کورونا وائرس’ پاکستانیوں کو چین سے لانے کا مسئلہ

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا خطرناک کورونا وائرس 27ممالک تک پھیل چکا ہے’ اب تک کی اطلاعات کے مطابق چین میں ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 14ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے’ پاکستانی طالب علموں سمیت تاجروں کی بڑی تعداد اس وقت چین میں موجود ہے’ دیگر ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو چین سے نکالے جانے کے بعد پاکستانیوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ شدت پکڑ رہا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو چین سے واپس لانے میں پس وپیش سے کیوں کام لے رہا ہے؟ پاکستانی طالب علموں اور تاجروں کی چین میں موجودگی کی وجہ سے ان کے لواحقین کی تشویش فطری عمل ہے’ بچوں کے والدین اور ان کے پیارے چاہتے ہیں کہ چونکہ چین میں اس وقت خطرناک وبا پھیل چکی ہے، جو لوگ ابھی تک محفوظ ہیں انہیں پہلی فرصت میں پاکستان بلا لیا جائے تاکہ وہ مہلک وائرس کے اثرات سے بچ سکیں جبکہ دوسری طرف وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو چین میں موجود پاکستانیوں کی فکر ہے’ وائرس سے متاثرہ پاکستانیوںکو واپس نہیں لائیں گے’ متاثرہ افراد صحت یاب ہونے تک چین میں ہی رہیںگے’ کیونکہ کورونا وائرس 27ممالک تک پھیل چکا ہے’ معاون خصوصی کے مطابق پاکستان نے یہ اقدام اس لئے اُٹھایا ہے تاکہ پاکستان کو وائرس سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے صرف انہی افراد کو چین میں علاج کی غرض سے رکھنے پر اصرار کیا جا رہا ہے جو وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ جو لوگ متاثرنہیں ہیں انہیں لانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے’ اس مقصد کیلئے اسلام آباد’ کراچی اور لاہور میں تین مراکز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ان مراکز کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے’ 15منٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص والی کٹس بھی منگوالی گئی ہیں جو ایئر پورٹس پر تعینات عملے کے حوالے کی جائیں گی۔ اس تناظر میں غور طلب امر یہ ہے کہ پاکستانیوں کی خیر وعافیت عزیز ہونی چاہئے اور یہ کام اسی صورت ہو سکتا ہے کہ حکومت پاکستانیوں کی واپسی سے قبل علاج معالجہ اور دیکھ بھال سے متعلق تیاریاں مکمل کر لے کیونکہ اگر حکومت کی جانب سے تیاری مکمل نہ کی گئی اور خاکم بدہن کورونا وائرس سے متاثرہ کوئی مریض سامنے آگیا تو ہمارے پاس ایسے افراد کی دیکھ بھال کے محدود آپشنز ہوں گے۔
سوات میں چڑیا گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے حکومت نے پشاور کے بعد سوات میں بھی چڑیا گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چڑیا گھر کیلئے کانجو میں 126کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جو آبادی سے دور ہے اور چڑیا گھر کیلئے موزوں ترین جگہ بتائی جا رہی ہے۔ یاد رہے سوات سمیت صوبے میں متعدد خوبصورت مقامات ہیں’ تاہم صوبے کی ان خوبصورت جگہوں کو متعارف کرانے کیلئے ہمیشہ لیت ولعل سے کام لیا جاتا رہا ہے اور اس ضمن میں جو اقدامات ضروری تھے وہ نہ اُٹھائے جا سکے’ اب جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کا صوبے میں دوسرا دور حکومت ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جائے گی۔ سوات میں چڑیا گھر کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے’ چڑیا گھر کو حتمی شکل دینے کے بعد قوی اُمید ہے کہ سوات میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا چونکہ سوات میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی آتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ عالمی معیار کو سامنے رکھا جائے اور جانوروں کی مناسب دیکھ بھال پر خصوصی توجہ کا بندوبست کیا جائے کیونکہ پشاور چڑیا گھر میں جانوروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی بنا پر ایک چیتے کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ درجنوں دیگر جانور بھی مرچکے ہیں۔ پشاور چڑیا گھر کی طرح اگر سوات چڑیا گھر میں بھی جانوروں کی دیکھ بھال کا یہی حال رہا تو سیاح ایسی جگہوںکا ہرگز رُخ نہ کریں گے۔
نوشہرہ میں سی پیک سٹی کے قیام کا منصوبہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے 80ہزار کنال وسیع قطعہ اراضی پر محیط سی پیک سٹی نوشہرہ کے منصوبے پر تعمیراتی کام کا جلد اجراء یقینی بنانے اور تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا اقدام قابل تحسین ہے’ زمین مالکان کو تین ماہ کے اندر ادائیگی سے تعمیراتی کام کے آغاز میں آسانی سے بروقت تکمیل کی راہ ہموار ہوگی۔ نوشہرہ میں سی پیک سٹی کے قیام سے نوشہرہ کو خاص مقام حاصل ہو جائے گا’ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میسر آئے گی’ صنعتی زون کا قیام علاقے کی ترقی کا باعث بنے گا۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ صوبے کے ریونیو میں اضافے اور صوبے کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہوں۔