والد کے قرنطینہ جانے سے بے آسرا ہونے والا معذور لڑکا ہلاک

بیجنگ: کورونا وائرس سے متاثرہ ایک والد کو قرنطینہ میں بھیجنے کے باعث ان کا معذور بیٹا بے یار و مددگار اور تنہا رہ کر موت کا شکار بن گیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یان چینگ دماغی فالج کا شکار اور وہیل چیئر تک محدود تھا، جس کے والد کو بخار کی وجہ سے قرنطینہ منقل کیا گیا تو وہ گھر میں بے آسرا اور اکیلا رہ گیا۔

17 سالہ بیمار لڑکا نہ تو بول سکتا تھا نہ ہی خود سے کھا پی اور چل سکتا تھا، اس کی والدہ بھی کئی سال پہلے انتقال کر گئیں تھں اور نہ ہی روز مرہ کے امور میں اس کی کوئی مدد کرنے والا تھا۔

مذکورہ لڑکے کے والد یاش شیاؤوین کو ممکنہ طور پر ہلاکت خیز کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے 5 روز بعد 22 جنوری کو قرنطینہ میں بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر مدد کے لیے ایک جذباتی پیغام بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

تاہم ’کورونا وائرس سے متاثرہ ایک والد کی مدد کی دہائی‘ نامی پوسٹ بہت دیر سے سامنے آئی اور ہونگان کاؤنٹی حکومت کے بیان کے مطابق لڑکا 29 جنوری کو مر چکا تھا۔

حکومتی بیان میں کہا گیا کہ ’یان شیاؤوین (قرنطینہ میں رہنے کے باعث) یان چینگ کی روزمرہ زندگی کا خیال نہیں رکھ سکتے تھے اس لیے انہوں نے رشتہ داروں، گاؤں کے رہائیشیوں اور ڈاکٹروں کو یان چینگ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی‘۔

معذور لڑکے کی ہلاکت پر اعلیٰ عہدیداروں کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے اور ایک عہدیدار کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے مقامی سیکریٹری اور میئر اک برطرف کردیا گیا کیوں کہ وہ ’اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام‘ رہے تھے۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ لڑکے کی موت کی وجوہات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

اس سانحے نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی جہاں ہوبے کے حکام پہلے ہی انفیکشن کی معلومات چھپانے پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔

چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر ’ہوبی کے دماغی فالج سے متاثرہ لڑکے کے والد بولے‘ کے عنوان سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا اور منگل کی صبح 27 کروڑ مرتبہ پڑھا گیا۔

اس کے بعد میئر کو برطرف کیے جانے کے بارے میں ہیش ٹیگ 6 کروڑ 60 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: فلپائن کے بعد ہانگ کانگ میں بھی کورونا وائرس سے ایک شخص ہلاک

خیال رہے کہ چین میں 20 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد ساڑے 4 سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق صوبہ ہوبے سے ہے جہاں ممکنہ طور پر جنگی جانور اور ان کا گوشت بیچنے والی ایک مارکیٹ سے یہ وائرس پھیلا۔

وائرس سے متاثرہ کیسز 2 درجن سے زائد ممالک میں سامنے آچکے ہیں اور زیادہ تر وہ افراد متاثر ہوئے جنہوں نے ہوبے کا سفر کیا تھا۔