فاتح کون ہے؟

افغانستان میں فاتح کون ہے اسی خواہش یا سوال کی وجہ سے افغانستان میں امن کا معاہد ہ اٹکا ہوا ہے گوکہ معاہدہ کا مسودہ تیار ہے اور آخری نکتہ تک طے پا گیا ہے مگر امریکا کی اٹ پٹ کی وجہ سے معاملہ سلجھ نہیں رہا، کیونکہ امریکا چاہتا ہے کہ اس کی واپسی افغانستان سے سوویت یونین کی طرح نہ ہو بلکہ دنیا یہ جانے کہ وہ ایک فاتح کی حیثیت سے افغانستان سے نکلا ہے جبکہ طالبان اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے امریکا سے اب تک جتنی مرتبہ بھی مذاکرات کئے ہیں وہ کسی مجبور یا مسکین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فاتح کی حیثیت سے کئے ہیں، یہ بات امریکا کو ہضم نہیں ہو رہی کیونکہ طالبان افغانستان کی آزادی خیرات میں حاصل نہیں کر رہے ہیں وہ ایک فاتح قوم بن کر افغانستان سے امریکا کو رخصت ہونے کا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں چنانچہ اسی فاتحانہ عمل کی بناء پر وہ یکطرفہ طور پر جنگ بندی کو بھی قبول نہیں کئے ہوئے ہیں، جنگ بندی کیلئے بھی ان کا مؤقف ہے کہ یہ دوطرفہ ہو سکتی ہے۔ بہرحال امریکا اس وقت بھی افغانستان میں بری طرح پھنسا ہوا ہے بلکہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ کرب میں مبتلا ہے۔ طالبان کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، اشرف غنی کی حکومت ہو یا کرزئی کی دونوں کٹھ پتلی ہیں اور ان کو امریکا لایا ہے چنانچہ امریکا اپنے ساتھ اپنی کٹھ پتلیوں کو لیکر رخصت ہو جائے، اس کے علاوہ افغانستان کی خودمختاری کے عوض کوئی شرط یا کوئی یقین دہانی کو قبول کرنے کو بھی تیار نہیں۔ طالبان نے ہر مذاکرات کے موقع پر امریکیوں کو یہ باور کرایا ہے کہ طالبان فاتح ہیں اور وہ شکست خوردہ ہیں چنانچہ اس کا اُلٹ ہوکر مذاکرات ناممکن ہیں کیونکہ طالبان کا کہنا ہے میدان سے جانے کی ضرورت اور مجبوری امریکا کی ہے طالبان کی نہیں، وہ اپنے مقام پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کو جنگ بندی کی ضرورت نہیں ہے، اگر امریکا افغانستان سے انخلاء نہیں کرتا نہ کرے طالبان کے قوت بازو میں پوری طاقت ہے اور میدان جنگ کیلئے ان کو تمام وسائل میسر بھی ہیں۔امریکا نے جب زلمے خلیل زاد کو مذاکرات کیلئے اپنا نمائندہ چنا تو اس افغان نژاد امریکی شہری سے یہ اُمید کی جا سکتی تھی کہ افغانستان میں امن کے قیام کا حل تلاش کرلیا جائے گا جس کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ بنیادی طور پر زلمے خلیل زاد افغان نسل ہے دوم اس نے افغانستان میں امریکی سفارتکار کے فرائض ایسے حالات میں انجا م دئیے تھے کہ اس وقت حالات کے رخ کے بارے میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا، ان وجوہات کے باوجود زلمے خلیل زاد نے امریکا کی سفارتکاری اس خوش اسلوبی سے انجام دی تھی کہ محسوس تک نہیں ہوا کہ زلمے خلیل زاد کی ذات اسی افغانستان کی مٹی میں گوندی گئی ہے اس نے پورے ایک امریکائی ہونے کا ثبوت دیا اور امریکی شہہ پر قائم کردہ کرزئی حکومت کے استحکام لیلئے تمام سابق جہادی قوتوں کو بھی استعمال کیا ماسوائے گلبدین حکمت یار اور حقانی گروپ کے جن کو جھانسا نہ دیا جاسکا، گلبدین حکمت یار جلال آباد کی شکست میں امریکا کے زخم خوردہ تھے چنانچہ اس موقع پر ان کیساتھ جو دھوکہ ہوا اس کے بعد سے گلبدین نے امریکہ کو قابل اعتبار نہیں سمجھا، حالانکہ کہ اس وقت حکمت یار طالبان سے بے حد نالاں تھے کیونکہ طالبان نے براہ راست بنیادی طور پر سیاسی اور عسکری نقصان حکمت یار کو پہنچایا تھا۔ اگر اس وقت طالبان آڑے نہ آتے تو حکمت یار پروفیسر ربانی کی اپنے خلاف ریشہ دوانیوں پر قابو پالیتے لیکن طالبان نے حکمت یار کی سیاست کو پیچھے دھکیل دیا تھا، جہاں تک حقانی گروپ کا تعلق ہے وہ طالبان کے وجود میںآنے کیساتھ ہی طالبان کا حصہ بن گئے تھے، اس سے قبل ان کا تعلق حزب اسلامی مولوی یونس خالص گروپ سے تھا۔ یہ ستم ظریفی ہی کہلائی گئی کہ حقانی گروپ کو ملیا میٹ کرنے کیلئے امریکا نے روزاول ہی سے پوری طاقت استعمال کی مگر جتنا اس گروپ کیخلاف قوت کو استعمال کیا گیا حقانی گروپ اس سے زیادہ طاقتور ہوتا چلا گیا۔ ابھی حال ہی میں امریکی سی آئی اے کا جو طیارہ طالبان نے مار گرایا وہ حقانی گروپ ہی کا عمل تھا اور یہ امریکا کیلئے پیغام تھا کہ وہ اب بھی پوری قوت کیساتھ موجود ہے۔ ان کی مجبوری نہیں ہے اگر امریکا نے نہیں جانا تو نہ جائے وہ قوت مقابلہ رکھتے ہیں، یہ بھی ایک سچ ہے کہ حقانی گروپ خوست سے لیکر ہلمند ومیدان کے علاقوں تک ایک قوت کیساتھ موجود ہے اور ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ حقانی گروپ کے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو کسی بھی وقت کہیں بھی کارروائی کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔زلمے خلیل زاد ایک افغانی ہونے کے ناتے اپنی قوم کی کمزوریوں اور ان کی خوبیوں اور مزاج کا پورا ادراک رکھتے ہیں چنانچہ زلمے خلیل زاد کو جب امریکا نے مذاکرات کیلئے چنا تو یہ توقع ہو چلی تھی کہ امریکا اب کی بار افغانستان میں امن کیلئے سنجیدہ ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے امریکی نمائندے کی حیثیت سے مذاکرات کیلئے جان توڑ کاوشیں کی ہیں کہ طالبان کو ایک معاہدے کے کنارے لاکھڑا کیا ہے، اس میں زلمے خلیل زاد کی اہلیت کا بھی دخل ہے، علاوہ ازیں زلمے خلیل زاد کی ذاتی خواہش کا بھی حصہ ہے کیونکہ وہ ان مذاکرات کی کامیابی سے اپنے لئے امریکا میں اونچائی چاہتے ہیں۔ مبصرین کی رائے ہے کہ زلمے خلیل زاد اس گمان میں ہیں کہ اگر امریکا کے اگلے انتخابات میں ٹرمپ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقینی طور پر وزارت خارجہ ان کی گود میں آپڑے گی اور اگر ٹرمپ خود کامیاب نہیں ہوتے لیکن ٹرمپ کی پارٹی کا کوئی دوسرا بندہ کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو بھی چانس برقرار ہے، گویا وہ افغانستان مذاکرات کی کامیابی سے اپنی کامیابی اور اعلیٰ عہدے کو نتھی کئے ہوئے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ افغانستان میں امریکی حیثیت کا ادراک کرلیں اور طالبان کی قوت کی طاقت کی سچائی کو تسلیم کرلیں۔ کون فاتح بنے گا اس کھیل میں نہ پڑیں، طالبان نے منہ سے کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے سب کچھ عمل سے کر دکھایا ہے۔