یہ آخری رومان بھی بکھر گیا تو کیا ہو گا؟

سماج آگے نکل گیا، سیاست پیچھے رہ گئی۔ سیاست کے سورماؤں کو کچھ خبر ہے کہ وقت کا موسم بدل رہا ہے اور تہہ خاک کتنے طوفان انگڑائی لے رہے ہیں؟ سوشل میڈیا محض تفنن طبع کا عنوان نہیں، اس نے معاشرے کے سوچنے کے انداز بدل دئیے ہیں۔ بیدار معاشرے کے اولین نقوش میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سوال اُٹھاتا ہے۔ ہمارے سماج کی ہتھیلی پر بھی آج بہت سے سوال رکھے ہیں۔ تقدیس میں لپٹی بارگاہوں کے باہر اب خمیدہ گردنوں کا ہجوم نہیں، گستاخ لہجوں کا تلاطم ہے۔
کسی کا خیال ہے سوشل میڈیا کی طنابیں کھینچ کر بستی میں ساحل کا سناٹا اُتار دیا جائے تو یہ شاید ممکن نہ ہو۔ المیہ یہ ہے کہ سماج کا یہ اضطراب اور اس کے یہ رجحانات ہماری قومی سیاست کا موضوع ہی نہیں۔ سیاست سماج سے لاتعلق ہوتی جا رہی ہے اور سماج سیاست سے۔ سماجی تحریکیں سیاسی جماعتوں کا متبادل بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔ بظاہر یہ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگے، اس کا انجام خوشگوار نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتیں اپنی ساری خامیوں کے باوجود خیر کی قوت ہوتی ہیں کیونکہ وہ سماج کو جوڑے رکھتی ہیں۔ یہ لاتعلق اور غیر متعلق ہو جائیں تو سماجی انتشار پیدا ہوتا ہے اور سماجی انتشار حادثے کا عنوان ہوتا ہے۔ آزادی رائے کے سکڑتے دائروں سے گمشدہ لوگوں کے لواحقین کے نوحوں تک اور مہنگائی کے آزار سے بے حال خلق خدا کی مناجات سے سڑک کنارے پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے بچوں کے رخساروں پر سہمے آنسوؤں تک، کتنے ہی المیے سماج کی نفسیاتی گرہ بنتے جا رہے ہیں لیکن کوئی المیہ ہماری قومی سیاسی بیانیے میں جگہ نہیں بنا سکا۔ معاشرے میں کئی سوالات مانند شعلہ دہک رہے ہیں لیکن قومی سیاست ان سے بے نیاز بیٹھی دہی کیساتھ کلچہ کھا رہی ہے۔ انسانی المیوں پر ردعمل سماجی تحریکوں کی صورت میں ظہور کر رہا ہے لیکن قومی سیاست کو کوئی خبر نہیں۔ جمہوریت قائم ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے قادرالکلام ترجمانوں سمیت میدان میں موجود ہیں لیکن ان مسائل کا کہیں ذکر نہیں۔ ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قومی زندگی زیادہ عرصہ خلا کی متحمل نہیں ہوا کرتی۔ یہ خلا کون پورا کرے گا؟ سماج کا سنجیدہ مطالعہ ہو تو معلوم ہو یہ سوال کتنا سنگین ہے اور اس میں کتنی معنویت ہے۔ بھٹو اس ملک کی سیاست میں پہلا رومان تھے، عمران خان آخری۔ یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے سماج کی محرومی کو زبان دی اور اسے سیاسی بیانیہ بنا ڈالا۔ اگرچہ اپنے بیانیے کو انہوں نے خود ہی جاگیرداروں کی دہلیز پر قربان کر ڈالا لیکن بھٹو کی مظلومانہ موت نے اس رومان کی کارکردگی اور تضادات کو کبھی پوری معنویت کیساتھ زیربحث نہیں آنے دیا۔ بھٹو یونانی المیے کا کوئی عنوان بن کر رہ گئے۔ مظلومیت کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے چنانچہ عشروں اس ملک میں بھٹو فیکٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتا رہا۔ مظلومیت کی جگہ کارکردگی زیربحث آتے آتے کئی عشرے گزر گئے اور جب یہ زیربحث آئی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آج پیپلز پارٹی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ سیاست اسے جو بھی عنوان دے، پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر جماعت کا یوں سمٹ جانا سماج اور وفاق کیلئے کوئی خوش آئند بات نہیں۔ نواز شریف نے بھی بھرپور اور کامیاب سیاست کی لیکن وہ کسی رومان کا عنوان نہ تھے۔ بھٹو کے رومان کے جواب میں ایک مصنوعی بندوبست قائم کیا گیا، اس کا نام نواز شریف تھا۔ بعد میں اگرچہ انہوں نے اپنی سیاسی حیثیت کو اپنی فردعمل سے مستحکم کیا لیکن وہ کسی رومان کا نام نہیں، بے رحم عملیت پسندی کا نام ہیں۔ اقتدار سے محرومی کے بعد انہوں نے اپنے تئیں نظریاتی سیاست کا تاثر دینے کی کوشش کی اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا لیکن یہ نعرہ دو ساون بھی نہ دیکھ سکا اور اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ یہاں نظرئیے کے مطلع سے شروع ہونیوالی غزل مقطع تک پہنچتی ہے تو مقصود و مطلوب صرف ہاؤس آف شریف کا مفاد ہوتا ہے۔اس منجمد اور برفاب ماحول میں عمران خان ایک رومان بن کر سامنے آئے۔ طویل عرصے کے بعد عام نوجوان کو انہوں نے قومی سیاسی دھارے کا حصہ بنا دیا۔ پلکوں میں سپنوں کی حدت لئے نوجوان ان کے ہمراہ چلے۔ جوڑ توڑ کی روایتی سیاست کی یخ بستگی میں انہوں نے امید کے چراغ جلا دئیے۔ زندگی پل پل تبدیلی کا نام ہے معلوم نہیں کل کیا ہوا لیکن لمحہ موجود میں سیاست کا یہ آخری رومان تھا۔ افسوس اس آخری رومان کا حال بھی تنگ ہے۔ تبدیلی نہ ہوئی، سمندِ ناز پر ایک اور تازیانہ ہو گیا۔ وارفتگی اب سمٹ رہی ہے۔ رومان کے سائے غروب ہو رہے ہیں۔ امید کا روشن دیا اب ٹمٹمانے لگا ہے۔ چراغ سحر کی مانند غیر یقینی ہے۔ اخلاقی برتری قص ماضی ہوئی۔ شب کے شیون سے اب حسرتیں پھوٹ رہی ہیں۔ تبدیلی تو آگئی ہے مگر تبدیل کچھ نہیں ہوا۔ وہی چہرے، وہی گھات، وہی نام اعمال، وہی بے نیازی۔ عمران کا رومان شوریدہ سر رومان تھا۔ یہ آخری رومان بھی اگربکھر گیا تو کیا ہو گا؟ سیاسی جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی کی آخری کوشش کا نام عمران خان تھا۔ یہ کوشش بھی اگر ناکام ہو گئی تو؟ پھر لاتعلقی کا ایک سونامی اٹھے گا۔ قومی سیاست غیر متعلق ہو جائے گی۔ سیاسی قیادت غیر اہم ہو جائے گی۔ یہ عوام سے کٹ کر ڈرائنگ رومز میں ہونے والی جوڑ توڑ کا عنوان بن کر رہ جائے گی۔ پھر قومی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گا۔ کسے معلوم اس خلا کو کون بھرے؟
بشکریہ : انڈیپنڈنٹ