چرا عاقل کند کاری کہ باز آرد پشیمانی

وزیراعظم عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دوست ملک کے تحفظات دور ہونے کے جس امر کا اظہار کیا ہے اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ کوالالمپور کانفرنس کی تجویز دیتے ہوئے اور اس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان نے سفارتی طور پر نہ تو اس کے عوامل کا جائزہ لیا تھا اور نہ ہی دوست ممالک کو اعتماد میں لیا تھا۔ بعد میں وہ تحفظات کیسے دور ہوئیں ان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ ایک جانب اُمت مسلمہ کے امت واحدہ ہونے اور اتحاد پر زور دیا جاتا ہے اور دوسری جانب اسلامی ممالک کی ایک نمائندہ مگر غیرفعال تنظیم کی موجودگی میں بجائے اس کے کہ اسلامی ممالک اسے فعال بنانے اور اس کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے پر توجہ دیتے علیحدہ سے ایک اور محدود پلیٹ فارم کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی، ایسا کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ اگر اپنی پوزیشن اور دوست ممالک کے اثرانداز ہونے کے امکان کا جائزہ لیتی تو اعلان اور شدید خواہش کے باوجود شرکت سے معذرت کی نوبت نہ آتی۔ کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کا اعلان کرتے وقت شاید وزارت خارجہ سے مشورے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اب ایک مرتبہ پھر اس پر جو معذرت خواہانہ لب ولہجہ اختیار کیا گیا ہے معلوم نہیں اس میں بھی وزارت خارجہ کی مشاورت شامل ہے یا نہیں، نیز آئندہ سال شرکت کے اعلان بارے اس دوست ملک کو اعتماد میں بھی لیا گیا یا نہیں یا ایک مرتبہ پھر معذرت کی نوبت آئے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکوں کے درمیان تعلقات مفادات پر مبنی ہوتے ہیں جہاں احتیاط بھی اس میں شامل ہوں تو پھر زائد ازضرورت احتیاط کرنا فطری امر ہوتا ہے۔ جہاں تک اسلامی ممالک کی تنظیم کا سوال ہے او آئی سی میں جب پاکستان کے دشمن ملک کو اس پر فوقیت دینے کی مثال موجود ہو اس تنظیم سے کیسے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اجلاس بلاکر بھارت کی مذمت کرے۔ اس سے بڑھ کر مسلم اُمہ کی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ مسلم ممالک نہ صرف متحد نہیں بلکہ وقت آنے پر ایک دوسرے کیخلاف اغیار کو کندھا پیش کر نے سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کیخلاف کارروائی میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج خطے کے حالات مختلف ہوتے، اسی طرح کئی مثالیں مشرق وسطیٰ میں نظر آتی ہیں۔ خود اسلامی ممالک ایک دوسرے کیخلاف محاذ آراء ہیں جب مسلمانوں پر مظالم کی بات ہوتی ہے تو کشمیری اور روہنگیا مسلمانوں کا تو تذکرہ ہوتا ہے مگر دیگر ممالک میں مسلمانوں پر بد ترین مظالم کے تذکرے کی آڑ میں دوستی اور مفادات آڑے آتے ہیں۔ کس قدر انحطاط کا عالم ہے کہ آج مسلم رہنما یہودیوں کے اتحاد کی مثالیں دیتے ہیں اور مسلم امہ انتشار کے باعث وسائل اور آبادی دونوں کی کثرت کے باوجود ناکامی سے دوچار ہے۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں،قرآن عظیم ہی کی گواہی ہے کہ یہودونصاریٰ اور کفار کبھی بھی مسلمانوں کے دوست ہو نہیں سکتے، ستم یہ ہے کہ ہم نہ تو ان تعلیمات وہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی دنیا میں اپنی تباہی خود اپنے آنکھوں دیکھنے اور اس کی وجوہات کا علم ہونے کے باوجود اس کے تدارک کیلئے متحدہ ہوتے ہیں اور الزام اغیار پر لگاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے انحطاط کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود مسلمان اور خاص طور پر مسلم ممالک کی قیادت ہے جب تک مسلم ممالک مفادات اور تعلقات کوقربان کر کے امت مسلمہ کی فلاح وترقی کیلئے اکھٹے نہیں ہوں گے سطحی قسم کی تنظیموں اور اقدامات سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں پانی سے مزید سستی بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ سٹیشن کو نہ دینے کاجو فیصلہ کیا ہے صوبائی اور عوامی نقطہ نظر میں تو یہ ایک اہم فیصلہ ہے، اسی طرح صوبے کے وسائل سے استفادے کا جو عندیہ دیا گیا ہے یہ سوچ بھی قابل تحسین ہے لیکن بات عملدرآمد کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟البتہ جو قابل عمل امر ہے وہ یہ کہ صوبائی حکومت نے انتہائی کم قیمت پر صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی صوبے کی صنعتوں کو قومی گرڈ سٹیشن سے نصف قیمت پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ صوبے میں 15ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور صوبے کی ضرورت 3ہزار میگا واٹ ہے۔ تربیلا سے ایک روپے میں فی یونٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور ایک روپے میں پیدا ہونے والی بجلی خیبر پختونخوا کو15روپے فی یونٹ میں واپس فروخت کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی نے مشرق ٹی وی کے پروگرام میں جن احسن خیالات کا اظہار کیا ہے اس پر عملدرآمد کی نوبت آئے اور صوبائی حکومت عملی اقدامات کر سکے تو یقینا یہ صوبے کے عوام کے حق میں ایک انقلابی قدم اور حقیقی معنوں میں تبدیلی ہوگی۔ صوبے کی صنعتوں میں تبدیلی ہوگی، صوبے کی صنعتوں کو سستے داموں بجلی دینے کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی اعلان کیا تھا، اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے اس حوالے سے درست معلومات دستیاب نہیں۔ خیبرپختونخوا میں علیحدہ سے ٹرانسمیشن لائن کی عدم موجودگی اور بجلی کی تقسیم کا مرکزی انتظام پیچیدگیوں کا باعث ہے۔ خیبرپختونخوا میں گیس کی پیداوار کے پیش نظر صوبائی سطح پر گیس کمپنی کے قیام کا بھی عندیہ دیا گیا تھا، اس حوالے سے بھی دو تین دور حکومت گزر جانے کے باوجود کوئی قابل ذکر پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ گندم کی پیداوار اور بجلی وگیس کی پیداوار اور اس پر کنٹرول وحق کا اظہار حقیقت پسندانہ امر نہیں۔ اس میں کوئی شک وشبے کی گنجائش نہیں کہ پن بجلی کی پیداوار خیبرپختونخوا میں ضرورت سے کہیں بڑھ کر ہے اور گیس کی پیداوار میں بھی بڑی حد تک صوبہ خود کفیل ہے اور مزید کی گنجائش ہے جس سے استفادے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے صوبہ ان وسائل سے آئین اور قانون کے مطابق استفادہ کیلئے ایسے انتظامات کرے جو ممکن ہوں جہاں تک موجودہ صورتحال کا سوال ہے آئین اور قانون کے مطابق صوبے کی بجلی کی پیداوار کا خالص منافع اس کا حق ہے، اس وقت وفاق کو صوبے کوبجلی کے خالص منافع کی مد میں 128ارب روپے سالانہ ادا کرنے ہیں لیکن اس کی ادائیگی وفاق میں خیبرپختونخواسے اکثریت حاصل کرنے والی دور حکومت میں بھی نہیں ہو رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اگر وفاق صوبے کے حصے کی رقم اور یہاں کے عوام کے حق کی ادائیگی کا بندوبست کرے تو صوبہ مالا مال ہو جائے، صوبائی حکومت کو جہاں صوبے کے وسائل کو صوبے ہی میں بروئے کار لانے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے وہاں وفاق سے بجلی کے خالص منافع کی سالانہ ادائیگی اور بقایاجات کی ادائیگی کیلئے زور دینا چاہئے۔ صوبے میں دوروپے یونٹ بجلی پیدا کر کے پندرہ روپے میں خریداری اپنی جگہ ہماری پیداوار کو ہم ہی پر مہنگے داموںبیچ کر جو منافع کمایا جارہا ہے ہماری جیبوں سے نکلی اس رقم کی بھی واپسی نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے جس طرح سابق دور میں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر عوامی وحکومتی نمائندوں نے احتجاج کیا تھا کیا اب اسی طرح کی کوئی سعی ممکن نہیں؟۔