ووہان کی وبا پاکستانی اور عالمی حالات

اس وقت دنیا کے ہر ملک میں خبروں کی شہ سرخیاں ووہان کی وبا پر مشتمل ہوتی ہیں سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ کرے کہ بہت جلد انسانیت کو اس سے نجات ملے، دوسری بات یہ کہ چین ہمارا عظیم ہمسایہ ہے اُس کے دکھ درد سے ہم پاکستانیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور ہم کئی لحاظ سے اُس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ وبا کیسے شروع ہوئی اس کے اسباب کیا ہیں اس کے بارے میں دنیا کی ترقی یافتہ ممالک اور چین میں زور وشور سے تحقیقات جاری ہیں۔لیکن انسانی تاریخ میں قوموں پر مختلف عذاب نازل ہوتے رہے ہیں، آج مغرب سائنسی ایجادات کے زور پر ہر چیز اور واقعے کی سائنسی اور عقلی توجیہات کرتا ہے جس میں ایک حد تک حقیقت ہو سکتی ہے لیکن قطعی علم اللہ کے پاس ہے۔اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں مختلف اقوام پر مختلف قسم کے عذاب نازل کئے ہیں جن میں سے بعض کا ذکر قرآن وحدیث میں اس لئے آیا ہے تاکہ لوگ قیامت تک اس سے عبرت حاصل کریں لیکن بہت کم لوگ ایسا کرتے ہیں ۔قریش مکہ کو خاتم النبیینۖ نے ہرطرح سے رشدو ہدایت کی طرف بلایا لیکن نہ مانے اور بالآخر غزوہ بدر میں اُن کے بڑے بڑے سردار اجتماعی قبرمیں دفن ہوگئے۔
قرآن کریم میں فرعون کی سرکشی اور بغاوت کا ذکر بار بار آیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنے کھلے معجزات کیساتھ بھیجا لیکن وہ نہ مانا اور بنی اسرائیل کے مؤمنین اور حضرت موسیٰ کی دل آزاری اور ایذارسانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ فرعون کے مظالم سے تنگ آکر حضرت موسیٰ نے خداوندقدوس کے دربار میں دعا مانگی کہ ”اے میرے رب فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے عہدشکنی کی ہے لہٰذا انہیں عذابوں میں مبتلا فرمالے جو ان کیلئے سزاوار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کیلئے عبرت ہو”۔حضرت موسیٰ کی دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعونوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرمایا، ناگہاں ایک بادل آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا اور پھر انتہائی زوردار بارش ہوئی جس سے فرعونیوں کے ہر گھر میںپانی بھر گیا اور وہ اس میں گردنوں تک کھڑے رہ گئے، نہ ہل سکتے تھے اور نہ کوئی کام کر سکتے تھے اور جو بیٹھ گیا وہ ڈوب کر مر گیا۔ کھیتیاں اور باغات تباہ وبردباد ہوگئے، سات روز تک یہ حال رہا اور بنی اسرائیل کے گھروںمیں اس بارش کا ایک بوند نہ آیا۔پھر فرعونیوں کے گڑ گڑانے پر موسیٰ نے دعا کی اور یہ بلا ٹل گئی لیکن وہ پھر مکر کر دوبارہ اپنی پرانی روش پر اتر آئے تو دوسری طرف ٹڈی کے بادل جھنڈ کے جھنڈ آئے جو ان کے گھروں میں مکڑیوں تک کھا گئے، پھر ان پر تمل(گھن)کا عذاب آیا جو ان کے سر کے بالوں، داڑھیوں، مونچھوں، بھنوئوں اور پلکوں کو چاٹ چاٹ کر اور چہروں کو کاٹ کاٹ کر انہیں چیچک رو بنا دیا۔ پھر اسی طرح ان کی نافرمانیوں اور طغیانیوں کے سبب مینڈک اور خون کا عذاب آیا۔لیکن ہمیشہ عذاب ٹلنے کے بعد دوبارہ عہد کو توڑکر ظلم وعدوان پر کمر بستہ ہو جاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس وقت ظلم وعدوان اور جبرواستبداد سے بھر چکی ہے۔طاقتور اور زورآور اقوام وممالک کمزوروں پر اُسی طرح ظلم واستحصال جاری رکھے ہوئے ہیں جس طرح قرآن وحدیث میں ذکر ہوا ہے۔ فلسطین وکشمیری مسلمانوں پر ایک صدی سے سپرطاقتوں کے سبب اسرائیل وبھارت کے ہاتھوں ظلم کی انتہا ہو گئی ہے، عراق، افغانستان، شام،یمن اور لیبیا میں سپرپاورز کا کھیل جاری ہے اور لاکھوں بے گناہ انسان بالخصوص خواتین اور بچے ناقابل تصور حالات سے دوچار ہیں۔چین کے بارے میں ایغور مسلمانوں کے حوالے سے گزشتہ نصف صدی سے جو خبریں آتی رہی ہیںاُن میں اگر آدھی بھی سچ ہو تو بعید نہیں کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا جوش میں آیا ہو۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں اور چین میں اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ حدود کو شادی بیاہ، کھانے پینے اور بود وباش میں پائمال کیا جارہا ہے۔ کیا اس عظیم وخوبصورت کائنات کا خالق عظیم اس کو دیکھ نہیں رہا ہے! یقیناً اللہ کی رسی کی ڈھیل ایک مقام پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔ بھلا کتے، گیڈر، لومڑیاں، سانپ، سور، چمگاڈر وغیرہ کھانے کی چیزیں ہیں۔ اس کے علاوہ کائنات میں انسان کے ہاتھوں بگاڑ وفساد کا یہ حال ہوچکا ہے کہ سپر طاقتیں ایک دوسرے کو زیر کرنے اور معاشی جنگ جیتنے کیلئے بائیو لاجیکل وار سے بھی نہیں چوکتے، یہ بھی سینہ گزٹ اُڑتی خبروں میں شامل ہے، حقیقت علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اتنی بات اہل دانش سے پوشیدہ نہیں کہ جب خشکی وسمندروں میں فساد برپا ہو جاتا ہے انسان کے اپنے ہاتھوں تو اللہ تعالیٰ اُس کے سبب اُسے اُس کے اعمال کا ذائقہ چھکا کر رہتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں چین کے پڑوسی کی حیثیت سے کئی حوالوں سے پریشانی ہے۔ لیکن اُن والدین کی پریشانی دیکھنے اور ہمدردی کے قابل ہے جن کے بیٹے بیٹیاں حصول تعلیم کیلئے ووہان اور چین کے دوسرے شہروں میں مقیم ہیں۔لہٰذا پاکستان کو چاہئے کہ اپنے شہریوں اور بالخصوص نوجوان طلبہ وطالبات کو ہنگامی بنیادوں پر وہاں سے وطن عزیز منتقل کرنے کے انتظامات کئے جائیں۔بے شک یہاں اُن کیلئے حفاظتی تدابیر کر کے کچھ مدت کیلئے آبادی سے الگ مقامات پر زیرنگرانی اور بغرض علاج رکھا جا سکتا ہے ،لیکن والدین اور اُن کے رشتہ دار سخت پریشان ہیں اسلئے ان کی فطری پریشانیوں کو مد نظر رکھ کر ان کے اطمینان وتسلی کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے میں کوئی تاخیر روانہ رکھی جائے کہ یہ اہل وطن کا بنیادی حق ہے۔اللہ تعالیٰ بہت جلد انسانیت کواس وبا سے نجات دلائے آمین۔