اسی تنخواہ پر گزارہ ہے

جس طرح ہر چیز کا ایک سیزن ہوتا ہے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی آمدن میں اضافے کے حوالے سے خبروں کا بھی یہ سیزن ہر سال انہی دنوں میں آتا ہے جب بجٹ کے اعلان میں ایک دو ماہ ابھی رہتے ہیں، تاہم وزیراعظم کی جانب سے اپنی تنخواہ کی کمی کا جب سے رونا رویا گیا ہے، تب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کبھی دوگنے اضافے اور کبھی کسی اور شرح سے بڑھوتری کی خبریں آنے لگی ہیں، بلکہ اگر اخباری زبان میں کہا جائے تو ہر سال کی طرح اس برس بھی اس حوالے سے ”فلر” چھوڑے جارہے ہیں، صحافت کی زبان میں فلر اس خبر کو کہتے ہیں جو ”مارکیٹ کا بھائو” یعنی متعلقہ حلقوں کی جانب سے ری ایکشن معلوم کرنے کیلئے بطور پھلجڑی چھوڑی جاتی ہے اور جب ردعمل سامنے آجاتا ہے تو پھر سرکار اپنا اصلی فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔گزشتہ برسوں کی خبریں نکال کر دیکھیں تو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں20تا35فیصد اضافے کی نوید دی جاتی رہی ہے جس پر ملازمین کی انجمنیں اور پنشنرز مہنگائی کے تناسب سے اضافے کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں لیکن جب بجٹ کا اعلان ہوتا ہے تو صرف دس فیصد اضافے پر ٹرخا کر جان چھڑائی جاتی رہی، اگر چہ ان اعلانات کی سیاہی ابھی خشک ہونے والے محاورے کے تکلف کو بھی برطرف رکھتے ہوئے جن بجٹوں میں اونٹ کے منہ میں زیرے جتنے اضافے کے اعلانات ہوتے رہے،انہی بجٹوں میں نئے ٹیکسوںکے نفاذ اور پرانے ٹیکسوں میں اضافے کا کارن یہ دس فیصد اضافہ شرمندہ شرمندہ ہو کر رہ جاتا تھا، بلکہ گزشتہ برس تو نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد سرکاری ملازمین کی پہلے سے مقرر تنخواہوں میں بھی کمی کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، یعنی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں عملی طور پر اضافے کے باوجود تنخواہیں کم ہوئیں۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ ہندسوں میں اضافے کے باوجود قوت خرید اور اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے کمی کا سامنا رہا، اس پر کرنل شفیق الرحمن کی شگفتہ تحریر کا وہ حصہ یاد آیا جو شاید ان کی کتاب ”حماقتیں” یا پھر ”مزید حماقیں” میں موجود ہے اور جس میں ان کے ایک افسانے میں استاد اپنے شاگرد منے سے پوچھتا ہے کہ بتائو اگر ایک اُلو 20 روپے12آنے اور3پیسے میں خریدا جائے اور 22 روپے دس آنے اور2پیسے میں فروخت کیا جائے تو کتنا منافع یا نقصان ہوسکتا ہے، منا پہلے تو جھٹ سے جواب دیتا ہے کہ میں نے اتنا مہنگا اُلو کبھی خریدیا فروخت ہوتے نہیں دیکھا، مگر جب استاد غصہ ہو جاتا ہے کہ جواب دو تو منا کہتا ہے روپوں میں نفع اور آنے پیسے میں نقصان، خیر یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے جن سے مہنگائی اور آمدنی میں تعلق اور تفاوت کوواضح کرنا مقصود تھاکہ کس طرح بظاہر آمدن میں اضافے کے باوجود مہنگائی میں اضافے سے تنخواہوں کی قدر گھٹ جاتی ہے جبکہ اس سارے قضئے میں بے چارے پنشنرز جس طرح پس کر رہ گئے ہیں ان کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے جیسا کہ اب ایک بار پھر لگ رہا ہے کہ انہیں ایک بار پھر قابل توجہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے یعنی یہ جو تازہ ترین خبر سامنے آئی ہے اور جس میں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 120فیصد اضافے کی سفارشات سامنے آئی ہیں،اس میں پوری تفصیل کیساتھ گریڈز کے حساب سے تنخواہ اور الائونسز میں اضافے کے بارے میں بتایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی اسی حساب سے اپنے اپنے ملازمین کو یہ اضافہ دینے کا اعلان کر سکتی ہیں (بشرطیکہ یہ فیصلہ حتمی ہو) تاہم جیسا کہ گزارش کی ہے کہ جب سے ملازمین کی تنخواہیں دوگنی کرنے کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں جو تازہ ترین خبر کے مطابق دو سوفیصد سے کم کر کے اب 120فیصد اضافے تک پہنچ چکی ہیں، ان میں سے کسی بھی خبر میں پنشنرز کا کوئی ذکر موجود نہیں گویا سرکار کی نظروں میں یا ان لوگوں کے نزدیک جو یہ سفارشات مرتب کر رہے ہیں (وہ بھی حاضر سروس ملازمین ہی ہیں) پنشنرزسرے سے انسان ہی نہیں یا پھر شاید ان کا کوئی وجود ہی نہیںیا پھر پنشنرز پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، نہ ہی بجلی، گیس وغیرہ کے بلوں میں اضافے کا ان پر اطلاق ہوتا ہے اس لئے ان کو مہنگائی کی شرح میں اضافے کی مناسبت سے ان کی پنشن میں اضافہ کرنے کی بجائے حسب روایت صرف دس فیصد تک ہی محدود رکھے جانے کی سوچ کارفرما ہے، حالانکہ آج جو لوگ ملازمتوں میں ہیں اور اندھا بانٹے ریوڑیوں کے مصداق صرف حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں اور الائونسزمیں اضافہ کرنے ہی کی سفارشات کر رہے ہیں انہیں بھی آنے والے کل کو پنشنرز ہی کی صفوں میں شامل ہونا پڑے گا، تب انہیں بھی مہنگائی کا رونا اسی طرح رونا پڑے گا جس طرح آج کے پنشنرز رورہے ہیں۔بقول انور شعور
بڑھ گئیں ممبروں کی تنخواہیں اور ادھر حال یہ ہمارا ہے
سستے وقتوںمیں جو ہوئی تھی طے اسی تنخواہ پر گزارہ ہے
ویسے تو جو خبریں شائع ہورہی ہیںانہیں کالم کے آغاز میں ہم نے اس لئے فلر قرار دیا ہے کہ یہ ہر سال ہوتا ہے اور خبریں شائع کرنے کے بعد صرف دس فیصد پر ملازمین اور پنشنرز کو بچوں کی طرح کھلونے دے کے بہلا دیا جاتا ہے، تاہم اگر اب کی بار خود وزیراعظم نے بھی مہنگائی کا رونا روتے ہوئے اپنی تنخواہ کی بے توقیری کا گلہ کیا ہے تو ممکن ہے کہ یہ جو خبریں شائع ہورہی ہیں واقعی ان میں صداقت ہو اور سرکاری ملازمین کی بالآخر سن لی گئی ہو۔ جس طرح ان خبروں میں سے پنشنرز کا تذکرہ تک نکال دیا گیا ہے یہ یقینا ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے اور متعلقہ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرتے وقت بے چارے پنشنرز کیلئے بھی معقول اضافے کی سفارشات کر کے انہیں زندہ درگور ہونے سے بچائے کیونکہ ایک جانب صرف 10 فیصد اضافے سے یہ لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتے تو دوسری جانب جن لوگوں نے اپنی قلیل بچت سرکاری بچت سکیموں میں لگا رکھی ہے ان پر منافع میں مسلسل کمی کے اعلان سے بھی یہ لوگ شدید دبائو میں ہیں
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے