ہمارا راستہ آسان کیوں نہیں ہوتا

پشاور کی آٹا مارکیٹ میں بیس کلو کا توڑا آٹھ سو آٹھ روپے میں وافر مقدار میں دستیاب ہے، ہر تھیلے پر سرکاری آٹا بھی لکھا ہوا ہے اور حکومت کی طرف سے 115گرام وزن کی روٹی کیلئے 10روپے قیمت مقرر کی جاچکی ہے جبکہ شہر بھر میں نانبائی اپنی من مانی قیمت پندرہ روپے فی روٹی وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے روٹی کے سرکاری نرخ کی خلاف ورزی پر 72نانبائیوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار بھی کیا ہے لیکن پشاور کے دوسرے علاقے جیسے گلبہار، نشترآباد اور دوسری بہت سی جگہوں پر روٹی کی قیمت پندرہ روپے ہی ہے ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ چند دن پہلے وزیراعلیٰ نے آٹا مارکیٹ کا دورہ کرتے ہوئے یہ ہدایت کی تھی کہ اب آٹا حکومت کے مقرر کئے ہوئے نرخوں پر دستیاب ہے اس لئے روٹی کی قیمت اب دس روپے ہوگی اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ قانون تو کسی حد تک حرکت میں آیا ہے اور بہت سے نانبائیوں کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ بھی دیا گیا ہے لیکن ابھی تک نانبائیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، انہیں کسی بھی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے بڑے دھڑلے سے پندرہ روپے کی روٹی بیچی جارہی ہے!
کہیں خوشی کا بھی سامان کیوں نہیں ہوتا
ہمارا راستہ آسان کیوں نہیں ہوتا
پندرہ روپے کی روٹی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے لوگ پریشان ہیں! جس طرح شدید سردی میں عمررسیدہ لوگ نہ صرف بیمار ہوتے ہیں بلکہ بہت سے کوچ بھی کرجاتے ہیں یوں کہئے شدید سردی کے متاثرین میں معمرافراد سرفہرست ہوتے ہیں، اسی طرح مہنگائی کی لہر بھی سب سے زیادہ عام آدمی کو متاثر کرتی ہے۔ مہنگائی کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہو اور ہماری کرنسی بھی شوگر کے مریض کی طرح روزبروز کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہو تو پھر عام آدمی کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ کتنا اچھا ہوتا اگر حکومت کی تمام تر توجہ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر مبذول ہوتی! آج کل بجلی کے بل جن میں اچھے خاصے اضافی یونٹ بھی موجود ہوتے ہیں عام آدمی کیلئے بہت بڑا زلزلہ ہیں، اضافی یونٹس کی مثال ناکردہ گناہوں سے دی جا سکتی ہے جن کی اچھی خاصی سزا مل رہی ہے۔ بجلی کے محکمے کی طرف سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بجلی چوری کی وجہ سے محکمہ خسارے میں جارہا ہے اس لئے ہم نے اضافی یونٹس ڈال کر ریکوری تو کرنی ہے، ارے بھئی اپنے چور کو پکڑو، ہمیں ایک مہربان کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کو حکومت کی خامیاں کوتاہیاں ہی نظر آتی ہیں آپ معاشرتی مسائل پر ہی لکھتے رہتے ہیں کبھی کسی اچھی بات کی تعریف بھی ہونی چاہئے سب کچھ تو برا نہیں ہے کہیں کہیں کچھ اچھا بھی ہورہا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا؟ ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جناب! بات تو آپ کی سو فیصد درست ہے ہمارے یہاں بڑی اچھی اقدار بھی موجود ہیں بہت سی اچھی باتیں اچھے کام ہماری پہچان ہیں، ہم گاہے گاہے ان کا تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں مگر مسائل پر لکھنے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ ان مسائل پر ارباب اختیار توجہ دیں ان کا حل تلاش کریں، عام آدمی کی پریشانی کا تدارک ہونا چاہئے، پرانے زمانے میں جب بادشاہتیں قائم تھیں تو بادشاہ سلامت رعایا کا کتنا خیال رکھا کرتے تھے وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر تھے کہ مظلوم کی آہ سے عرش بھی ہل جاتا ہے اسی لئے گلیوں بازاروں میں بادشاہوں کے پرچی نویس ہر آن ہر لمحہ موجود رہتے تھے، وہ پل پل کی خبریں دربارشاہی میں پہنچایا کرتے تھے، اسی سے بادشاہ کی رٹ (writ) قائم تھی! آج کل حکومت کی رٹ پر بہت سے سوالات اُٹھائے جاتے ہیں (رٹ عدالت کے اس حکم کو کہتے ہیں جس میں یہ وضاحت موجود ہوتی ہے کہ آپ نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا) اب اگر بہت سے نانبائیوں کی گرفتاری کے باوجود بھی حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس پر غور کرنا چاہئے، اس کمزوری کی وجوہات تلاش کرنی چاہئیں! ہر علاقے میں دس بارہ تندور ہوتے ہیں اور ایک تھانہ جس میں کم ازکم اتنی نفری تو ضرور ہوتی ہے کہ وہ حکومت کی رٹ قائم کرسکے؟ فوڈ کا محکمہ اور اس کے انسپکٹروں کی فوج ظفر موج آخر کس لئے ہے؟ دراصل ہر محکمے میں کالی بھیڑوں کی ایک کثیر تعداد اپنے محکمے کیلئے بدنامی کا باعث ہوتی ہے ان کی موجودگی ہی معاشرے کے بدعنوان عناصر کیلئے ایک طرح کی ڈھارس ہوتی ہے۔ اب پشاور شہر میں جگہ جگہ دودھ کی دکانیں کھل رہی ہیں، ابھی تک پاؤڈر ملے دودھ کی خرید وفروخت کو نہیں روکا جاسکا، آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پانی کی قیمت وصول کی جارہی ہے، کیا ہمارے بازاروں میں مضرصحت دودھ کی فروخت اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ محکمہ تو موجود ہے، انسپکٹر حضرات بھی شہر بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن اس بیماری کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے!