کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں!

اس کالم میں جہاں بہت سوں کے مسائل اجا گر ہونے پر ان کو اطمینان ہوتا ہے وہاں یہ بھی تجربہ ہوا کہ کسی مسئلے کی کالم میں نشاندہی ہوئی مسئلہ حقیقی اور واضح تھا اس لئے اس کی تردید نہیں کی جا سکی البتہ اس پر ردعمل کااظہار چونکہ ملازمت کا حصہ ٹھہرااس لئے بعض اوقات ایسی کالز بھی آتی ہیں جن سے جب موقف برائے اشاعت دینے کا کہا جاتا ہے تو کئی کترانے لگتے ہیں میرے خیال میں مثبت طرز عمل یہی ہے کہ اگر مسئلہ تسلیم تو پھر اس کا حل نکالیں یا عذر پیش کی جائے ۔اس کالم کا مقصد ہی قارئین کے مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانا اور اس حوالے سے مناسب بحث ہے خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک قدم کے طور پر1800پر کال کرنے کی جس سہولت کا آغاز کیا ہے میں اپنے قارئین کو یہ مشورہ دوں گی کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں نیز وزیراعظم شکایات مرکز کو بھی شکایت ارسال کریں یہ کالم عوامی کالم ہے اس پلیٹ فارم سے بھی آپ کی شکایت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔جس محکمے یا ادارے کو کسی شکایت سے متعلق تحفظات اور شکایات ہوں ان کو چاہیئے کہ وہ شکوہ شکایات کی بجائے تحریری طور پر مدعا دیں تاکہ ان کا موقف بھی پوری طرح اور خودان کے الفاظ میں سامنے آئے۔خیبرپختونخوا کی جامعات میں تنخواہوں تک کیلئے وسائل دستیاب نہ ہونے پر جامعہ پشاور کے ایک اہلکار نے برقی پیغام میں تشویش کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے جامعات کو وسائل کی فراہمی کی بجائے ان کے فنڈز میں کمی کرکے بحران کی جو بنیادرکھ دی ہے اس کے باعث جامعات مالی مشکلات کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ صرف یہی مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ جامعات میں بد عنوانی اور وسائل کے بے جااستعمال کا بھی ہے کسی بھی جامعہ کے حسابات کا آڈٹ ہو تو کروڑوں کی بدعنونی کا انکشاف ہوگا جامعات میں سیاسی بنیادوںپر ہونے والی بھرتیاں اور انتظامی معاملات کیلئے بلا ضرورت کی اسامیاں جامعات کے بجٹ پر بوجھ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ابھی بحران سر اٹھا رہا ہے رئیس الجامعات اور حکومت دونوں نے اس کا بروقت ادارک نہ کیاتو ملازمین کو تنخواہیں ملنا مشکل ہو جائیں کجا کہ جامعات میں تحقیقی امور کیلئے فنڈز دستیاب ہوں۔طالب علم مامون نے تجویز پیش کی ہے کہ سکول کے بچوں کو قرآن مجید ناظرہ اور چند سورتیں حفظ کروائی جائیں جبکہ جالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طالب علموں کو ترجمہ وتفسیر پڑھا یا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔میرے خیال میں تجویز تو اچھی ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں جتنا جلد ہوسکے کوشش کی جاتی ہے کہ دینیات کی تعلیم سطحی سی دی جائے طالب علم بھی کم ہی دینیات پر توجہ دیتے ہیں میرے خیال میں یہ ہرماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس طرح وسائل خرچ کر کے اپنے بچوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اتنا ہی توجہ دینی تعلیم پر بھی دیں بچوں کو گھر میں ناظرہ وسورتیں حفظ کروانا مشکل نہیں بچے ذرا سمجھدار ہوجائیں تو قریبی مسجد میں دینی تعلیم کیلئے پابندی سے بھجوائیں اور خود ان سے روزانہ کا سبق سنیں۔دنیا فریب ہے اس لئے انسان فریب کا شکار جلدی اور بآسانی ہو جاتا ہے دین وآخرت حقیقت ہے حقیقت کو پانے کیلئے محنت وریاضت کرنی پڑتی ہے دینی تعلیم کا حصول نہایت آسان اور ارزان ہے بس ذرا سی توجہ اور خلوص کی ضرورت ہے والدین اپنے بچوں کی کم از کم اس قدر دینی تربیت ضرور کریں کہ وفات کے بعد صالح اولاد کی طرف سے تو شہ ملتا رہے اور وہ محروم نہ ہوں۔باجوڑ سے سال اول کے طالب علم عزیر احمد کو شکوہ ہے کہ قبائلی اضلاع سب سے پسماندہ اضلاع ہیں یہاں کے عوام کو تعلیم وصحت اور بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں باجوڑ میں صرف دو بوائز کالج میں اس میں بھی اساتذہ اور عملے کی کمی ہے طالب علموں کو تدریس ورہنمائی کیلئے اساتذہ ہی میسر نہ آئیں اور شہروں کی طرح طالب علموں کو ٹیوشن کے وسائل ومواقع بھی میسر نہ ہوں تو پسماندہ اضلاع کے طالب کیسے آگے آئیں؟نوجواںطالب علم نے جن مسائل کاتذکرہ کیا ہے اور جو سوالات اٹھائے ہیں اس پر مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ حکومت آئینہ دیکھ کر بتائے کہ جو دعوے وہ کررہی ہے اس کے حوالے سے لوگ کیا کہتے ہیں۔مشکلات اور شکایات صرف قبائلی اضلاع ہی کے نوجوانوں کو نہیں بلکہ صوبے کے بے شمار علاقے ایسے ہیں جہاں یہی صورتحال ہے ۔لکی سب ڈویژن بیٹنی یا بھٹانی سے ایک نوجوان طالب علم کا برقی پیغام ہے کہ بھٹانی یا بیٹنی بہرحال جو بھی درست ہو اس علاقے میں نہ سکول ہیں اور نہ کالج نہ ہی سڑکیں کچی سڑکیں بارش ہونے پر سیلاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں جب تک پانی نہ اترے خواہ کتنا بھی ضروری ہو سفر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔علاقے میں دوسال سے بجلی بھی نہیں آئی لوگ دور دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں علاقے کے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی ووٹ مانگنے آئے تھے اس کے بعد عوام سے چھپتے پھر ہے ہیں ہم فریاد کریں تو کس سے۔میرے خیال میں جس قسم کی صورتحال اور حالات ہیں اس میں محض کال کرنے کیلئے ایک نمبر دینا کافی نہیں شکایات کیلئے نمبر دینے کی ضرورت اس لئے ہی ہوتی ہے کہ شکایت کا علم نہ ہو یہاں مسائل ومشکلات چیخ چیخ کر عوام دھائی دے دے کر حکمرانوں کو متوجہ کرر ہے ہیں حکمرانوں کو مسائل کا بخوبی علم ہے اور عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں کی مشکلات سے بخوبی واقف ہیں۔اگر کی ہے تو مسائل پر توجہ دینے کی اور سنجیدگی کے ساتھ عوام کو ان حالات سے نکالنے کی شکایات سن کرسنی ان سنی کردی جائیں تو مسائل کیسے حل ہوں اور کون حل کرے ۔کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں۔
ہر بدھ کو شائع ہونے والے اس کالم کیلئے قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔