دامن صبر کے ہر تار سے اُٹھتا ہے دھواں

میری جان نکلی جارہی ہے پیٹ کے اس درد کے ہاتھوں، بھولے باچھا نے اپنے معالج سے کہا اور اس نے حسب روایت میڈیکل چیک اپ کرنے کے بعد اس سے پوچھا کہ ”رات کیا کھا کر سوئے تھے؟ جی، بس ایک جلی ہوئی روٹی ہاتھ آگئی تھی، سو میں نے کھالی، بھولے باچھا کے معالج نے اس کے منہ سے یہ جملہ سن کر لمبی سی ‘ہوں’ کی اور پھر اسے پیٹ کے مرض کے علاج کی دوائی تجویز کرنے کی بجائے دے دی اسے آنکھوں میں ڈالنے کیلئے سرمہ یا اس نوعیت کی کوئی دوائی، یہ کیا جی، میں آنکھوں کا علاج کرانے نہیں آیا میرا تو پیٹ دکھ رہا ہے، آپ میرے پاپی پیٹ کا علاج کیجئے، بھولے باچھا کی یہ بات سن کر معالج کو غصہ سے لال پیلا ہوکر کہنا چاہئے تھا کہ ”معالج میں ہوں یا تم؟ مگر اس نے ایسا ہرگز نہیں کہا، بلکہ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لانے کے بعد کہنے لگا کہ پیٹ کی بجائے میں آنکھوں میں لگانے کی دوائی اس لئے تجویز کر رہا ہوں تاکہ تم جو کچھ بھی تناول کرو اسے اپنی صحت مند آنکھوں سے دیکھ کر لقمہ کام ودہن بناؤ۔ یہ یا اس سے ملتی جلتی کہانی ہم نے اپنی تعلیم کے ابتدائی ماہ وسال کے دوران اسکول کی کتابوں میں پڑھی تھی، اس لطیفہ نما کہانی میں ہمیں جو کام کی بات بتائی گئی تھی وہ یہی تھی کہ ہمیں کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط کا دامن چھوڑنا نہیں چاہئے، ہر شے کو کھانے یا پینے سے پہلے دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کے مرحلے طے کرنے چاہئیں مگر ہم اپنا پیٹ بھرنے کی خاطر ایسا ہرگز نہیں کرتے جو سامنے آتا ہے، جہاں سے ہاتھ آتا ہے، حرام ہلال سب کچھ ہڑپ کرجاتے ہیں، اس موضوع پر طویل گفتگو ہوسکتی ہے لیکن آج ہمارا روئے سخن آٹے کے اس مصنوعی بحران کی جانب ہے جس کا ادراک ہمیں ناشتے کی میز پر اس وقت ہوا جب ہم نہایت لذیز اور ملائم آٹے کی روٹی نوش جان کر رہے تھے، بہت ملائم اور لذیز ہے براؤن آٹے کی بنی ہوئی یہ روٹی، جب میں نے اپنی سجنی کی ہمت افزائی کیلئے یہ جملہ ادا کیا تو وہ میری اس بات کے جواب میں اس روٹی کے ناشتہ کی میز تک پہنچنے کی داستان سناتے ہوئے کہنے لگی کہ ”سرکاری آٹا ہے یہ” سرکاری آٹا؟ اس کے منہ سے یہ جملہ سن کر ہم نے نوالہ چبانے کی بجائے اس سے تفصیل جاننی چاہی جس کے جواب میں وہ کہنے لگی کہ بازار میں آٹے کے سرکاری نرخ کم وبیش 40روپے کلو کی شرح سے اچھا، معیاری اور سستا آٹا مل رہا ہے، یہ تم کیا کہہ رہی ہو، میں نے گھر والی کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے اسے مزید بولنے کی دعوت دی، جس کے جواب میں وہ کہنے لگی کہ ”ہوا یوں کہ میں، جب شہساز بیٹے کی گاڑی میں گھر آرہی تھی تو راستے میں آٹے کی ایک دکان پر آویزاں سرکاری آٹے کی فروخت کا بینر دیکھا، سو میں نے بیٹے کو گاڑی روک کر آٹا خرید لانے کو کہا اور وہ گاڑی کو سڑک کی ایک جانب پارک کرکے آٹے کی دکان میں گھس گیا، اس نے بینر پر لکھے سرکاری نرخ کے مطابق 808 روپے میں آٹے کا توڑا خریدنا چاہا، لیکن دکاندار نے کوشش کی کہ وہ سرکاری آٹا خریدنے کی بجائے اس کی دکان میں رکھا دوسری قسم کا آٹا خرید کر لے جائے، لیکن شہساز نے دکاندار کی بات ماننے کی بجائے اس سے وہی آٹا خریدنے پر اصرار کیا جس کا بینر دکان سے باہر آویزاں تھا اور یوں ہم براؤن آٹے کا ایک توڑا خرید کر گھر لے آنے میں کامیاب ہوگئے جس کی روٹی کا ہمارے ناشتہ کے دسترخوان پر ہماری تواضع کا باعث بن گیا، سرکاری لذیز آٹا اور وہ بھی 40 روپے 40پیسے کلو اور دکاندار کی اس کو خریدنے میں خریدار کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش سے ہمیں فوری طور پر آٹے کے مصنوعی بحران کی سمجھ آگئی اور دوسرے ہی دن ہمیں جب ضلعی انتظامیہ پشاور کی جانب سے سرکاری آٹے کو بلیک میں فروخت کرنے والوں کی دکانوں کو سیل کرنے کی خبر پڑھنے کو ملی تو ہم
روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے
ہر جھوٹ سے آزادی پائی رے
کا نغمہ الاپنے لگے اور جب ہم تک یہ خبر بغیر کسی لگی لپٹی کے پہنچی کہ سندھ میں سرکا ری آٹے کا تھیلا تبدیل کرکے مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہورہا ہے تو ہمیں مصنوعی مہنگائی عام کرنے کے جادوگروں کے ان ہتھکنڈوں پر رونا آنے لگا اور جب ہم اپنے اس کالم کیلئے مواد تلاش کرنے لگے تو ہم تک یہ خبر بھی پہنچی کہ پشاور کے چند فلور مل مالکان سرکاری آٹا فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر لئے گئے، دریں اثناء ہمیں اس بات کا بھی علم ہوا کہ اللہ کے فضل وکرم سے سرکار کے گوداموں میں اچھی اور صحت افزاء گندم کی کوئی کمی نہیں جسے محکمہ خوراک نے تادم تحریر 41 رجسٹرڈ آٹا چکیوں کو 50کلو فی سرکاری گندم کے تھیلے کی شرح سے 1655تھیلے جاری کئے ہیں اور انہیں 45روپے کلو آٹا فروخت کرنے کا پابند کیا ہے، مارکیٹ میں آٹے کی مصنوعی قلت اور گراں فروشی کے ماہر حکومت کی جانب سے ان کے نہلے کے جواب میں دہلا مارنے سے کس قدر پریشان ہیں اس کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر برپا کئے جانے والے ہنگامے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جسے دیکھ کر ہم پکا ر اُٹھتے ہیں کہ
دامن صبر کے ہر تار سے اُٹھتا ہے دھواں
اور ہر زخم سے ہنگامہ اُٹھا آج بھی ہے