ممبران پارلیمنٹ 22 کروڑ عوام کے درد کو سمجھیں

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی کی شرح 14.6فیصد کیساتھ 10سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے’ خورد ونوش کی بعض اشیاء میں دو سو فیصد تک اضافہ سے لوئر مڈل کلاس کی مشکلا ت بڑھ گئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کی موجودہ لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ کرنے والی مافیاز کیخلاف بھرپور کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے، تاہم حکومت کی طرف سے دو اقدامات ایسے اُٹھائے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مہنگائی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں کر رہی، حکومت آئندہ ماہ منی بجٹ لانے کی تیاریاںکر رہی ہے، منی بجٹ کیلئے اگرچہ ریگولیٹری ڈیوٹیز اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز کم کرنے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں جب جب منی بجٹ پیش کیا گیا اس سے مہنگائی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ حکومت درآمدات پر ڈیوٹیز ختم کرنا چاہتی ہے جبکہ ملکی پیداوار چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے کوئی میکنزم نہیں ہے’ پشاور میں ایک ہی دن میں چینی کی قیمتوں میں 10روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب چینی کی موجودہ قیمتیں 90روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں۔ حکومت کا دوسرا اقدام عوامی نمائندوں اور مراعات یافتہ طبقے کو نوازنے سے متعلق ہے’ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہوں’ الاؤنسز اور مراعات ایکٹ میں ترمیم کے تین بلز سینیٹ ایجنڈا میں شامل کر لئے گئے ہیں’ بل میں کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مطابق مقرر کی جائے’ یاد رہے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ 2لاکھ 25ہزار روپے ہے جبکہ اضافہ کے بعد 8لاکھ 79ہزار روپے ہو جائے گی’ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 85ہزار روپے سے بڑھ کر 8لاکھ 29ہزار روپے ہو جائے گی جبکہ ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز ایکٹ میں ترمیم کے بل میںکہا گیا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 50ہزار روپے سے بڑھا کر 3لاکھ مقرر کی جائے جبکہ ممبران پارلیمنٹ کو سفر کیلئے ٹرین کی ایئر کنڈیشنڈ کلاس ٹکٹ کے برابر رقم دی جائے۔ بل میں ممبران پارلیمنٹ کو جہاز کے بزنس کلاس کے ٹکٹ کے مطابق سفر الاؤنس کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بذریعہ سڑک سفر کی صورت میں ممبران پارلیمنٹ کو 25روپے فی کلومیٹر سفر الاؤنس کی ادائیگی کا کہا گیا ہے’ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کے بیرون ملک دوروں میں فرسٹ کلاس ایئر ٹکٹ دیا جائے’ ممبر پارلیمنٹ کو 25فرسٹ بزنس کلاس ایئر ٹکٹ جبکہ اندرون ملک سفر کیلئے ممبر پارلیمنٹ کی اہلیہ’ شوہر یا بچے بھی ان ٹکٹس کو استعمال کر سکیں’ بل کے مندرجات میں ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ممبر پارلیمنٹ کیلئے روزانہ کے اخراجات برداشت کرنے کیلئے موجودہ تنخواہ ناکافی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے مہنگائی کو جواز بنا کر وفاقی سیکرٹریز کی تنخواہوں میں بھی 100فیصد اضافے کیساتھ وفاقی سیکرٹریٹ کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری اضافوں کی سفارش کی گئی ہے۔ اس پس منظر کے بعد غورطلب بات یہ ہے کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کی لہر کا اندازہ پہلے سے مراعات یافتہ طبقے کو تو ہو رہا ہے لیکن ملک کے 22کروڑ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگر واقعی ملک مالی مسائل سے دوچار ہے تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ باہمی اتفاق واتحاد سے اس مشکل سے نکلنے کی سبیل تلاش کی جاتی’ حکمران طبقہ عوام کو یہ احساس دلاتا کہ مشکل کے ان لمحات میں ہم سب ایک ساتھ ہیں’ عوام مشکل کی گھڑی میں جب حکمرانوں کو اپنے ساتھ پاتے تو وہ اپنی مشکلات بھول جاتے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے قحط کے ایام میں بھوکا رہ کر اپنے عوام کو احساس دلایا تھا کہ وہ عوام کے دکھ درد کو پوری طرح محسوس کر رہے ہیں حالانکہ شاہی محل میں قطعاً قحط نہ تھا’ حضرت یوسف کی طرف سے بھوکے رہنے کا عمل اس لئے تھا کہ بھرے ہوئے پیٹ کو بھوکوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں ہو سکتا’ ایوان میں عوام کی ووٹوں سے جانے والے ارکان آج عوام کے درد کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ ایوان میں جو طبقہ پہنچتا ہے ان میں اکثریت آسودہ حال کی ہوتی ہے، کیا یہ درست نہیں کہ اکثر شوگر ملیں سیاستدانوںکی ملکیت ہیں’ یہ وہ طبقہ ہے جو ایوان کے اندر ہو یا باہر ان کے اثاثوں میں کمی واقع نہیںہوتی’ ضرورت اس امر کی ہے کہ عام شہری اور مزدور کی قوت خرید کو سامنے رکھ کر مہنگائی کی شرح کا جائزہ لیا جائے کہ 15-20ہزار ماہوار کمانے والا اپنی محدود آمدن میں گھر کا بجٹ کیسے بناتا ہے اور اسے اپنے بچوںکا پیٹ بھرنے کیلئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔