مہنگائی کی توجیہہ۔۔۔؟

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ وظیفوں کی رقم اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد بڑھا رہی ہے جبکہ مہنگائی کو کم کرنے کی پالیسیوں اور کوششوں کے نتائج”آئندہ دنوں” میں سامنے آئیں گے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مسلسل بڑھنے والی مہنگائی کی شرح پر وضاحت دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن جس امر کی توجیہہ ہی ممکن نہ ہو اس کی وضاحت کیسے ممکن ہوسکتی ہے مہنگائی کا جن جس طرح سے سرچڑھ کربولنے لگا ہے اس کا اعتراف تو کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ جنوری کے مہینے میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح ایک دہائی کی سب سے زیادہ14.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جو بھی صورتحال بیان کی جائے امر واقع یہ ہے کہ مہنگائی کاجن اس قدربے قابو ہوچکا ہے کہ اب اس جن کو بوتل میں بند کرنے کیلئے حکومت جتنے بھی اقدامات کرے اس کا مداوا ممکن نہیں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حکومت معاشرے کے سب سے متاثرہ طبقے کو کسی نہ کسی حد تک ریلیف دینے کے اقدامات کر رہی ہے لیکن یہ اقدامات اولاً اس سارے طبقے کو حاصل نہیں دوم یہ کہ یہ مراعات اتنی قابل ذکر نہیں کہ کم سے کم آمدنی والا طبقہ حکومت کے امدادی اقدامات کے باعث ریلیف محسوس کرے۔اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے آمدنی بڑھانے میں تعاون اور سبسڈیز اچھی سعی ہے مہنگائی میں جس رفتار سے اضافہ ہورہا ہے اس سے صرف پست طبقہ ہی متاثر نہیں بلکہ متوسط طبقہ بھی پس کر رہ گیا ہے۔ تقریباً ماہانہ بنیاد پر گیس بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے پٹرول کی قیمت میں بھی آئے دن اضافہ ہوتا رہا ۔مہنگائی میں اضافہ کے معمول کی وجوہات کے علاوہ جو سب سے پریشان کن امر ہے وہ یہ کہ منظم مافیا پوری منصوبہ بندی سے ذخیرہ اندوزی اور اشیائے خوردنی کی چیزوں کا ذخیرہ کر کے اور منڈی میں اس کی رسد کو متاثر کر کے راتوں رات عوام کی جیبوں سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے نکالتی ہے جس کی روک تھام میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں دوسری جانب حکومت مہنگائی سے بے خبربھی نہیںملک میں اگر سبزیاں مہنگی ہورہی ہیں تو اس کی وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اورپٹرول کی مہنگائی نہیں اگر ہے بھی تو اس کا تناسب بہت کم ہوگا سبزیوں کی مہنگائی کی وجہ زراعت کا متاثر ہونا ہے کسانوں کی حالت زارہے زرعی اراضی اور پانی کی کمی ہے۔صورتحال یہی رہی زراعت کو بچانے اورزرعی اراضی کو ختم ہونے پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ سبزیاں ہی ناپید نہ ہوجائیں گی ملک میں گندم کی پیداوار متاثر ہو تو گندم اورآٹا کی قیمتوں میں خود بخود اضافہ ہوگا سبزیاں عوام کی دسترس سے دور اور گندم وآٹا کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو عام آدمی جیئے گا کیسے؟۔حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ مہنگائی ان کی حکومت کے خلاف عوامی چارج شیٹ بنتی جارہی ہے اس کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کی روک تھام کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا انعقاد کیا اور چاروںصوبوں کے چیف سیکرٹریز کو مہنگائی کی روک تھام کیلئے ہدایات جاری کیں مگر ان احکامات اور اقدامات کے اثرات عوام اور منڈیوں تک ہنوز نہیں پہنچے۔مہنگائی میں مزید اضافہ کے خدشات وامکانات کے باعث جہاں عوام کی نیند اڑگئی ہے وہاں یہ حکومت کیلئے بھی سخت پریشان کن صورتحال ہے حکومت کو جہاں انتظامی اقدامات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششوں کو تیز اور حتمی سطح تک لانے کی ضرورت ہے وہاں ان وجوہات اور اسباب وعلل کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔وزارت خزانہ نے مہنگائی پر نظر رکھنے کی پالیسیوں کے جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی جو نوید سنائی ہے عوام منتظر ہیں کہ وہ کب مہنگائی کے کمی کے خوشگوار تجربے سے دوچار ہوں۔