سالانہ پونے 2 لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے

لاہور:  ملک بھرکے سرکاری اسپتالوں سے رجوع کرنے والے ہر تیسرے مریض کو کینسر تشخیص ہورہا ہے۔اونکالوجی سوسائٹی آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہر ساتویں موت کی وجہ کینسر ہے۔

کسی ایک اسپتال میں تشخیص سے علاج تک کی سہولیات میسر نہیں، مریض کوتمام ٹیسٹ کرانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں حالانکہ اسی عرصہ میں اسے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر تشخیص سات دنوں میںہوجائے تو 14 دنوں میں آپریشن کرکے کینسر ختم کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر ون ونڈو پروگرام یعنی ایک چھت تلے تشخیص سے علاج کی سہولیات دستیاب ہوں تو 90فیصد مریضوں کی جان بچائی اورآئندہ زندگی صحت مندبنائی جاسکتی ہے۔واضح رہے سالانہ پونے دو لاکھ کینسر کے مریض سامنے آرہے ہیں،جن میں سے ایک لاکھ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے پرلقمہ اجل بن جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق انسانی زندگی محفوظ بنانے کیلئے جدید طریقہ علاج کانظام بنایا جارہاہے۔