پاکستان کی کنفیوژن اور حقیقت

کراچی کے ادبی میلے میں پرویز ہود بھائی کا یہ کہنا اگر درست بھی ہے کہ پاکستان ایک کنفیوژن کی صورتحال میں ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہی کنفیوژن میں ہوئی ہے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ ہے کہ یہ کنفیوژن یوں بھی ہے کہ کیا مسلمانان برصغیر کو الگ وطن کی ضرورت تھی بھی یا نہیں؟۔ پاکستان کے بانیان کے ذہن میں اسے چلانے کیلئے کس نظام کا خاکہ تھا۔ ہود بھائی کے بقول قائداعظم کی تقریروں میں ہی یہ کنفیوژن جھلکتا تھا۔ پروفیسر ہود بھائی جانے کب سے کنفیوژن کا شکار ہیں اور کب تک رہیں مگر محمد علی جناح کی مدمقابل جماعت کانگریس کے لیڈر ششی تھرور کا تازہ ترین بیان پڑھیں تو کوئی کنفیوژن باقی نہیں رہتا۔ ششی تھرور کا کہنا ہے کہ آج بھارت میں جناح کا نظریہ جیت رہا ہے، جناح جہاں بھی ہوں گے خوش ہوں گے کہ دیکھو میں ٹھیک تھا مسلمان ایک الگ ملک کے حق دار تھے کیونکہ ہندو مسلمانوں سے انصاف نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہریت کے قوانین کو بزور طاقت نافذ کیا گیا تو جناح کا نظریہ مکمل طور پر جیت جائے گا۔ ششی تھرور کی بات اور بھارت کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو پاکستان کے قیام اور نظرئیے کے بارے میں اگر کچھ کنفیوژن موجود بھی تھا تو اکہتر سال کا مختصر وقت اسے دور کر چکا ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کا ظہور اور نریندر مودی کے بھارت کی اُبھرتی ہوئی شبیہہ تبدیلی کے ایک مسلسل عمل کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے سیکولرازم کی دیگ کا سب سے اہم دانہ کشمیر تھا۔ ہندو اکثریتی ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جس پنڈت نہرو نے اپنی انفرادیت، شناخت اور پہچان قبول کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا اعلان کیساتھ قبول کیا تھا اس ریاست کے مقبول مسلمان لیڈر شیخ محمد عبداللہ نے محمد علی جناح سے فاصلہ اپنا کر خود کو برصغیر کے نیشنلسٹ مسلمان راہنماؤں ابوالکلام آزاد اور دوسرے علاقائی قوم پرست مسلمان لیڈروں کی صف میں کھڑا کیا تھا۔ بھارت کے سیکولرازم نے پہلا وار ہی اسی ریاست پر کیا۔ پہلے اسے حیلوں بہانوں سے اپنے کنٹرول میں لیا پھر اس کی صدیوں پرانی شناخت جسے ”کشمیریت” کہا جاتا ہے کو ہندووائزیشن میں بدلنے کا آغاز کیا۔ پھر جس مقبول لیڈر بہت چاؤ کیساتھ سیکولرازم میں ایک تاج کی صورت میں سجانے کے نام پر شیشے میں اُتارا گیا تھا بہت بے رحمی کیساتھ کرسیٔ اقتدار سے اُتار کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ جناح کا نظریہ اسی وقت جیتا ہوا نظر آرہا تھا مگر بھارت کی مسلمان قیادت ایک موہوم اُمید پر حالات کے دھارے میں خودسپردگی کے انداز میں بہتی چلی گئی۔ وہ اس خوش فہمی میں تھے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ذہن بدلیں گے، سیکولرازم کے نعروں کا جھول درست ہوگا اور جدید اور ترقی انتہا پسندی کا قافیہ تنگ اور روشن خیالی کا دائرہ وسیع کرتی جائے گی اور ایک وقت ایسا آئے گا جب بھارتی سماج میں ”من وتو” کی تمیز ختم ہو جائے گی۔ مولانا ابولکلام آزاد پاکستان کے مستقبل کے بارے میں تو حقیقت پسندانہ اور خوفناک پیش گوئیاں کرتے رہے جنہیں اب بھی کنفیوژن کے مارے ہمارے دانشور سینے سے سجائے ہوئے ہیں مگر مولانا آزاد بھارتی مسلمانوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش گوئی کر سکے نہ وہ اور ان کے ساتھی آنے والے حالات کی پیش بندی کر سکے۔ شیخ عبداللہ اور مولانا آزاد دونوں اپنے دوست پنڈت جواہر لال نہرو کو ہی بھارت کا حال اور مستقبل سمجھ بیٹھے۔ نہرو نے ان کیساتھ دوستی اور مستقبل کے جو عہد وپیماں کر رکھے تھے وہ ان کی ذات اور ذہنی اُپچ کا شاخسانہ تھا کیونکہ وہ اپنی عادت میں ایک آزاد خیال اور عاشق مزاج انسان تھے۔ شیخ عبداللہ کی گرفتاری نے ہی یہ بات ثابت کردی تھی کہ پنڈت نہرو بھارت کے نظام حکومت کی سکرین پر کام کرنے والا ایک کردار تو ضرور ہیں مگر پورا بھارت نہیں۔ بھارت حقیقت میں اکثریت کی ایک سخت گیر سوچ کے حصار میں اسی وقت سے آرہا تھا۔ اب یہ سوچ اس نکتۂ عروج کو پہنچ چکی ہے جسے نریندرمودی ایک تاریخی غلطی کا ازالہ کہہ رہے ہیں۔ شہریت کے قوانین کے بعد یہ دائرہ سرخ ہو کر رہ گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ایک کشمیری خاتون ایک وڈیو کلپ میں شکوہ کناں تھیں کہ انہیں دہلی کے ”شاہین باغ” میں اپنے کتبوں کیساتھ بیٹھنے نہیں دیا گیا۔ شاہین باغ وہ مقام ہے جہاں بھارت بھر کی مسلمان خواتین این آر سی اور سی سی اے کے متعصبانہ قوانین کیخلاف مستقل دھرنا دئیے بیٹھی ہیں اور آج یہ احتجاجی کیمپ بھارتی حکمرانوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہا ہے۔ کشمیر ی خواتین نے بھی اپنے مطالبات کیساتھ اس احتجاج میں بیٹھنے کی کوشش کی تھی مگر انہیں اس کی اجازت نہیں مل سکی۔ کشمیر میں بھارت دوست قیادت محبوبہ مفتی نے تو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کر لیا ہے کہ ان کے بزرگوں نے مسلم اکثریتی پاکستان کی بجائے سیکولر بھارت کا ساتھ دیکر غلطی کی تھی مگر بھارت کی مسلمان قیادت کو ابھی اس اعتراف میں جھجک اور حجاب ہے اور اس کی وجہ یہ موہوم اُمید ہے کہ ایک دن وقت کا پہیہ اُلٹا گھوم جائے گا اور یہ سارے فیصلے اس پہیے کی گرد میں تحلیل ہو جائیں گے ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ذہنوں میں جو زہر بھر دیا گیا اس نے ابھی کئی رزم آرائیوں میں اپنا چہرہ اور جلوہ دکھانا ہے۔ یہ جو ہندو انتہا پسند لڑکے انفرادی طور پر دہلی کے مظاہرین پر حملے کرتے ہیں محض ابتدا ہے۔ بھارت کا مسلمان آج جس خوف اور غیریقینی کا شکار ہے اور اس سے بڑھ کر جو کچھ دیوار پر لکھا ہوا نظر آرہا ہے جناح کے نظریہ کی جیت اور حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔