یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی

ممکن ہے ان سطور کے شائع ہونے تک اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہو ،اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہوں کہ آٹے اور ایئر ٹکٹس میں کونسی قدر مشترک ہے؟ اس حوالے سے تو ہمیں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کا یہ تبصرہ بہت اچھا لگا کہ عوام آٹا اور پارلیمنٹرینز ایئر ٹکٹس مانگ رہے ہیں، انہوں نے یہ بیان اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تنخواہوںاور الائونسز میں اضافے کے مطالبے بلکہ اس حوالے سے سینیٹ میں تین بلز پیش کئے جانے کے حوالے سے کہی ہے، اب عوام کہاں جائیں کہ وہ تو بھوک کے ہاتھوں جتنے پریشان ہیں اس کا تذکرہ ہی فضول ہے بلکہ اس پر تو ہمیں ایک بھارتی فلم کا ایک منظر یاد آگیا ہے جب کچھ بلوائی ہاتھوں میں تلواریں لئے ایک مفلوک الحال شخص کو دیکھ کر اپنی تلواریں سونت کراس سے پوچھتے ہیں! بتائوہندو ہو یامسلمان، تو وہ انہیں جواب دیتا ہے،بیٹا بھوکا ہوں! اور بلوائیوں کے چہروں پر سوالیہ نشان سے بھرپور تاثرات اُبھرتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ معاملات تو اب انقلاب فرانس کے دور کی اس شہزادی کے ایک تاریخی جملے تک جا پہنچے ہیں جب بے چاری نے روٹی کیلئے احتجاج کرتی مخلوق کے دکھوں کا مداوا کیک پیسٹری میں ڈھونڈنے کا مشورہ دیتے ہوئے تجویز کیا تھا، اب ایک جانب عوام جو کبھی گوشت کی مہنگائی کا تریاق دال سبزی پکانے کے عمومی بیانئے میں تلاش کر لیتے تھے، انہیں سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے چکر آرہے ہیں، تو دوسری جانب مراعات یافتہ طبقات اپنے لئے مزید مراعات مانگ کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں، نہ صرف تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافے کا بل پیش کر دیا گیا ہے بلکہ اپنے اہل خاندان کیلئے بھی ایئر ٹکٹس مانگ کر اس غریب وطن کے عوام کا مذاق اُڑانے کی کوشش کی ہے،اس کے علاوہ اپنے لئے ترقیاتی فنڈز کو بھی”بلیک میلنگ” کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ آئین میں کہیں اس بات کا ذکر موجود نہیں بلکہ اراکین پارلیمنٹ کاکام صرف اور صرف عوام کی فلاح وبہبود کیلئے قانون سازی کرنا ہے، مگر وہ جو ضیاء الحق نے سیاسی رشوت کے طور پر فنڈز کے اجراء کی بنیاد رکھی تھی اس سے آج تک اس قوم کی جان نہیں چھوٹی، اس پرمستزاد ملازمتوں میںکوٹے کا حصول بھی اراکین پارلیمنٹ کا وتیرہ رہا ہے اور ان ملازمتوں کی مبینہ خرید وفروخت بھی ایک قباحت کے طور پر معاشرے کے رگ وپے میں سرائیت کر چکی ہے، یعنی اندھا بانٹے ریوڑیاں، مڑ مڑاپنوں کو دے والی صورتحال ہے اور اب یہ ایک بار پھر اپنے مفادات کی جنگ اس وقت لڑ رہے ہیں جب خدا جانے کس ترنگ میں آکر وزیراعظم عمران نے اپنی تنخواہ میں اخراجات پورے نہ ہونے کا ذکر کرکے مہنگائی کا رونا رویا، بس پھر کیا تھا یار لوگ لے ڈوری اور کاتا کے مصداق ان کے بیان کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے پر تل گئے اور جھٹ سے اپنی تنخواہوںاور دیگر مراعات میں اضافے پر کمر کس کر میدان میں آگئے۔ اگرچہ بعض سیاسی رہنمائوں نے جن کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہے کے علاوہ سپیکر قومی اسمبلی اور ایک آدھ وزیر نے بھی اس کی مخالفت کی ہے تاہم ماضی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے بلا خوف تردید یہ پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ جب اراکین کی اکثریت ان بلز کی حمایت کرے گی تو جو لوگ آج اس صورتحال پر تنقید ی بیانات جاری کر رہے ہیں وہ بھی خاموشی کیساتھ سرجھکا کر اضافی تنخواہوں اور مراعات کے حصول میں اکثریت کا ساتھ دینے پر راضی ہو جائیں گے۔ یعنی بقول شاعر
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی
اسلئے جس وقت یہ کالم لکھا جارہا ہے اسی روز سینیٹ میں بل پیش کئے جانے کے بعدممکن ہے اس کالم کے شائع ہونے تک وہ اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہو،یا پھر زیادہ سے زیادہ متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر کے اس کا جائزہ لینے کی ذمہ داری کمیٹی کو سونپ دی گئی ہو، تاہم بالآخر نتیجہ کیا نکلنا ہے؟ یہ تو”نوشتہ دیوار”ہے کہ ممبران پارلیمنٹ بھی غریب ہیں (کہ غریب قوم کے نمائندے ہیں)اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے وہ بھی حد درجہ پریشان ہو کر ”قانون سازی” پر توجہ دینے میں دقت کا سامنا کرتے ہیں،قانون سازی ویسے بھی سکون کے لمحات مانگتی ہے اور جب بندہ خود پریشان ہو تو ظاہر ہے وہ عوام کی فلاح وبہبود کے بارے میں خاک سوچ سکتا ہے؟ یعنی بقول فیض احمد فیض
محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے
رندکا، ساقی کا، مے کا، خم کا، پیمانے کا نام
ادھر وہ جو کچھ دنوں سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے فلر چھوڑے جارہے تھے ان کی اصلیت بھی ایک قومی اخبار نے طشت ازبام کردی ہے یہ خبر دے کر کہ محولہ اضافہ بھی صرف بالائی سطح کے سیکریٹریز اور وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین تک محدود ہے یعنی باقی عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اگر اضافہ ہوگا بھی تو سالہائے گزشتہ کی طرح دس بیس فیصد ہی ہوگا، رہ گئے پنشنرز تو ان کا پہلے کون پرسان حال تھا جو اب ان کی کوئی فکر کرے گا۔ پیچھے رہ گئے عوام الناس جنہیں حرف عام میں عوام کالانعام کہا جاتا ہے، تو ان کی حالت کا اندازہ تو اشیائے صرف کی قیمتوں کے آئینے میںکیا جا سکتا ہے، گویا دال، سبزیاں، آٹا، چینی، گوشت کے بیرومیٹر سے ان کی قوت خرید کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اب تو کرونا وائرس کی وجہ سے چین سے آنے والی سبزی پر پابندی سے مارکیٹ میں سبزی کی قیمتوں میں مزید اضافہ سے ان عوام کا کیا حشر ہونے جارہا ہے اس کا سوچ کر ہی ہول آتا ہے۔
مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفوکا نکلا