اپنے بغیر ’میرے پاس تم ہو‘ کا سیکوئل بننے نہیں دوں گا، ہمایوں سعید

مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنانے والے اور گزشتہ ماہ 25 جنوری کو اختتام پذیر ہونے والے ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ میں مرکزی اداکار ہمایوں سعید نے کہا ہے کہ ’اگر انہیں کاسٹ کیے بغیر میرے پاس تم ہو کا سیکوئل بنایا گیا تو وہ اس کو بننے ہی نہیں دیں گے’۔

میرے پاس تم ہو کا آغاز اگست 2019 میں ہوا تھا اور اس کی آخری قسط 25 جنوری 2020 کو نشر کی گئی تھی جس میں ڈرامے میں اہم کردار دانش دل کا دورہ پڑنے کے بعد چل بسے تھے، یہ کردار ہمایوں سعید ادا کررہے تھے۔

ڈرامے کی مقبولیت کے بعد اس کے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ڈرامے کا سیکوئل بھی لکھ سکتے ہیں۔

خلیل الرحمٰن قمر نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اگرچہ وہ اپنے ڈراموں کے سیکوئل نہیں لکھتے تاہم ’میرے پاس تم ہو‘ کا سیکوئل لکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ وہ سیکوئل لکھیں گے یا نہیں مگر انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر سیکوئل لکھا جا سکتا ہے۔

ڈرامے کے سیکوئل لکھے جانے کے بعد یہ سوال بھی کیا جا رہا تھا کہ اگر سیکوئل لکھا بھی گیا تو پہلے سیزن میں مر جانے والے ’دانش‘ کو سیکوئل میں کیسے زندہ کیا جائے گا؟

اب اس سوال کا جواب ہمایوں سعید نے دیا ہے اور کہا ہے کہ لازمی نہیں کہ ’میرے پاس تم ہو‘ کا سیکوئل بنایا جائے۔

معروف اینکر مبشر لقمان سے ان کے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے ہمایوں سعید نے بتایا کہ وہ بھی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ میرے پاس تم ہو کا سیکوئل بنایا جائے گا یا نہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’اگر ان کے بغیر میرے پاس تم ہو کا سیکوئل بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ ایسا کرنے نہیں دیں گے‘۔

اداکار کا کہنا تھا کہ لازمی نہیں ہے کہ میرے پاس تم ہو کا سیکوئل بنایا جائے، اس ڈرامے کا اسی نام سے نیا سیزن بھی بنایا جا سکتا ہے جس کی کہانی اس سے ملتی جلتی ہو۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ میرے پاس تم ہو کا پریکوئل بنایا جائے یعنی جو کہانی ڈرامے میں دکھائی گئی نئے ڈرامے میں اس کہانی سے پہلے کی کہانی پر بھی ڈراما بنایا جا سکتا ہے۔

ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے میرے پاس تم ہو کے سیکوئل یا پریکوئل کے حوالے سے کچھ نہیں سوچا تاہم ان کے پاس بہت ساری تجویزیں زیر غور ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں اداکار نے بتایا کہ میرے پاس تم ہو کا اسکرپٹ ان کے پاس 5 سال سے پڑا ہوا تھا اور وہ اپنی فلموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ڈرامے کا اسکرپٹ نہیں دیکھ پائے تھے۔

اداکار نے ڈرامے میں ’دو ٹکے کی عورت‘ اور خود کو مارے جانے کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ اگر ڈراما اسی طرح نہ بنتا تو شاید اتنا کامیاب نہ ہوتا۔

انہوں نے ڈرامے کے اختتام کے بعد کا ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا اور کہا کہ ڈراما ختم ہونے کے بعد وہ ریلوے اسٹیشن گئے تو ایک بزرگ خاتون انہیں زندہ دیکھ کر انہیں چومنے لگیں۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ بزرگ خاتون نے حیرانی سے پوچھا کہ ’دانش‘ بیٹا تم زندہ ہو‘۔

اداکار نے بزرگ خاتون کی محبت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ ڈرامے میں دانش کی موت نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

خیال رہے کہ اس ڈرامے کی ہدایات ندیم بیگ نے دیں جبکہ حرا مانی، سویرا ندیم، انوشے عباسی، مہر بانو، سید محمد احمد اور رحمت اجمل نے اہم کردار نبھائے۔

ڈرامے کی کہانی شادی شدہ جوڑوں کے گرد گھومتی ہے، ڈرامے میں ایک شادی شدہ خاتون کو دوسرے شادی شدہ مرد کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے اور اپنے شوہر سے طلاق حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ڈرامے میں دکھایا گیا تھا کہ مہوش (عائزہ خان) ایک غریب گھرانے کی شادی شدہ خاتون ہوتی ہیں جو پیسوں کی لالچ میں اپنے شوہر دانش (ہمایوں سعید) کو دھوکا دے کر ان سے طلاق لے کر امیر شخص ‘شہوار’ (عدنان صدیقی) سے تعلقات استوار کرکے ان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔

دونوں کی شادی سے قبل ہی امیر شخص شہوار کی پہلی اہلیہ ماہم (سویرا ندیم) امریکا سے واپس آجاتی ہیں اور مہوش کو بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے امیر شوہر کو جیل بھجوا دیتی ہیں۔

ڈرامے کی آخری قسط میں دانش اپنی سابق اہلیہ مہوش کے گھر ان سے ملنے جاتے ہیں تاہم دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کا انتقال ہوجاتا ہے۔