چین سے واپسی اور احتیاط کے تقاضے

چین سے پاکستانیوں کی واپسی شروع ہونے کے بعد ان کا پوری طرح معائنہ کرکے ان کی کورونا وائرس سے متاثر نہ ہونے کی تصدیق کا عمل لازمی احتیاط کا حصہ ہے خیبرپختونخوا میں حفظ ماتقدم کے طور پر پولیس اینڈ سروسز ہسپتال کو قرنطینہ یونٹ میں تبدیل کر دینے کا اقدام بھی بہتر قدم ہے۔طبی ماہرین اور حکومت جو بھی اقدامات ضروری ہوں اس پر توجہ ضرور دیں لیکن ساتھ ہی طبی عملے کو اس قسم کی معلومات کے افشاء نہ کرنے کا سختی سے پابند بنایا جائے جس سے بلاوجہ کا خوف وہراس پھیلے۔چند دنوں سے سوات،باجوڑ اور پشاورمیںکورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی موجودگی کی افواہ اڑی اور بعد میں اس کا علم ہی نہ ہوسکا کہ حقیقت کیا تھی عوام کو بار بار اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر بخار میں مبتلا شخص متاثرہ نہیں ہوتا اور پاکستان میں ابھی تک کسی کے اس بیماری کا شکار ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اس وقت افواہوں سے بچنے اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت اور عوام دونوں کو اپنی سطح اور بساط بھر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے جو لوگ چین سے وطن واپس آئیں ان کو فوری طور پر اگر گھر جانے کی اجازت دینے کی بجائے دو ہفتوں کیلئے کسی علیحدہ جگہ پر رکھا جائے اور پورے اطمینان کے بعد گھر جانے کی اجازت دی جائے تو مناسب ہوگا۔
بیروزگاری کی ایک بڑی وجہ ہنر مند نہ ہونا بھی ہے
ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کی دیگر اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ سالانہ رپورٹ کے تحت صوبہ بھر کے کارخانوں و دیگر صنعتوں کو2 لاکھ38 ہزار تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے تاہم مارکیٹ میں60 ہزار افراد دستیاب ہیں جس کے باعث1 لاکھ80ہزار افراد کی اب بھی گنجائش موجود ہے سب سے زیادہ تربیت یافتہ لیبر کی مصنوعات بنانے والے کارخانوں ، تعمیرات ، ہوٹل مہمان نوازی اور مائننگ میں ایک لاکھ80ہزار تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی کمی ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک میںبیروزگاری عروج پر ہے خیبرپختونخوا کے کارخانوں ودیگر صنعتوں کو دولاکھ اڑتیس ہزار تربیت یافتہ کا رکنوں کی ضرورت ہونا ناقابل یقین امر نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں بڑی تعداد میں ہندمندوں کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کی شدت اس حد تک ہے کہ حکومت ہنرسیکھنے والے نوجوانوں کو چھ ماہ وظیفہ بھی دیتی ہے تاکہ نوجوان ہنر سیکھنے کی طرف راغب ہوں۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں ہنرمندوں کی کمی صنعتوں کے فروغ میں بھی رکاوٹ ہے ہنرمند افراد یا تو دیگر صوبوں سے اضافی مشاہرے پر منگوائے جاتے ہیں یا پھر سرمایہ کار کارخانہ ہی صوبے سے باہر لگا نے کو ترجیح دیتے ہیں جو ایک سنگین صورتحال ہے اس سے صوبے کا سرمایہ کاروبار اور روزگار دوسرے صوبوں کو منتقل ہوتا ہے جو اگر اس صوبے میں ہوتا تو صوبے کی معیشت اور سرکاری محصولات میں بہتری کا باعث بن سکتا تھا۔صوبے میں نوجوانوں کی بیروزگاری کا ایک بڑا سبب ان کا ہنر مند نہ ہونا ہے ان کو اس طرف راغب کرنے کیلئے سرکاری مراعات کی فراہمی اپنی جگہ اچھے اقدامات ہیں ہمارے تئیں اس سے زیادہ نوجوانوں کو بار بار یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کن شعبوں میں کس قدر روزگار کے مواقع موجود ہیں اور نوجوان کونسے ہنر سیکھ کر ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ سکول کی سطح پر طالب علموں کو ان مواقع کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرے اور ان کی رہنمائی کے اقدامات کرے تاکہ میٹرک کے بعد جو نوجوان کسی بھی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکیں وہ بالخصوص یا پھر ہنر سیکھ کر اپنے گھرانوں کا سہارا بننے کے خواہشمند نوجوان ہنر سیکھنے کا بروقت فیصلہ کرسکیں۔
فنڈز کے اجراء میںمزید تاخیر نہ کی جائے
صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں تاخیر کیوجہ سے حیات آباد کڈنی ڈیزیز سنٹر میں ڈائیلاسز کے مفت علاج کا سلسلہ معطل ہونا صحت کی بہتر سہولتیں دینے کی دعویدار حکومت کیلئے اچھے تاثرات کا باعث امر نہیں۔ہمارے نمائندے کے مطابق اس سلسلے میں اڑھائی ماہ قبل حکومت کورقم کے اجراء کی درخواست کی گئی تھی لیکن تاحال فنڈز جاری نہیں ہوئے ہیں جس کیوجہ سے ہسپتال میں ڈائیلاسز کرانیوالے مریضوں کو دوائوںکی فراہمی بند کردی گئی ہے۔ہسپتال انتظامیہ پر محکمہ صحت نے محکمہ خزانہ کو جو گزارش نامہ ارسال کیا ہے اس میں پہلے ہی خاصی تاخیر ہو چکی ہے جس کے باعث مفت ڈائیلاسسز کا سلسلہ معطل ہوگیا ہے اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ گردے کے مہنگے علاج کی مریض استطاعت نہیں رکھتے اور اس عمل کا مئوخر ہونا مریض کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے علاج معطل ہونے کے باعث اب تک نجانے کتنے مریض کسی حد تک متاثر ہوئے ہوں گے اور مزید کتنے متاثر ہوں گے۔ وزارت صحت وخزانہ جوں جوں رقم کے اجراء میں تاخیر کا مظاہرہ کرتا جائے گا مریضوں کے متاثر ہونے کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ وزیرخزانہ اور سیکرٹری خزانہ کو اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کرنی چاہیئے اور محکمے کے اہلکاروں کو اسے کار ثواب اور دکھی انسانیت کی خدمت گردان کر جلد سے جلد دستاویزی عمل مکمل کر کے فنڈز کا اجراء یقینی بنانا چاہیئے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ محکمہ خزانہ کے حکام اپنی اولین فرصت میں گردے کے مریضوں کے علاج کیلئے رقم کا اجراء کر کے اُن کے علاج کو معطل اور منقطع ہونے نہ دیں گے اس سلسلے میں اس امر سے بھی صرف نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ محکمہ خزانہ کو فنڈز جاری کرنے میں کیا مشکلات درپیش ہیں یہ ایک خالص انسانی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو اسی انداز میں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہی مناسب ہوگا۔