نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

اللہ کے نیک بندے بڑے پراُمید ہوتے ہیں کل ہمیں ایک حاجی صاحب کہنے لگے ہم نے آپ کا کورونا وائرس کے حوالے سے لکھا گیا کالم پڑھا علم میں اضافہ بھی ہوا لیکن یار مایوسیاں نہیں پھیلانی چاہئیں لوگوں کو درس اُمید دینا چاہئے، ہمارا بھی اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ہر تاریکی میں روشنی کی کرن ضرور ہوتی ہے مسلمان کو ہر لمحہ پراُمید رہنا ہی زیب دیتا ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ ہم ہر طرف سے آنکھیں موند کر صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول کیلئے سرگرم ہو جائیں۔ کورونا وائرس تو چند دنوں کی بات ہے اس پر بہت جلد قابو پالیا جائے گا لیکن ایک بہت بڑا سوال اکثر ہمارے سامنے کھڑا ہوکر ہمارا منہ چڑاتا رہتا ہے کہ کیا ہم نے پاکستان جیسی عظیم نعمت کی قدر کی؟ کہیں آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم کفران نعمت کے مرتکب تو نہیں ہوئے؟ آزادی کے بعد جو ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر آپڑی ہے اسے ہم نے کس حد تک پورا کیا؟ کیا آج ہر محب وطن پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہے کہ ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانیں قربان کر کے آزادی صرف اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم آپس میں ہی لڑتے رہیں، نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی آپس میں اتحاد قائم نہ رکھ سکیں معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے اُلجھتے رہیں، سیاستدانوں کا قومی سلامتی کے اداروں سے اُلجھنا بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے! اپنے اہم ترین اداروں کو بھی ہم نے اپنی ذاتی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس وقت ہمارا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے، معیشت روزبروز کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے، مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کردیا ہے، توانائی کا بحران ہمارا سنگین مسئلہ ہے، صنعتیں رکی ہوئی ہیں، سرمایہ کار اپنا سرمایہ ہمسایہ ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ ہماری بے اتفاقی اور آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ہم دشمن کیلئے تر نوالا ثابت ہورہے ہیں۔ وہ ہمارے خلاف بڑی آسانی سے سازشوں کے جال بن رہا ہے، وطن عزیزکی موجودہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں حضرت انسان کی ساری لڑائیوں کی بنیادی وجہ اقتصادیات ہی ہے۔ امریکہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور یہاں کیا کررہا ہے؟ اس کی وجہ بھی اقتصادی ہے، اس کے اپنے اہداف ہیں، اس کی اپنی ضرورتیں ہیں، جنہیں اس نے پورا کرنا ہے۔ ہمارے ذاتی اختلافات تو اپنی جگہ مقامی سیاست کی کارستانیاں بھی اپنی جگہ لیکن دشمن کا نادیدہ ہاتھ بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے جو بظاہر نظر تو نہیں آتا لیکن اسے ہر جگہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ دشمن بڑے منظم انداز سے بڑے ٹھنڈے دل ودماغ کیساتھ اپنا بھیانک کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔، وطن عزیز کے مختلف شہروں میں بھتہ خوری کا سلسلہ بھی جاری ہے، آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ کیا کسی کے پاس ان مایوس کن حالات کو سدھارنے کا نسخہ نہیں ہے؟ نسخے بھی بہت ہیں اور حکیم صاحبان کی بھی کمی نہیں ہے لیکن اگر کمی ہے تو اخلاص کی! جن کو رہنمائی کا دعویٰ ہے ان کی گردن کا سریا انہیں مخالف فریق کی بات سننے نہیں دیتا۔ مسیحائی کا دعویٰ کرنے والے اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں کوشاں ہیں جتنی منصوبہ بندیاں بھی کی جارہی ہیں ان کا تعلق اقتدار کیساتھ ہے، اختیار کیساتھ ہے سب کو اپنے اپنے اثاثوں کی فکر ہے، اب تو وہ دل دکھانے والی باتیں کی جاتی ہیں کہ نفرتیں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ دوریاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالا جاتا ہے۔ اقبال نے جس میرکارواں کی بات کی تھی اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر۔ نگاہ اسی وقت بلند ہوتی ہے جب عوام کیلئے سوچا جائے عوامی تکلیفات ومشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اب یہاں صورتحال یہ ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں روزبروز اضافہ کیا جارہا ہے، عوام بیچارے حالات کیساتھ اپنی جان ناتواں کی ساری توانائیوں کیساتھ نبرد آزما ہیں نوجوان صبح ملازمت کرتے ہیں اور رات کو رکشہ چلاتے ہیں اب تو ایک ملازمت کا تصور بھی ختم ہوتا چلا جارہا ہے، رزق حلال کی تگ ودو میں ہی سارا وقت لگ جاتا ہے، انہیں دوسری طرف دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ہماری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی تو اس نے ہمارے سامنے اپنی حاصل کردہ ڈگریوں کا پلندا رکھ دیا اور کہنے لگا کہ پچھلے پانچ سالوں سے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں لیکن ملازمت کالے گلاب کی طرح نایاب ہو چکی ہے، اب آپ ہی بتائیے کہ کہاں جائیں؟ ہم نے اس نوجوان سے کہا بیٹا بیروزگاری تو اپنی جگہ حکومت کے بھی بہت سے مسائل ہیں اور پھر حکومت کیلئے سب کو ملازمت دینا ممکن بھی نہیں ہے لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ پوسٹ گریجویٹ ہونے کے باوجود آپ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پچھلے پانچ سالوں سے فیل کرتے چلے آرہے ہیں، آپ نے ایم اے کا امتحان تو پاس کر لیا لیکن اپنے مضمون پر آپ کی دسترس کمزور ہے ورنہ آپ کمیشن پاس کر چکے ہوتے۔ آگے بڑھو ہمت کرو مطالعہ کرو طلبہ کو پڑھانا شروع کردو، ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت کیلئے تگ ودو بھی جاری رکھو۔ اب یہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اسے اور کہہ بھی کیا سکتے تھے؟۔