مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال اورعالمی برادری کی ذمہ داری

مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ آزادی کی جدوجہد میں کشمیری تنہا ہرگز نہیں پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دنیا مودی کا نظریہ سمجھ چکی ہے۔ بھارت نے پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے سنگین غلطی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور مغرب کے اپنے مفادات ہیں’ انہیں بار بار بتانا پڑے گا کہ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے۔ مودی نارمل شخص نہیں۔ ادھر 5فروری کو پاکستان اور منقسم کشمیر سمیت دنیا بھر میں منائے گئے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عوامی اجتماعات’ ریلیوں اور مظاہروں میں شریک لوگوں اور معروف شخصیات نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکیں۔ عالمی ادارے بھارت پر دبائو بڑھائیں تاکہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جاسکے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارتی جبر و استبداد برسر پیکار مظلوم کشمیری عوام کی سفارتی’ اخلاقی اور سیاسی حمایت میں پاکستانی حکومت اور سماج کے مختلف طبقات نے کبھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پاکستان کے عوام کو اپنے کشمیری بھائیوں کے درد اور ان پرتوڑے جانے والے بھارتی مظالم کا بھرپور احساس ہے۔ آزادی کی جدوجہد کی منزل بالآخر طلوع صبح جمہور پر ہی اختتام پذیر ہوگی۔ پچھلے بہتر برسوں کے د وران پاکستان نے کشمیری عوام کا مقدمہ عالمی سطح پر اٹھاتے ہوئے بھارتی جارحیت’ مظالم اور ہٹ دھرمی کو پوری طرح بے نقاب کیا۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا بجا ہے کہ ” امریکہ اور یورپ کے اپنے مفادات ہیں”۔ یہ مفادات بنیادی طور پر سیاسی سے زیادہ معاشی ہیں امریکہ سمیت دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھارت میں 150 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری سے جڑے مفادات ہی ان ممالک کی پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کشمیر اور پاکستان میں اگر کچھ حلقے امریکہ اور یورپی ممالک کی حکومتوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کئے جانے کو معاشی مفادات سے الگ کرکے دیکھتے اور سوچتے ہیں تو یہ بھی کچھ ایسا غلط ہر گز نہیں۔ ان کے سامنے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے حق خود ارادیت کے لئے امریکہ’ یورپی ممالک اور خود اقوام متحدہ کی گرمجوشی پر مبنی مہم اور مختصر عرصہ میں ان دو علاقوں کو مسلم اکثریت کے ممالک سے مذہبی بنیادوں پر آزادی دلوانا ہے۔ ایسے میں اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ اور یورپی حکومتوں کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کئے جانے کی ایک وجہ کشمیریوں کا مسلمان ہونا ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ عالمی رائے عامہ کو تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی سرد مہری’ معاشی مفادات کے تحفظ اور دیگر امور پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ 5اگست 2019ء سے بھارتی مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ سے قبل جو نام نہاد شہری و سیاسی حقوق کشمیریوں کو میسر تھے وہ اب ان سے بھی محروم ہیں۔ ایک طرح سے بھارت اپنے زیر قبضہ کشمیر کو غلاموں کی کالونی بنائے ہوئے ہے۔ ایسی کالونی جس میں آقائوں کے احکامات سے سر تابی کی جرأت کرنے والے غلاموں کو ڈال کر ان پر انسانی ضرورت کی تمام سہولتوں کا دروازہ بند کردیا جائے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ امریکہ’ یورپ عالمی ادارے چند سطری بیانات کو کشمیریوں کے دکھوں کامداوا اور انسانی حقوق کے لئے خیر خواہی کاعمل سمجھتے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ 5اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فانڈنگ مشن بھیجتی۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنے کے ساتھ دنیا کے سامنے بھارت کی مودی سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب کرتیں مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ پچھلے 6ماہ کے دوران کشمیری عوام جس جبر و استبداد کو بھگت رہے ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی برطانوی جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں’ تشدد’ گرفتاریوں’ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں’ خواتین کی بے حرمتی کے بڑھتے ہوئے واقعات’ کاروبار’ انٹرنیٹ اور تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش سے نصف آبادی ذہنی امراض کاشکار ہوچکی۔ مقبوضہ علاقوں کے ہسپتالوں میں سب سے زیادہ ذہنی امراض کے مریض رجسٹر ہوئے جن کی فی ہسپتال تعداد روزانہ 250مریض ہے۔ بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری راتوں رات بھارت میں تیسرے درجہ کے غلام شہری بن کر رہ گئے ہیں۔ کشمیریوں کے قائدین کی بڑی تعداد نا معلوم مقامات پر بند ہے اخبارات کی اشاعت معطل ہے سوال یہ ہے کہ بھارت کی اس ننگی بربریت پر عالمی ضمیر بیدار کیوں نہیں ہوتا؟ کیا اقوام عالم کو آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار ہے؟ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے وقت بھارتی حکومت نے جس بیل آئوٹ پیکج کا اعلان کیا تھا اس پر رتی برابر بھی عمل نہیں ہوا بلکہ ماضی کے مقابلہ میں قابض فوج کے نہ صرف مظالم بڑھے ہیں بلکہ کشمیری عوام یہ الزام لگا رہے ہیں کہ بھارت فوجی وردیوں میں آر ایس ایس کے غنڈوں کو مقبوضہ وادی میں لے آیا ہے جو پچھلے کئی ماہ سے مقبوضہ وادی میں طوفان بد تمیزی برپا کئے ہوئے ہیں۔ شہید مقبول بٹ’ عمر عبداللہ’ محبوبہ مفتی سمیت متعدد رہنمائوں کے آبائی گھروں پر ان غنڈوں نے حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اور بھارتی فوجی ان غنڈوںکی حفاظت کرتے دکھائی دئیے۔ اندریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اقوام عالم اور عالمی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ یہ ایک کروڑ انسانوں کی زندگی کا سوال ہے۔ ادویات’ خوراک اور شہری آزادیوں سے محروم کشمیری آہستہ آہستہ موت کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور عوام کو بخوبی احساس ہے کہ بھارت کے گھنائونے عزائم کیا ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ سمیت دیگر متعدد رہنما کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور دیگر اقدامات کے حوالے سے تواتر کے ساتھ جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ان پر پاکستان اور کشمیریوں کی تشویش بجا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا مجبور و محکوم کشمیریوں کی مدد کے لئے آگے بڑھے تاکہ مقبوضہ وادی میں کوئی بھیانک المیہ جنم نہ لینے پائے۔