امریکہ افغانستان اور قربانیوں کا بوجھ

فغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کر گئے ہیں، یہاں انہوں نے سول اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں ایک اہم ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیساتھ ہوئی ہے۔ ان ملاقاتوں کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے اس اُمید کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ اور طالبان سمجھوتے کے بعد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ زلمے خلیل زاد کا دورہ اس بات کا پتا دیتا ہے کہ امریکہ میں ایک طاقتور لابی کی مخالفت کے باوجود طالبان کیساتھ مفاہمت اور مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور اب امریکہ اس معاملے میں کسی زیادہ مصلحت کا شکار ہوئے بغیر افغانستان کے کمبل کے موجودہ انداز سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ ہمیشہ کیلئے اور کلی طور پر اس ملک سے اپنا رخ موڑنا اور رخت سفر باندھنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی موجودہ انداز سے تو شاید نہ ہو مگر بین الاقوامی اصولوں اور ضوابط کے مطابق ہوگی یا شاید اس سے کچھ ہی زیادہ۔ اس کی وجہ چین اور روس کی سٹریٹجک پیش قدمی ہے۔ بھارت کیلئے تو افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء اور کردار کم ہونے کا تصور سوہانِ روح ہے۔ امریکہ کی خطے میں موجودگی کی آڑ میں بھارت نے افغانستان میں اپنے قدم مضبوط کئے۔ ایک طرف امریکہ کو اپنا دامن جنگ کے کانٹوں سے چھڑانے کیلئے پاکستان کی اہمیت کا بہت دیر سے ہی مگر احساس ہوگیا ہے اور افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا معترف ایک زمانہ ہے۔ پاکستان نے سترہ برس سے باہم مصروف جنگ طالبان اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھا کر وہ کام انجام دیا جسے ناممکن نہ سہی مگر مشکل ترین ضرور سمجھا جا رہا تھا۔ افغانستان کے دو طاقتور فریقوں کے مابین مذاکرات سے بات اب جنگ بندی تک پہنچ چکی ہے۔ امریکہ کیلئے طالبان کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کوئی پسندیدہ عمل نہیں رہا۔ امریکہ نے ہمیشہ طالبان کو دہشتگرد قرار دیکر افغانستان کے سیاسی افق سے مٹا ڈالنے کی کوشش کی۔ امریکہ طالبان کو کچلنے اور صفایا کرنے کے نام پر جو مہم شروع کرتا رہا طالبان اس سے طاقت پکڑتے چلے گئے۔ امریکہ کی غلامی کا احساس اور ناقص فوجی پالیسیوں نے طالبان کو معاشرے میں پہلے قبولیت اور بعدازاں مقبولیت عطا کی۔ ملک کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں چلا گیا۔ سترہ برس کی مارا ماری کے باوجود جب امریکہ طالبان کا وجود نہ مٹاسکا بلکہ ان کے پھیلاؤ کو روک نہ سکا تو چار وناچار اس نے طالبان سے مذاکرات کا وہ راستہ اختیار کیا جس کی نشاندہی پاکستان برسوں سے کرتا چلا آرہا تھا۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی یہ کوشش کابل کے حکمرانوں کو ناگوار گزری۔ بھارت بھی طالبان اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کے اس عمل سے خوف محسوس کررہا ہے۔ کابل حکومت چونکہ بھارت کے گہرے اثرات کی زد میں ہے اسلئے یہ دونوں کا مشترکہ خوف بن گیا۔ افغان حکومت کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ طالبان اسے تسلیم کرکے ہتھیار پھینک دیں اور پرامن افغانستان کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالیں۔ طالبان افغان حکومت کو امریکی قبضے کی ایک توسیع قرار دیکر اس سے مذاکرات سے انکاری رہے ہیں۔ اس کے برعکس طالبان نے امریکہ کیساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کی ہمیشہ حمایت ظاہر کی ہے۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک بار افغان حکومت کی مخالفت کی بنا پر ہی ٹوٹ گئے تھے جس کے بعد پاکستان نے دوبارہ کوششیں کرکے یہ مذاکرات بحال کروائے۔ مذاکراتی عمل کی بحالی کے بعد افغان حکومت مزید بگڑ کر بیٹھ گئی۔ پاکستان کی کوششوں سے افغانستان میں دیرپا امن کے آثار ہویدا ہیں۔ بھارتی اثر ورسوخ کی حامل افغان حکومت طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی مخالف ہے اور اسی لئے وہ پاکستان کیخلاف ایسا غیر دوستانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن عمل سے لاتعلق ہو کر بیٹھ جائے۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کی تردید کے وزیراعظم عمران خان کے بیان کو غلط بیانی قرار دیا اور کہا پاکستان میں اب بھی حقانی نیٹ ورک سے وابستہ افراد کے ٹھکانے موجود ہیں۔ وقت اور حالات کے تقاضے بدل جائیں تو پھر یہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری پر اشرف غنی نے ٹویٹ کرکے ایک بار پھر غیردوستانہ غبارہ ہوا میں اُچھال دیا۔ وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اشرف غنی ہی نہیں حامد کرزئی بھی اس معاملے میں تبصرہ کرنے سے باز نہیں آئے حالانکہ حامد کرزئی اپنے حالیہ دورہ بھارت میں پاکستان کے حوالے سے خاصے محتاط دکھائی دئیے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کے اشتعال دلانے کے باوجود پاکستان کیلئے بھائی اور بھارت کیلئے دوست کی اصطلاح استعمال کی۔ وہ کرزئی سے مودی حکومت کے حالیہ اقدامات کی حمایت میں بھی دو بول ادا نہ کرواسکے۔ اس کے باجود پی ٹی ایم کے معاملے پر انہوں نے بھی ٹویٹ کرنا ضروری سمجھا۔ پی ٹی ایم کے مطالبات اور شکایات ریاست پاکستان سے ہیں۔ وہ اس ریاست سے انصاف بھی طلب کر رہے ہیں اور مکالمہ بھی کررہے ہیں یا مستقبل میں کر سکتے ہیں مگر باہر کے یہ مہربان اور ہمدرد ان کا اچھا بھلا کیس خراب کردیتے ہیں۔ افغان حکومت جس غیر دوستانہ روئیے کا مظاہرہ کرکے پاکستان کے امن وسکون کے درپہ ہے اس کا مقصد افغانستان میں امن کی منزل کو دور کرنا اور امریکیوں کی چھتری کو قائم اور بحال رکھنا ہے۔ خود اعتمادی کی کمی کے باعث وہ اس طرح کمزور سہاروں کی تلاش میں ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ امریکہ اب کابل کی حکومت پر ماضی کی طرح سایہ فگن رہنے سے تنگ آچکا ہے۔ کوئی مصلحت اور مجبوری اسے قربانیوں کا یہ بوجھ مزید اُٹھائے رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ زلمے خلیل زاد کی بار بار پاکستان آمد امریکہ کے بدلے ہوئے مزاج کی عکاس ہے۔