کورونا وائرس: چین سے باہر کئی ممالک میں 100 سے زائد کیسز رپورٹ

چین کے شہر ووہان سمیت دیگر شہروں میں 259 سے زائد جانیں لینے کے بعد کورونا وائرس دنیا کے 20 سے زائد ممالک تک پہنچ گیا ہے جہاں 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اب تک تقریباً 12 ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین سے باہر 20 سے زائد ممالک میں 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت بھی اسے عالمی سطح پر ایمرجنسی کی صورت حال قرار دے چکا ہے۔

چین سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 11 ہزار 791 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت ووہان شہر میں ہے۔

خطے میں کم از کم 259 افراد ہلاک ہوگئے ہیں لیکن حکام نے دارالحکومت بیجنگ سمیت دیگر شہروں میں بھی اس وائرس کے باعث کئی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

آسٹریلیا میں 10 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے اکثر چین کے شہر ووہان یا ہوبے صوبے سے واپس پہنچے ہیں۔

کمبوڈیا کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ 60 سالہ شہری کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جو ووہان سے آئے ہیں۔

ہانگ کانگ میں 13 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی رپورٹ دی گئی ہے۔

بھارت میں حکام نے تصدیق کیا ہے کہ ریاست کیرالا میں کورونا وائرس کا پہلا کیس جمعرات کو سامنے آیا تھا، متاثرہ خاتون ووہان یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں تاہم وہ ہسپتال میں موجود ہیں۔

جاپان کے محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 14 ہوگئی ہے جن میں سے دو کیسز متاثرہ افراد سے وائرس دوسرے میں منتقل ہونے کے ہیں۔

چین کے نیم خودمختار ملک مکاؤ نے بھی 7 کیسز کی تصدیق کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 8 ریکارڈ ہوئی ہے اور یہ تمام افراد چین کے شہری ہیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیپال میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور متاثرہ شخص ووہاں سے واپس نیپال پہنچا تھا۔

فلپائن میں پہلا کیس 31 جنوری کو سامنے آیا تھا جہاں 38 سالہ خاتون ووہان سے واپس آئی تھیں اور ان کو کوئی تکلیف بھی نہیں تھی۔

سنگاپور میں بھی حکام نے مزید 3 کیسز رپورٹ ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 16 ہوگئی ہے۔

جنوبی کوریا کے حکومتی عہدیداروں نے کہا کہ 49 سالہ شہری میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو جاپان میں ٹور گائیڈ کے طور پر کام کرتے ہیں اور چین کے شہری ہیں اور وہ جاپان سے 19 جنوری کو جنوبی کوریا پہنچے تھے۔

حکام کے مطابق جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

سری لنکا میں 43 سالہ شہری میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے جو چین کے صوبے ہوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاح ہیں۔

تائیوان میں اب تک 10 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 2 چینی خواتین بھی شامل ہیں، چینی خواتین تائیوان میں ایک ٹور گروپ کے ساتھ پہنچی تھیں۔

تھائی لینڈ میں بھی 19 کیسز کی تصدیق ہوئی، ویت نام میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

شمالی امریکا کے ممالک میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جہاں کینیڈا میں 4، امریکا میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں 3، ایلینوئس میں 2، ایریزونا اور واشنگٹن میں ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے۔

برطانیہ سمیت یورپی ممالک بھی مذکورہ وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی وزارت صحت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 2 افراد میں وائرس کے مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

فن لینڈ میں ووہان سے آنے والے ایک شہری میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے اور فرانس میں 6 کیسز سامنے آئے ہیں، جرمنی میں 7 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

اٹلی کے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ دو کیسز 31 جنوری کو رپورٹ ہوئے تھے جو دو چینی سیاح ہیں اور حال ہی میں اٹلی پہنچے تھے۔

روس میں بھی 2 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جو چین کے شہری ہیں، سویڈن میں بھی ایک خاتون میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

اسپین میں پہلا کیس 31 جنوری کو سامنے آیا تھا جہاں ہسپتال میں زیر علاج مریض میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک تک بھی کورونا وائرس پہنچا ہے جہاں متحدہ عرب امارات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک چینی خاندان کے چار افراد میں ٹیسٹ مثبت آیا ہے جو ووہان سے آئے تھے۔

خیال رہے کہ ووہان اس نئے کورونا وائرس کی وبا کا مرکز ہے اور مانا جارہا ہے کہ یہ وائرس اس شہر کی ایک سی فوڈ مارکیٹ میں موجود کسی جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصہ ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتا ہے اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے اور پھر انہیں دیگر جگہوں پر بھیجنے لگتا ہے، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پایا جاتا ہے جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوتا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی / ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

سارس یا مرس جیسے کورونا وائرسز آسانی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتے ہیں، سارس وائرس 2000 کی دہائی کی ابتدا میں سامنے آیا تھا اور 8 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا تھا جس کے نتیجے میں 800 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔

مرس 2010 کی دہائی کے ابتدا میں نمودار ہوا اور ڈھائی ہزار کے قریب افراد کو متاثر کیا جس سے 850 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔