یوٹیوب پر جسٹن بیبر کی زندگی پر بنی ویب سیریز جاری

دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے معروف کینیڈین نژاد امریکی گلوکار27 سالہ جسٹن بیبر کی زندگی پر 10 حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’دی ڈارک سیزن‘ کو ریلیز کردیا۔

یوٹیوب نے دسمبر 2019 میں گلوکار کی زندگی پر دستاویزی ویب سیریز جاری کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب ان کی زندگی پر بنائی گئی سیریز کو پیش کردیا گیا۔

مختلف ویڈیوز کی صورت میں ریلیز کی گئی ویب سیریز میں جسٹن بیبر کے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز بھی شامل ہیں جب کہ ویب سیریز میں ایسی ویڈیوز اور تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔

ویب سیریز میں جسٹن بیبر کی اہلیہ امریکی ماڈل ہیلی بالڈوین سمیت گلوکار کی زندگی میں اہمیت رکھنے والے دیگر افراد کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جو جسٹن بیبر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جسٹن بیبر کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی ویب سیریز کی ہر ویڈیو تقریبا 15 منٹ دورانیے کی ہے اور ان ویڈیوز میں گلوکار خود کو پیش آنے والے مسائل اور اپنی کامیابیوں پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویب سیریز میں ایک بار پھر جسٹن بیبر نے نشے کرنے کی بری عادت کو تسلیم کیا اور بتایا کہ کس طرح وہ انتہائی کم عمری میں چرس اور ہیروئن سمیت دیگر نشہ کرنے لگے تھے۔

ویب سیریز میں گلوکار بتاتے ہیں کہ نشے کی عادت کی وجہ سے جہاں ان کا کیریئر متاثر ہوا، وہیں ان کے ذاتی تعلقات بھی متاثر ہوئے اور انہیں محسوس ہونے لگا کہ ان کا رویہ دوسرے لوگوں سے درست نہیں۔

جسٹن بیبر کا کہا تھا کہ کم عمری میں شہرت اور دولت کی وجہ سے انہیں کئی چیزوں کو سمجھنے میں مشکل ہوئی اور انہوں نے بلوغت کے فوری بعد منشیات کا استعمال کیا جو ان کے لیے ذہنی بیماریوں کا باعث بھی بنا۔

کینیڈین نژاد امریکی گلوکار کا کہنا تھا کہ کم عمرے میں نشے کی بری عادت کی وجہ سے وہ ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہوگئے اور انہیں اپنے علاج کے لیے بہت پیسہ خرچ کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ منشیات کی عادت نے انہیں تقریبا برباد کرکے رکھ دیا تھا اور باقی رہی سہی کثر ڈپریشن نےپوری کردی تھی تاہم پھر وہ صحت مند زندگی کی طرف لوٹے اور انہوں نے ایک نئی زندگی کی شروعات کی۔

ویب سیریز میں جسٹن بیبر نے خود کو ہونے والے ’لائم‘ کےمرض سمیت دیگر بیماریوں کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ انہیں شدید پریشانی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ ’لائم‘ کا مرض دراصل حشریات کے کاٹنے کے بعد ہوتا ہے اور اس مرض میں انسان کی آنکھوں کی رنگت میں تبدیلی سمیت ان کے چہرے پر سرخ نشانات بننے لگتے ہیں جب کہ جسم کا دیگر حصہ بھی سرخ نشانات سے متاثر ہوجاتا ہے۔

عام طور پر یہ مرض ایک سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا تاہم یہ مرض پھیلنے والا ہے اور متاثرہ شخص کئی ہفتوں تک بخار اور جسم کے درد سمیت سر کے درد میں مبتلا رہ سکتا ہے۔

جسٹن بیبر نے ویب سیریز میں کیریئر میں پیش آنے والی دیگر مشکلات کا ذکر بھی کیا۔