صوبہ نہیں وسائل دیئے جائیں

جے یو آئی کے سربراہ کا تحفظ مدارس کا نفرنس میں موضوع سے ہٹ کر قبائل کو الگ صوبہ قرار دینے اور قبائلی عوام کے حوالے سے حکومت پر تنقید اور انضمام کو مسائل کا باعث گرداننا بے وقت کی راگنی ہے، یہ درست ہے کہ جے یو آئی قبائلی علاقوں کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے ایک سیاسی جماعت کے طور پر جے یو آئی کو ہر مسئلے پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے جس کا فاٹا انضمام سے قبل انہوں نے بھرپور استعمال کیا مگر اب جبکہ سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے سے فاٹا کے انضمام کے مراحل کی ابھی تکمیل ہی نہیں ہوئی اس حوالے سے تنقید قبائلی عوام کے مفاد میں نہیں اور نہ ہی محض سیاسی مخالفت کے باعث قومی وعوامی معاملات کو متنازعہ بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انضمام کے وقت قبائلی نمائندوں کو پوری طرح اعتماد میں لیا گیا اور اب قبائلی اضلاع سے منتخب نمائندے قومی وصوبائی اسمبلی میں موجود ہیں۔ اب قبائلی عوام پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کو امتیازی قوانین اور حالات کا سامنا نہیں۔ جہاں تک قبائلی علاقوں کو سو ارب روپے سالانہ دینے کے وعدے اور قبائلی اضلاع کے عوامی مسائل ومشکلات کے حل میں حکومتی کارکردگی کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں مطالبات کی گنجائش بہرحال ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان تقریباً ہر ہفتہ دو ہفتہ بعد قبائلی اضلاع کے حوالے سے کسی نہ کسی اجلاس کی صدارت کر رہے ہوتے ہیں اور قبائلی اضلاع میں تعمیر وترقی اور وسائل کی فراہمی کے عزائم کا ان اجلاسوں کی روداد میں اظہار بھی کیا جا تا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی اضلاع کے معاملات کے حوالے سے خود صوبائی حکومت بھی دوہرے مسائل کا شکار ہے۔مرکزی حکومت کی طرف سے قبائلی اضلاع کیلئے جو وسائل صوبے کے حصے میں شامل کرنے ہیں وہ ابھی باقی ہے۔ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی اورقبائلی عوام کے حصے کا ملنا ابھی شروع نہیں ہوا۔ جب تک وسائل دسیتاب نہ ہوں اس وقت تک قبائلی عوام کے مسائل کے حل میں ٹھوس پیشرفت کی توقع نہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ قبائلی علاقوں کے عوام کے مسائل کا حل علیحدہ صوبے کا قیام نہیں، علیحدہ صوبے کے قیام سے سیاسی جماعتوں کو سیاسی طور پر ممکن ہے فوائد حاصل ہوں بہرحال فی الوقت انضمام کے عمل کی تکمیل سے قبل یہ خارج ازبحث معاملہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا کا انضمام بھی قبائلی عوام کے درد کی دوا نہیں ان کیلئے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔ہمارے تئیں قبائلی علاقے کے عوام کا بنیادی مسئلہ ان کو صحت،تعلیم، روزگار کے مواقع، کا روبار کی ترقی اور قبائلی اضلاع کے اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے علاقائی ترقی کیلئے بروئے کار لانے کو یقینی بنانا ہی ان کے دکھوں کا مداوا ہے، قبائلی علاقہ جات کو مرکزی وصوبائی حکومت کی طرف سے وسائل کی فراہمی کا فارمولہ جو بھی طے ہو لیکن اس وقت وہ جس دور سے گزر رہے ہیںان کو بطور خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت کو قبائلی اضلاع میں موجود قدرتی وسائل سے اس طرح سے استفادہ کرنا چاہئے کہ قبائلی عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو، ان کی احساس محرومی کا خاتمہ اور خدشات کو دور کیا جانا چاہئے۔سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ سیاسی مطالبات اور قبائلی عوام کو ایک اورجانب متوجہ کرنے کی بجائے قبائلی عوام کے مسائل ومشکلات کے حل کیلئے کوشان ہو جائیں۔قبائلی اضلاع کے عوام کی احساس محرومی کا خاتمہ کیا جائے اور ان کو حقیقی معنوں میں قومی دھارے میں پوری طرح شریک ہونے کا موقع دیا جائے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ جو قبائلی عوام کی منشاء کے مطابق اور ان کی تسلی کا باعث ہوں۔