وزیر اعظم سے مؤدبانہ درخواست

آزاد کشمیر کی قانون سازی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جاری احتساب کے عمل کے حوالے سے گزشتہ روز جن خیالات کا اظہار کیا ان پر نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان خیالات کے اظہار سے گریز کیا جاتا تو بہترہوتا۔ بلا شبہ احتساب ہونا چاہئے لیکن پاکستان میں ہمیشہ یکطرفہ احتساب کو قانون کی بالا دستی کے طور پر پیش کیاگیا اور آج بھی تقریباً ایسی ہی صورتحال ہے۔ حکومت مخالف سیاستدانوں کے ایک خاص طبقے کے علاوہ باقی سارے فرشتے اور ولی و کامل ہیں والا تاثر بذات خود اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ ” گھر میں چوری کرنیوالوں سے کیسے دوستی کرلوں؟” اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیااحتساب کا عمل مکمل ہوگیا چوری ثابت اور برآمدگی کا عمل مکمل ہوگیا؟ ایسا نہیں ہے بلکہ ابھی جن افراد پر الزامات ہیں ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں یا مقدمات زیر سماعت ہیں مگر یہاں یہ امر بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ اگر محض الزامات ‘ تحقیقات اور مقدمات ہی ثبوت ہیں تو وزیر اعظم اپنی جماعت کے ان بعض رہنمائوں کو جن کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں تحقیقات مکمل ہونے تک سیاسی و حکومتی منصبوں سے الگ کیوں نہیں کرتے۔ مکرر اس امر کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے کہ قانون کی بالا دستی اور احتساب پر دو آراء ہر گز نہیں۔ وزیر اعظم کو دو باتوں کا بہر طور خاص خیال رکھنا ہوگا اولاً یہ کہ ان کے خیالات اور بیانات سے ذاتی نفرت کے اظہار کا تاثر نہ ملے اور ثانیاً یہ کہ احتساب بلا امتیاز و غیر جانبدارانہ ہوتا کہ رائے عامہ اس پر اعتماد کرسکے۔
گندم اور چینی کے بحران کے بعد کاٹن بحران کی دستک
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پرجوش اعلانات کے باوجود مہنگائی کی حالیہ لہر پر قابو پانے اور صارفین کو ریلیف دلوانے کے لئے ابھی تک ٹھوس اقدامات کا ٫آغاز ہوسکا ہے نا ہی عام شہریوں کو مہنگائی کے طوفان سے نجات ملتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک اور خطرہ جو تیزی کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا ہے وہ گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں مقامی طورپر کاٹن کی پیداوار میں امسال 40فیصد کمی ہے جس کے بعد ٹیکسٹائل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے4 ارب ڈالر کی کاٹن بیرون ملک سے منگوانی پڑے گی۔ کیا ہمارے پالیسی ساز اس امر سے آگاہ ہیں کہ 4ارب ڈالر کی کاٹن بیرون ملک سے منگوائے جانے کی وجہ سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی مقامی منڈی میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی؟ حکومت کے پالیسی سازوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ زرعی معیشت والے ملک کو جن مسائل اور بحرانوں کا سامنا ہے ان کاتدارک ٹھوس پالیسیوں سے ہی ممکن ہے تاکہ عوام الناس پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہ پڑے۔
امریکہ خود اپنی پالیسیوں کا بھی جائزہ لے
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سالانہ خطاب میں ایک بار پھر مشرقی وسطیٰ میں امریکہ کے نسلی کردار اور عوام دشمن گروہوں کی سرپرستی کو نظر انداز کرتے ہوئے یہتاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کا خواہش مند ہے حالانکہ حالیہ امریکہ اسرائیلی معاہدہ اور پھر شام میں داعش کے قبضے والے علاقوں میں حکومت کی کارروائی کو روکنے کے لئے سلامتی کونسل کے ذ ریعے مداخلت کی منصوبہ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ امن سے زیادہ عالمی طاقت کو خطے میں اپنے مفادات عزیز ہیں اور یہی مفادات بد امنی کی وجہ ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ دہشت گردوں کو للکارتے امریکی صدر اپنی ریاست کے اس کردار کو کیسے نظر انداز کردیتے ہیں جس سے دنیا میں یہ تاثر عام ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دوسرے خطوں میں امریکی ریاست اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بد امنی کے بیج بوتی چلی آئی ہے۔ یہ امر بھی افسوس ناک ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی حالانکہ مسلم ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔