علیحدہ مقام پر رکھنے میں ہے اس دوران ان کی سکریننگ اور صحت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اٹھائیس دن کے بعد ان کو آزادانہ طور پر کسی جگہ جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ چین میں مقیم طالب علم خاص طور پر مشکلات کا اس لئے شکار ہورہے ہیں کہ ان کے پاس نہ تو رقم باقی بچی ہے اور نہ ہی ان کو چین کی صوبائی وقومی حکومتیں امداد دے رہی ہیں۔ پاکستانی سفارتخانہ تو ان کا فون تک نہیں اُٹھاتا چین کی جانب سے بہت بڑے پیمانے پر پیداشدہ اس صورتحال میںپاکستانی شہریوں تک رسائی اور ان کی ضروریات پوری نہ کر پانے کا موزوں عذر موجود ہے اور چینی حکومت کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن حکومت پاکستان کا اپنے شہریوں کو چین سے نہ نکالنا اور ہمارے سفارتخانے کا مشکل کی اس گھڑی میں اپنے شہریوں کو بے یارومددگار چھوڑناافسوسناک ہے۔قبل اس کے کہ چین میں مقیم پاکستانیوں کے عزیزواقارب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور وہ احتجاج پر اُتر آئیں وزیراعظم عمران خان کو چین سے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کا فوری حکم دینا چاہئے۔