بحران کا ہوا کھڑا کرنے والوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر چیز کو کسی نہ کسی بحران سے جوڑنے کی روایت ہے اور موقع ملنے پر بحرانوں سے فائدہ بھی اُٹھایا جاتا ہے بلکہ اس کیلئے کوشش کر کے مواقع تلاش اورپیدا کئے جاتے ہیں، چین میں کرونا وائرس کو اب سبزیوں کی قیمت سے جوڑ کر سبزیاں مزید مہنگی کرنے کی جو کوشش ہورہی ہے انتظامیہ کو اس کا بروقت نوٹس لینا چاہئے۔ ہنگامی صورتحال کے باعث چین سے اشیائے صرف کی درآمد کی بغرض احتیاط بندش ضروری امر ہے۔ ادرک اور لہسن کی قیمتوں میں خاص طور پر اضافہ اور سبزیوں کے دام بڑھنے کا عمل معمول کے مطابق بھی ممکن ہے لیکن اسے چین میںدرپیش حالات سے جوڑا جارہا ہے جس سے اتفاق ضروری نہیں ممکن ہے جلد ہی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اس وجہ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی حلیہ تراش کر مختلف خوردنی اشیاء اور دیگر چیزوں کی قلت پیدا کرنے کی جو کوششیں سامنے آرہی ہیں اس میں مبالغہ آرائی کتنی ہے اور حقیقی صورتحال کیا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ان عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع نہ ملے۔قوموں کو مختلف قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا ہوتا ہے جو قومیں تحمل اور بصیرت کیساتھ حالات سے نمٹتی ہیں وہی قومیں باوقار کہلاتی ہیں اور وہی اپنے مسائل پر قابو پاسکتی ہیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہم من حیث القوم ہر مشکل کے حل کو حکومت کی ذمہ داری قرار دینے کی بجائے اپنا حصہ بھی ڈالیں گے اور ایک ذمہ دار قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے حالات کامقابلہ کریں گے۔
بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی
ایف بی آر میں طور خم اور چمن گیٹ پر ٹیکس چوری میںپورے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا انکشاف ایک ایسے وقت ہوا جب ملک کو تین سو پچاسی ارب روپے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے اور ایف بی آر اپنے مقررہ ہدف کے حصول میں بری طرح ناکامی کا شکار ہے، مستزاد صورتحال یہ ہے کہ اب ادارے کی سربراہی کیلئے بھی کوئی آسانی سے تیار نہیں ہوتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ریونیوشارٹ فال کی واحد بڑی وجہ اس کے علاوہ اورکیا ہوسکتی ہے جس کا انکشاف ہوا ہے اس طرح کی صورتحال کسی ایک جگہ نہیں بلکہ تقریباً ہر جگہ ہی اس طرح کی صورتحال کاسامنا ہے جس کے باعث محصولات کا ہدف حاصل ہی نہیں ہو پاتا۔ محکمہ کسٹمز انٹیلی جنس کی ٹھوس رپورٹ میں انکشافات اس لئے چشم کشا نہیں کہ کسٹمز میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس ادارے کو من حیث المجموع ہی بد عنوان ادارہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ تاثر درست نہیں لیکن عوام میں ایک مرتبہ کوئی تاثر اُبھرے تو آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔مثبت امر یہ ہے کہ طور خم اورچمن میں منظم طریقے سے اور بہت بڑے پیمانے پر ملی بھگت کے ذریعے ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور ان کیخلاف ابتدائی طور پر تبادلوں کی صورت میں کارروائی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ یہ کم سے کم کارروائی ہے جس کے بعد حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے گی صرف اسی کی نہیں بلکہ قبل ازیں بھی اس قسم کے واقعات کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے اور ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے چہروں کو بے نقاب کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس نیٹ ورک سے طاقتور گروہوں اور بیوروکریسی اور سیاسی گروہوں کی وابستگی کو نہ تو تحقیقات کے عمل پر حاوی ہونے دینا چاہئے اور نہ ہی ان کیخلاف کارروائی میں کسی مصلحت کا شکار ہوا جائے۔جس معاملے پر وزیراعظم بھی کھل کر بات نہ کرسکیں اس واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف سخت سے سخت تاددیبی کارروائی معجزہ ہی ہوگا۔ اگر ملک چلانا ہے اور محصولات اکٹھی کرنے کے اہداف کا حصول ممکن بنانا ہے تو بڑے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کرنا ہی پڑے گی ان نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا۔
غیر اخلاقی سرگرمیوں کی شکایت کا نوٹس لیا جائے
گھنٹہ گھر بازار میں نانبائیوں کی دکانوں کے سامنے ضرورتمند خواتین کے ڈیرے جمانے سے راستے کی تنگی اور ٹریفک کی صورتحال کے مسئلے سے صرف نظر ممکن ہے لیکن خیرات وصولی کی آڑ میں بعض بھکارنوں یا پھر ان کے روپ میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی گنجائش نہیں۔ اس قسم کے عناصر کے قریبی محلوں میں جانے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اہل محلہ کی خجالت کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پشاور میںمختلف طریقوں سے جاری فحاشی وقحبہ گری کا منظم دھندہ پولیس کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود سنجیدہ اقدامات پر توجہ نہیں دیتی، جن تھانوں کے حدود میں دھندہ چلتا ہے اگر کہا جائے کہ ملی بھگت کے بغیر ایسا ممکن ہی نہیں تو غلط نہ ہوگا۔ صوبائی دارالحکومت کے پوش علاقوں میں قحبہ گری زیادہ محفوظ طریقے سے اور سرعام دھندہ چلنا کوئی الزام نہیں حقیقت ہے، بہرحال مجموعی صورتحال سے قطع نظر گھنٹہ گھر میں غیراخلاقی سرگرمیوں کی جو شکایت سامنے آئی ہے اس کی فوری روک تھام کی ضرورت ہے جہاںتک خیرات کی تقسیم کا سوال ہے مشکلات کے باوجود اس کی ممانعت یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کا تو مشورہ نہیں دیا جا سکتا البتہ اتنی سعی ضرور ہونی چاہئے کہ ممکنہ حد تک راستہ کھلا رکھنے کی سعی کی جائے اورخیرات کی تقسیم مقررہ وقت پر کر کے جتنا جلد ہو سکے اس کی تکمیل کی جائے تاکہ غیرضروری طور پر راستے کی بندش نہ ہو۔جو لوگ اس نیک کام سے وابستہ ہیں ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر کوئی منفی بات محسوس کریں تو اس کی انتظامیہ کو نشاندہی کریں چونکہ یہ روز کا معمول ہے اسلئے علاقہ پولیس کو ایک دو نفری یہاں مستقلاً بھجوانی چاہئے جن محلوں کے مکینوں کو شکایات ہیں پولیس کو ان کا موقف سن کر اصلاح احوال پر توجہ دینی چاہئے۔
معصوم محنت کش بچوں کی مددکی جائے
صوبائی دارالحکومت پشاور میں وزن کرنے والی مشین رکھ کر فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے بچے اکثر نظر آتے ہیں اسی طرح پالش کرتے اور مختلف چھوٹی چھوٹی اشیا فروخت کرنے والے بچے بھی اکثر نظر آتے ہیں لیکن صوبائی دارالحکومت میں کسی معصوم بچی کی فٹ پاتھ پر وزن کرنے والی مشین رکھ کر بیٹھنے کا منظر شاید ہی دیکھا گیا ہو۔ ہمارے اخبار میں اس طرح کی جو تصویر شائع ہوئی ہے کیا متعلقہ حکام اس پر سوچنے اور ان کی مدد کرنے پر توجہ دینے کی زحمت کریں گے؟۔