دنیا کیلئے مشکل ترین سال 2020

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کیلئے تمام تیاریاں مکمل ہیں مگر اس کے قیام کے باقاعدہ آغاز کا انتظار ہے۔ اس کا آغاز یہودیوں کے قبلے ہیکل سلیمانی کی تعمیرنو سے کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں ایک آرٹیکل میں نے ستمبر2018 میں نیو ورلڈ آرڈر کی شرط سرخ بچھیا کے عنوان سے تحریر کیا تھا تمہید کیلئے مذکورہ آرٹیکل سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔
صہیونیوں کا عقیدہ ہے کہ جب تک ہیکل سلیمانی کی تعمیر نہیں ہوتی، اس وقت تک مسیحا اس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔ ہیکل سلیمانی کی یہ تیسری تعمیر ہوگی جو صہیونیوں کے نزدیک آخری ہے۔ ہیکل سلیمانی کی مختصر تاریخ وبیت المقدس ہی اسرائیل کا دارالحکومت کیوں کے عنوان سے دسمبر2017 میں لکھ چکا ہوں۔ یہ مضمون چار اقساط پر مشتمل تھا اور میری ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ہیکل سلیمانی کی ازسرنو تعمیر کیلئے سب کچھ تیار ہے مگر صہیونی ربی کہتے ہیں کہ اس وقت یہودی حالت ناپاکی میں ہیں۔ جب تک انہیں پاک نہیں کردیا جاتا، اس وقت تک ہیکل کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر اس کے برخلاف کیا گیا تو یہودیوں پر بڑی آسمانی آفت آئے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں کو پاک کس طرح کیا جائے۔
سیدنا موسی کو اللہ تعالی نے ایک صندوق عطا کیا تھا جسے تابوت سکینہ کہتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیل بیت المقدس ہی اسرائیل کا دارالحکومت کیوں کی تیسری قسط میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ یہ صندوق ایک الگ خیمہ میں رکھا جاتا تھا جہاں پر سیدنا ہارون سمیت کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سال میں صرف ایک دن جو تہوار کا دن ہوتا تھا، اس خیمے میں سیدنا ہارون جاتے تھے اور اللہ تعالی سے اپنی قوم کیلئے بخشش طلب کرتے تھے۔ اس خیمے میں جانے سے قبل ایک گائے اور دو بکرے قربانی کیلئے لائے جاتے تھے۔ سب سے پہلے گائے کی قربانی پیش کی جاتی تھی۔ اس گائے کو اس کے خون، گوبر، چربی، کھال سمیت جلا دیا جاتا تھا۔ اس سے سیدنا ہارون کی پاکی وجود میں آتی تھی یعنی ان سے لاعلمی میں جو بھی خطائیں سرزد ہوئی تھیں، اللہ پاک انہیں معاف فرما دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دو بکرے لائے جاتے تھے، ان کی قرعہ اندازی ہوتی تھی، جس بکرے کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا تھا، اس کی قربانی گائے کی طرح کرکے جلا دیا جاتا تھا، اس بکرے کی قربانی سے بنی اسرائیل گناہوں سے پاک ہوتے تھے۔ دوسرے بکرے کے سر پر سیدنا ہارون ہاتھ رکھ کر بنی اسرائیل کے تمام گناہوں کو اس پر منتقل کردیا کرتے تھے اور پھر اس بکرے کو بیاباں میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔صہیونیوں کا ماننا ہے کہ یہودیوں کی پاکی اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتی جب تک سرخ رنگ کی بچھیا کی قربانی نہ پیش کی جائے۔ اس سرخ بچھیا کا گزشتہ دو ہزار برسوں سے یہودی ربی انتظار کررہے ہیں۔ یہ سرخ بچھیا ان تمام شرائط پر پوری اُترنی چاہئے جو یہودی مذہبی کتب میں موجود ہیں یعنی یہ بے عیب ہو اور مکمل طور پر سرخ ہو۔ اس کا ایک بال یا ایک رواں بھی کسی دوسرے رنگ کا نہیں ہونا چاہئے حتی کہ اس پر کوئی تل بھی نہیں ہونا چاہئے۔ چند ربی دو بالوں تک کی چھوٹ دیتے ہیں کہ اگر سرخ رنگ کے علاوہ پورے جسم پر دو بال کسی اور رنگ کے ہوں تو اس کی چھوٹ ہے۔
نیا ہیکل سلیمانی جسے انگریزی میں Third Temple بھی کہتے ہیں کی تعمیر کیلئے قائم ادارہ Third Temple Institute ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اگست2018 میں مطلوبہ رنگ وروپ کی حامل بچھیا کا ایک گروپ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا جس میں سے دو جانوروں کو منتخب کر لیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک جانور کی قربانی دی جائے گی۔ یہ جانور اسرائیل کے کسی نامعلوم ملٹری بیس میں انتہائی حفاظت سے رکھے ہوئے ہے اور اس مقام سے محض چند افراد ہی آگاہ ہیں۔
یہاں تک تو کوئی بات عجیب وغریب نہیں معلوم ہوتی کہ یہودی اپنا معبد یا ہیکل سلیمانی ازسرنو تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو کریں، اس میں کسی کا کیا لینا اور دینا مگر گڑبڑ معاملات یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی کو صہیونی عین اسی مقام پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں پر مسجد اقصی اور گنبد صخرا واقع ہیں یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا مطلب ہے مسجد اقصی کی شہادت۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی تقریبات کا آغاز سرخ بچھیا کی قربانی سے ہوگا۔ یہ سرخ بچھیا کب قربان کی جائے گی، اس کی تاریخ کا تو ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے مگر یہ اسی برس2020 میں دو برس کی ہوجائے گی یعنی قربانی کا جانور قربانی کی عمر کو پہنچ جائے گا۔ یہودی علم جفر پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ چند یہودی ماہرین علم جفر کے مطابق22اکتوبر2020 قربانی کیلئے درست ترین دن ہے۔
اب دوبارہ سے معاملات کو ایک نظر میں دیکھتے ہیں۔ نیوورلڈ آرڈر کیلئے ہیکل سلیمانی کی تعمیر ضروری ہے، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کیلئے مسجد اقصی کی شہادت ضروری ہے۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا آغاز سرخ بچھیا کی قربانی سے ہوگا اور یہ قربانی2020 کے آخر میں متوقع ہے۔اب معاملات کی سنگینی کی شدت کو سمجھا سکتا ہے۔ خاکم بدہن، اگر مسجد اقصی کی شہادت2020 میں کرنے کے ناپاک منصوبے ہیں تو پھر اس پر ہونے والے ردعمل سے نمٹنے کیلئے پہلے سے کارروائی بھی کرنا ضروری ہے۔