فروری کے بعد۔۔۔؟5

اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اٹھایاہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس بات میں بھی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں شدید ترین طور پر منقسم ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر پر یکساںمئوقف رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ قاضی حسین احمد مرحوم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ اُنہوں نے تب وزیراعظم نوازشریف کو5 فروری کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا صائب مشورہ دیا اور یوں فروری1991ء سے آج تک5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھر پور جذبات واحساسات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس سال یہ دن سب سے بڑھ کر جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا کیونکہ370شق کے خاتمے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ مسلمان کھلی جیل میں اس اندازسے محصورہیں کہ وہاں کے شیر خوار بچوں تک کے لئے ادویات اور خوراک میسر نہیں اور شاید آج سے قبل ایسی صورت حال کشمیریوں نے نہیں دیکھی تھی۔اب اس وقت کہ وزیراعظم عمران خان ہر فورم پر بھر پور شدت اورقوت کے ساتھ اس مسئلے کو اُٹھا رہا ہے لیکن مودی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی اور کشمیریوں کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور وزیراعظم بار بار سپر پاورز اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو آگاہ کر رہے ہیں کہ مودی کی فاشسٹ اور نسل پرست حکومت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
خدانخواستہ اس کی ابتداء ہوئی تو ہمارا طرز عمل اور مئوقف بلکہ فوری ردعمل کیا ہوگا؟صاف بات ہے کہ ہم بائیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل ایٹمی ملک ہونے کے سبب اپنے لوگوں کو یوں گاجر مولی کی طرح کٹتے ہوئے کب دیکھتے رہیں گے۔۔۔اس لئے اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو اپنے سارے مسائل پر ترجیح اور فوقیت دے دیں۔
اس سلسلے میں سب سے مثالی طرز عمل تو وہی ہے جوقرآن وسنت میں موجود ہے اور وہ یہ کہ بھارت کو انسانیت سوز مظالم سے ہر صورت روکا جائے اور ظاہر ہے کہ اس کا بہترین راستہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ،لیکن شاید اس وقت عالمی حالات کے دبائو اور مجبوریوں اور خود اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے سبب یہ ممکن نہ ہو لیکن دنیا بھر میں اپنے سفارت کاروں اور خصوصی مشنز کے ذریعے ایک کہرام تو بر پا کیا جا سکتا ہے۔
دنیا کو مئوثر انداز میں اب تک کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے تحت جتنی کارگزاریاں ہوئی ہیں اُن کو مدون کر کے دنیا بھر کے اُن اداروں میںپہنچایا جائے جو انسانی حقوق کے حوالے بہت حساسیت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔اس سلسلے میں برطانوی حکومت ،میڈیا اور عوام کو پاکستانی حکومت اور عوام کا یہ مئوقف موثر انداز میں پہنچایا جائے کہ کشمیر کو مسئلہ بنانے میں خود اُس وقت کے وائسرائے مائوٹ بیٹن اور بائونڈری کمیشن کے چیئر مین ریڈ کلف کا بھی بڑاکردار ہے ۔برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی کی تجویزکہ(دونوں ممالک (بھارت،پاکستان)اپنا مئوقف ایک ثالث کے سامنے رکھیں اور وہ فیصلہ دے)پاکستان نے اس تجویزکو قبول کیا اور آج بھی اس کے لئے تیار ہے لیکن بھارت نے مستردکیا ۔
بھارت کی اسی تجویزپراقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئر مین چیکو سلواکیہ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس جوزف کا ربل نے اپنی کتاب۔میں لکھا کہ”بھارت اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کرتارہا ہے”بھارت کی ایسی تاریخی کہہ مکرنیوں چالاکیوں اور وعدہ خلافیوں اور370اور35-Aکے خاتمے پر ٹائم کے خاتمے پرٹائم میگزین نے پچھلے دنوں سرخری جمائی(بھارت نے کشمیر کو قبضہ کرلیا لیکن کشمیریوں کو گنوابیٹھا)۔کشمیر کے حوالے سے فیصلہ کن لمحات قریب آرہے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے لئے تیاری کی جائے۔پیٹ پر پتھر باندھنے کے لئے قوم کو تیار کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔
پاک افواج کو عسکری اور نظریاتی طور پر مزید مضبوط کیا جائے سکول کالج سے لیکر جامعات کی سطح پر تسلسل کے ساتھ ہر ماہ کشمیر کے حوالے سے اس موضوع کے ماہرین سے نوجوان نسلوں کو باخبر بنانے کے انتظامات کئے جائیں۔
بھارت کی ہندووانہ ثقافت اورآرٹ وفلم کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور اپنے میڈیا کے ذریعے اسلامی وپاکستانی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے فلم،ڈراما اور دیگر پروگراموں پر کام کیا جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کئے ہیں تو سفارتی تعلقات بحال رکھنے کا کیامطلب ہے،منافقانہ اور دوغلی پالیسیوں کا وقت گزرچکا ہے اور عرصہ محشر میں صرف دفتر عمل ہی کام آئے گا۔
مسئلہ کشمیر کو سکول کی سطح سے لیکر ایم اے اور ایم فل و پی ایچ ڈی کی سطح پر نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ پاکستان کے لئے ناموس رسالت اور مسئلہ کشمیر موت وحیات کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ہر ان دو اہم ایشوز پر مستند و محقق کتب لکھوا کر دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر پہنچانے کے انتظامات کئے جائیں ورنہ سال میں ایک دن5فروری کو منانا اوروہ بھی چھٹی منا کر منانا شاید اتنا مئوثر نہ ہو کہ انڈیا کے سنگدلانہ رویوں میں تبدیلی لا سکے۔