ہماری افغان پالیسی کیا ہونی چاہئے؟

ہماری افغان پالیسی کیا ہونی چاہئے؟

سی این بی سی کو گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان اور امریکہ اب اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ عسکریت کسی بھی طور افغان مسئلے کا حل نہیں اور ہم افغانستان میں امن لانے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں” بلاشبہ اس بات سے عمران خان کا اشارہ ان کاوشوں کی جانب ہوگا جو پاکستان زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے مابین جنگ بندی یا کم ازکم پرتشدد کارروائیوں میں کمی لانے کیلئے ہونے والے دوحہ مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کر کے کر رہا ہے۔ اس وقت تک طالبان کی جانب سے ایسا کچھ کرنے کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملا۔ اس سے بڑھ کر وہ امریکی افواج کے انخلاء کے معاہدے کے بدلے میں افغانستان کو پہلے کی مانند امریکہ کیخلاف دہشتگرد کارروائیوں کا گڑھ بنانے سے باز رہنے اور داعش اور القاعدہ جیسے تنظیموں سے رابطے دوبارہ بحال نہ کرنے کے حوالے سے بھی کوئی خاطرخواہ یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ہیں۔کیا یہ سب افغانستان میں امن لانے کیلئے کافی ہوگا جہاں حکومت کو اگر امریکی فوجی امداد میسر نہ ہوتی وہ اب تک اپنی نااہل افواج کے سبب کئی صوبائی دارالحکومتوں پر اپنا اقتدار کھو چکی ہوتی۔ ابھی اس بات کے بہت کم امکانات پائے جاتے ہیں کہ اس وقت کی منتشر کابل حکومت آئندہ آنے والے وقت میں متحد یا خودمختار ہوسکے گی۔ اگرچہ صدر اشرف غنی کا یہی کہنا ہے کہ وہ فی الوقت بارہ ہزار امریکی فوجیوں میں سے چار ہزار کے انخلاء کیلئے مکمل تیار ہیں مگر طالبان افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اسے مرحلہ وار بنیادوں پر کم کرنے میں رضامند ہو جائیں۔ طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اقتدار پر مکمل اجارہ داری قائم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے البتہ وہ افغانستان کے آئین کو شریعت سے متعلق اپنی توضیحات کے مطابق ڈھالنے کے متمنی ضرور ہیں۔ انہوں نے دیگر لوگوں کو بھی اقتدار میں شراکت داری دینے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے البتہ وہ یہ اپنی منشا اور شرائط پر ہی کریں گے۔ ان کے مطابق صدرٹرمپ افواج کے انخلاء کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے اب مزید کسی رعایت کی ضرورت نہیں۔ ان کا یہ رویہ ایک نئی سول جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ہم افغانستان میں امن بحالی کیلئے جتنی بھی نیک تمنائیں رکھیں، وہاں کی اندرونی صورتحال ہمیں امن بحالی کیلئے ممکنہ اقدامات کرنے کے باوجود خود کو اس سے جدا اور محفوظ رکھنے پر مجبور کر دے گی۔ پاکستان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ہم افغانستان کی منتخب حکومت کو قبول کرتے ہیں اور وہاں ایک ایسے امن عمل کے خواہاں ہیں جو افغانستان کی قیادت کی سرپرستی میں ہی وقوع پذیر ہو۔ پاکستان کو اپنے ہاں افغان پناہ گزینوں پر بھی اپنا کنٹرول مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں ان کی آباد ی میں خفیہ انداز میں اضافہ اور ان کیمپوں کو طالبان کیلئے محفوظ پناہ گاہیں بننے سے روکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے کیساتھ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات کی مدد سے منشیات سمگلروں کی کڑی نگرانی کرنا ہوگی۔ ہم سرحد پر امن قائم رکھنے کیلئے افغانستان کی طرف کے مقامی مؤثر افراد سے بھی تعاون حاصل کر سکتے ہیں اور اس کیلئے اگر ہمیں انہیں کچھ رقم بھی دینا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے اور ہم افغانستان کی اشیاء کی اپنی منڈیوں میں ترسیل کی بھی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ ٹرکوں کی نگرانی کیلئے وزیراعظم کی جانب سے منظورشدہ نظام سرحدوں کے بیچ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم چین کی مدد سے افغانستان کو پاک چین اقتصادی راہداری استعمال کرنے کی بھی سہولت دے سکتے ہیں۔ پاکستان کو امریکیوں کو یہ بھی باور کرانا ہوگا کہ انہیں تین لاکھ بیس ہزار افغان نیشنل ڈیفنس فورسز کی مالی امداد جاری رکھنے کیساتھ ساتھ بجٹ امداد بھی دیتے رہنا ہوگی۔ اس سے بدعنوانی کے خاتمے میں مدد ملے گی اور لامحالہ تعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر ہو سکیں گی۔ ہمیں امریکیوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کی ممکنہ تباہی پورے خطے کیلئے نقصان کا سبب بنے گی اور اس سے طاقت کا وہی خلاء جنم لے سکتا ہے جیسا سوویت یونین کے ٹوٹنے پر ہوا تھا اور اس کا نتیجہ پہلے کی طرح القاعدہ، داخلی جنگوں، 9/11 اور ایسے دیگر واقعات کا سبب بنا سکتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق افغانستان کے معدنی وسائل کی قیمت ایک سے تین کھرب ڈالر کے بیچ ہے۔ ہمیں مستقبل میں اپنے پڑوسی ملک کو اس کے معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کیلئے بھی مدد اور رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ ہمیں افغانستان اور پاکستان کے معدنی وسائل کو بھی مشترکہ مفاد کیلئے استعمال کرنے کی راہ نکالنی چاہئے۔ ہم اس ضمن میں افغانستان میں موجود تانبے کی کان سے خام تانبا ریکوڈک لا کر یہاں ریفائنری لگانے کا جواز پیدا کر سکتے ہیں اور اس طرح ہم خام مال کیلئے دوسرے ممالک کی محتاجی سے بھی آزاد ہو جائیں گے۔ابھی تک بتائے گئے نکات میں سب سے اہم یہی ہے کہ ہمیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان کی مالی اور فوجی امداد جاری رکھنے پر رضامند کرنا ہوگا اور اس کے علاوہ ہمیں اپنی گورننس کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم بیان کردہ تمام اقدامات پر خود عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔ ممکن ہے کہ افغان رہنما ہمیں اپنی تباہ حالی اور بدقسمتی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہی رہیں البتہ یہ وہ چیز ہے جس کیساتھ ہم تب تک رہنا گوارا کر سکتے ہیں جب تک اس سے ہماری سرحدوںکا امن متاثر نہیں ہوتا۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)