یوم یکجہتی کشمیر

آج یوم یکجہتی کشمیر ہے جو بر سو ں سے پا کستانی حکومت منا تی آرہی ہے۔ آج کا دن یہ تقاضا کر رہا ہے کہ محض رسمی طور پر دن منا نے کی بجا ئے خود احتسابی کا تقاضا ہے کہ اس امر کا جا ئزہ لیا جا ئے کہ اکہتر بہتر سالو ں سے کشمیر ی عوام جس کر ب میں مبتلا ء ہیں اس سے نجات دلا نے کے لیے کیا کر دار ادا کیا گیا اور کوئی کر دار اد انہیں کیا جا سکا تو اس کمزوری کی وجہ کیا رہی ہے اور کسی پر اس کی ذمہ داری عائد ہو تی بھی ہے یا پھر صرف ایسے مواقع کے لیے دن ہی منا یا کر یں گے اس امر کا بھی جو اب تلاش کر نا ہو گا کہ جب مو دی سرکا ر نے کشمیر ہڑپ کر نے کا قدم اٹھا یا تو اس وقت دنیا کہا ں کھڑی تھی ، اس نے کشمیر کے عوام کے لیے کیا ردعمل ظاہر کیا اور کشمیر یو ں کے حق میں عالمی رائے عامہ یکطر فہ طور پر کیو ں رہی ، چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر اما م فرما رہے ہیں کہ کشمیر پر بھارت کی گرفت کمزور ہو چکی ہے ، تو کیا قبل ازیں بھارت کی گرفت کیا مضبو ط تھی حا لا نکہ رو ز اول سے ہی بھا رت کو مقبو ضہ کشمیر میں استحکا م حاصل نہ تھا ، آج مقبوضہ وادی میں بھارت کی جو حالت ہے وہ ایک لا کھ کشمیر یو ں کی شہادت کا ثمر ہے جس کو برہا ن وانی نے شہید ہو کر جلا بخشی ہے ، مسلم لیگ کے رہنما ء خواجہ آصف کا یہ یہ سوال اپنی جگہ فکر انگیز ہے کہ حکومت قوم کو بتائے کہ گزشتہ ایک سال سے پاکستان نے کشمیر کے لیے کیا کیا ، پیر کے روز قومی اسمبلی میں کشمیر کے مسلئے پر بحث کے دوران کشمیر کمیٹی کے چئیر مین نے جتنا بھی کہا وہ سب ما ضی کے حالا ت پر مبنی تھا ، خواجہ آصف نے یہ بھی یاد دلا یا کہ وزیر اعظم نے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ جب مودی وزیر اعظم بنے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جا ئے گا کیا مسئلہ کشمیر حل ہو گیا ہے یا مزید گمبھیر ہو گیا ہے ، بلکہ ہو ا یہ ہے کہ بھارت کے مسلما ن نئے شہری قوانین کی بناء پر مشکل کا شکا ر ہو چلے ہیں ، اس معاملے میں پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنا قد کاٹھ کھو یا ہے یا اس کو بڑھوتی دی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ چین ، ملا ئیشیا ، ایر ان اورترکی کے علا وہ ایک آدھ ملک نے کشمیر کے معاملے پر ساتھ دیا باقی دنیا حتیٰ کہ سعودی عرب جیسا ملک بھی ایک طر ف ہٹارہا جس کی دوستی پر وزیر اعظم نا ز کیا کرتے ہیں اور آج ملا ئیشیا جا کر کوالا لمپور کا نفرنس میں عد م شرکت پر اظہا ر افسو س بھی فرما رہے ہیں ، آج عوام میںیہ احسا س اجا گر ہے کہ کشمیر کے لیے کچھ نہ کر سکے ، البتہ وزیر اعظم عمر ان خان نیا زی نے ہر جمعہ کو احتجا ج کر نے کا اعلا ن کیا تھا اور اس روز بھارت اور کشمیر کی جانب منہ کر کے مو دی سرکا ر کو مقبوضہ کشمیر سے نکل جا نے کا راگ سنا نے کی طرح ڈالی تھی ایک آدھ جمعہ تو ایسا ہو ا س کے بعد یہ احتجا ج بھی پھر ہو گیا ، وفاقی وزیر امو ر کشمیر علی امین گنڈا پور نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ یہ عمر ان خان ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو کو صاف کہا کہ کشمیرپر دوایٹمی طاقتیں ٹکر اؤ کی طر ف جا سکتی ہیں ان کا یہ بھی بتا نا تھا کہ وزیراعظم نے جس طر ح اقوام متحدہ میں آواز اٹھا ئی کشمیر یو ں نے جشن منا یا جو فیصلہ کشمیری کر یں گے پاکستان وہ قبول کر ے گا یہ بات تو اس روز سے پاکستان کا ہر حکمر ان کر رہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر ی عوام ہی کر یں گے اور اس کے لیے پاکستان نے ما ضی میں کشمیر کے عوام کے لیے استصواب رائے کی مساعی بھی مگر جب سے مو دی سرکار ہڑپ کر نے کی پا لیسی پر گا مزن ہوئی تب سے استصواب رائے کی شنید نہیں ہے اورنہ کوئی دباؤ نظر آیا ہے قومی اسمبلی میں جماعت اسمبلی کے رکن مو لا نا عبدالاکبر نے کھر ی بات کی ہے کہ کشمیریو ں نے اپنی نہیں پاکستان کی جنگ لڑی ہے ، اتفاق پیدا کر نے کی بجائے وزیر امور کشمیر کیچڑ اچھال رہے ہیں سب ہی یہ کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر کچھ ہو نا چاہیے مگر کیا ہو نا چاہیے اس بارے میں حکومت اور اپوزیشن خامو ش ہے ان کا مئو قف ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف جہا د سے حل ہو گا چلو عبدالا کبر نے اپنا مئو قف بتادیا ، اسی طرح دیگر جماعتو ں کو بھی کھل کر بات کر نا چاہیے ، کشمیر کو بھارت میں ضم کر نے کا اقدام کوئی معمولی عمل نہیں ہے بلکہ سنگین تر معاملہ ہے آج مقبوضہ کشمیر کے حالا ت بتارہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ دید یا ہے اس کے باوجو د یہ راگنی الا پنا کہ کشمیر ی عوام ہی فیصلہ کر یں گے اور فیصلہ کس طر ح کیا جاتا ہے اس رخ کو بھی عیا ں کر دیا جا ئے خالد مگسی درست فرما رہے ہیں کہ صرف باتو ں سے کچھ حل نہیں ہوگا اس کے لیے عملی اقدام کر نا ہو گا ، جس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ مو جو د ہ حکومت انا کا مسئلہ نہ بنا ئے اور سیدھے بھاؤ حزب اختلا ف کی تمام جماعتو ں نیز پارلیمنٹ سے باہر جماعتوں کی مشترکہ کا نفرنس بلوائے اور ان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو اس بارے میں واضح ترین پالیسی مرتب کر یں اور پھر کل جماعتی کانفرنس سے اس پا لیسی کی منظوری لی جا ئے ، جہاںتک مقبوضہ وادی کشمیر کا تعلق ہے تو اس بارے میں بھارتی حکومت کا یہ ادعا ہے کہ وہا ںکے حالا ت سب ٹھیک ہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے ، یہ سب پر وپیگنڈہ ہے ، اگر یہ سچ ہو تا تو اس بارے میں اگر کوئی مسلما ن بھارتی رائے زنی کر تا تو وہ بھی کسی حد تک بھارت کے مئو قف کے لیے سود مند ہو تا مگر بالی وڈ کے معرو ف اداکا ر شتر وگھن سنہا جو غیر سیاسی شخصیت ہیں ، اور غیر مسلم بھی ہیں وہ تک مو دی سرکا ر پر برس پڑے ہیں ، شتر وگھن سنہا نے کہا ہے کہ مودی سرکا ر جھوٹ بول رہی ہے مقبوضہ کشمیر میںامن نہیں ہے ، پو رے کشمیر کو سیل کر دیا گیا ہے ، انہوں نے مزید کہا ہے کہ یو رپی یو نین میں مو دی کے گیت گانے والو ں کو داما د کی طر ح کشمیر لے جا یا گیا ، انہیں سرینگر جا نے نہیں دیا گیا یورپی یو نین کے چھ سو اکا ون ارکا ن نے خود کہا کہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے، اس کے بعد کو ئی ایسی بات رہ جا تی ہے کہ اس امر کا انتظار کیا جائے کہ کشمیری عوام کیا فیصلہ کر تے ہیں ، کشمیر عوام تو سات دہائیو ں پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اس کے بعد جن کی ذمہ داری ہے ، انھو ں نے کیا اس امر کا جائزہ لینے کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کر نا ہے کہ اب انھو ں نے اپنی ذمہ داریا ں کس طو رنبھانے ہیں یا صرف لو ریا ں گا کر کشمیر یو ں کو آزادی کے خواب دکھانے ہیں یا پھر عالمی برادری کو جھنجھوڑنا ہے کہ وہ جا گ جا ئیں۔