زنجیرسلامت ہے،جھنکار سلامت ہے

چلئے چھٹی ہوئی ،ایک ناں سوسکھ،سینیٹ میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کثرت رائے سے مسترد ہوگیا،تاہم بعض ایسے لوگ ضرور بے نقاب ہوگئے جو قوم کے غم میں دبلے ہونے کی بجائے صرف ذاتی مفادات کے ہاتھوں پریشان تھے اور جن پر مرحوم مرزامحمود سرحدی کے الفاظ میں یہ تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہیںمگر آرام کے ساتھ
اب جن لوگوں نے یہ بل پیش کئے یا پھر ان کے حق میں ووٹ ڈالے ان کی پارٹیاں ایسے اراکین کے ساتھ اپنے تعلق کو ساقط کرنے کے بیانئے اپنا رہی ہیں اور جنہوں نے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا وہ خجل خجل سی دکھائی دے رہی ہیں ویسے قومی خزانے پر دن دیہاڑے ”شب خون” مارنے کی اس واردات سے ہمیں عرصہ پہلے لیگ(ن) کے دور میں اسی نوع کی ایک واردات کی یاد دلا دی ہے ،جب ایک بار قومی اسمبلی کے اندر چند لمحوں میں لیگ(ن) کے اراکین کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور کیا گیا تو میاں نوازشریف نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارٹی رہنمائوں کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ بل واپس لینے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں،تاہم بل منظور ہو چکا تھا تو اس کا توڑ یوںکیا گیا کہ نہ صرف سینیٹ میں اسے رکوادیا گیا ،بلکہ اسے حتمیٰ منظوری کیلئے آگے متعلقہ فورم پر بھیجنے کے بعد مسترد کرنے کا بھی بندوبست کیا گیا تاکہ عوام کے اندر منفی جذبات پیدا نہ ہوسکیں،لیکن کچھ عرصے بعد خاموشی کے ساتھ تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا تھا ،اب جبکہ سینیٹ میں تنخواہوں کے اضافے کا بل کثرات رائے سے مسترد کردیاگیا ہے تو اصولی طور پر اس کو باعث اطمینان قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیئے، البتہ اس کے بعد ان سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا کیا حال ہوگا جو گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھتی ہیں،یعنی جسے بجٹ کاسیزن کہتے ہیں اور اب کی بار توصورتحال یہ ہے کہ رمضان سے پہلے ہی ہر گھر میں تقریباً فاقوں کی کیفیت نے سال کے بارہ مہینے رمضان کا سماں پیدا کر رکھا ہے گویا بقول مرزا محمود سرحدی
روزے آنے کو ہیںکہتا تھا کوئی کل ہم سے
روزہ داروں پہ فرشتوں کا گماں ہوتا ہے
عرض کی ان کی بھی تفصیل بتا،جن کے لئے
سال کے بارہ مہینے رمضاں ہوتا ہے
سینیٹ میں جو کارروائی گزشتہ روز دیکھنے میں آئی اس پر غورکیا جائے تو اس کا فائدہ بھی حکومت کو ہوگا یعنی اسے ان سرکاری ملازمین کے حوالے سے گربہ کشتن روز اول کی طرح استعمال کرتے ہوئے بجٹ کے موقع پر ملازمین کی تنخواہوں میں ان کی خواہشات کے برعکس استعمال کرتے ہوئے سرکار دھڑلے سے یہ کہہ سکتی ہے کہ جب اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں تین سو سے چار سو فیصد اضافے کو مسترد کردیا گیا ہے تو بھلا سرکاری ملازم کس باغ کی مولی ہیں اس لیئے بس جتنا تھوڑا بہت دے رہے ہیں اسی کو خوشدلی سے قبول کرلو بصورت دیگر”ورنہ پرنوکری” بھی ملازمین کا مقدر بنائی جا سکتی ہے اور پھر نتیجہ یقینا بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی بھلی والے محاورے میں سرکاری ملازمین پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہوں گے۔ البتہ اس سے پہلے یعنی بجٹ کے اعلان تک یہ سرکاری اہلکار جتنا چاہیں شوروغوغا کر کے دل کا غبار ہلکا کر سکتے ہیں،البتہ انہیں یہ ضرورسوچ لینا چاہیئے کہ ”پرنالہ وہیں کا وہیں”رہے گا،چاہے جتنی غوغا آرئی یہ کرلیں اور آخر میں نتیجہ دس فیصد(ممکنہ حد تک20فیصد)سے آگے جانے کا نہیں لگتا کہ گزشتہ کئی برس سے ان لوگوں کی سوئی انہی ہندسوں پر اٹکی ہوئی ہے جو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔اگرچہ سالہا سال گزشتہ کی طرح اخبارات میں باقاعدگی کے ساتھ ایسی خبریں سامنے آتی رہیں گی جن میں کبھی تیس تا35فیصد،کبھی پندرہ تا بیس فیصد اضافے کی تفصیل درج ہوگی چونکہ ان خبروں کا مقصد صرف ملازمین کاردعمل معلوم کرنا ہوتا ہے کہ ان کا موڈ کیا ہے؟اور ان میں کس قدر”توانائی” ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں کس قدر آگے جا سکتے ہیں اس لیئے ان کے دل کا غبار بیانات کے ذریعے خارج کر کے بالآخر سرکار اپنے اصل مقصد کے حصول پر پہنچ جائے گی،یعنی جتنا اضافہ حکومت چاہتی ہے اتنا ہی کیا جائے گا۔بقول میر تقی میر
حال بد گفتنی نہیں،لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
گزشتہ سالوںکے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے البتہ ایک بات ذہن کے نہاں خانوں میں ضرور اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہے کہ عوام کے شدید ردعمل کے خوف سے یہ جو گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوںمیں اضافے کا بل مسترد کردیا گیا ہے ،اس پر اراکین یوں آسانی سے چپ رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ممکن ہے کہ بجٹ کے بعد ایک بار پھر اسے منظور کرانے کی جدوجہد شروع کی جا سکتی ہے ،کیونکہ گزشتہ روز بل پراظہار خیال کے دوران مختلف رائے سامنے آئی ہے جن میں سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ سب کے مالی حالات ایک جیسے نہیں ہوتے یعنی ان میں”غریب غربے”بھی ہیں۔جو ظاہر ہے اتنی آسانی سے خاموش رہنے کو تیار نہیں ہوں گے اور آگے چل کر پھر اضافے کے مطالبات کر سکتے ہیں۔گویا بقول توقیر عاطف
آئین زباں بندی زنداں پہ نہیں لاگو
زنجیر سلامت ہے،جھنکا رسلامت ہے