57مسلمان ممالک کمزور کیوں ہیں؟؟

او آئی سی کا وجود عالم عرب کے لئے ممکن ہے باعث اطمینان ہو مگر دیگر مسلمان ممالک کے لئے او آئی سی بے معنی ہوتی جا رہی ہے۔57مسلمان ممالک کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں جبکہ بقول وزیر اعظم پاکستان ایک کروڑ یہودی ہم سے زیادہ طاقتور اور اثر رکھنے والے ہیں۔ پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کی طاقت کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمان ممالک کو قدرتی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے۔ دنیا میں تیل کے ذخائر کا 71.2فیصد ذخیرہ مسلمان ممالک میں ہے۔ او آئی سی کے شماریاتی ادارے ”SESRIC” کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمان ممالک میں خام تیل کے ذخائر868بلین بیرل ہیں۔ دنیا میں انرجی کی ضروریات کوپورا کرنے کے لئے تیل گیس اور کوئلے کا سہارا لیاجاتا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ممالک ان تینوں اشیاء میں خود کفیل ہیں۔ دنیا کی خام تیل کی پیداوار کا تقریباً25فیصد او آئی سی ممالک کا حصہ ہے جبکہ او آئی سی ممالک کی اپنی توانائی کی ضروریات دنیا کی کل ضروریات کا محض 12فیصد ہیں۔ قدرتی گیس کے ذخائر بھی مسلمان ممالک میں بہت زیادہ ہیں۔ دنیا کے کل ذخائر کا 53فیصد او آئی سی ممالک میں ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2030ء تک دنیا کی توانائی کی ضروریات 125ملین بیرل یومیہ ہوجائیں گی۔ اس تناظر میں مسلمان ممالک کے پاس موجود توانائی کے وسیع ذخائر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ جغرافیائی قربت ایک طاقت سمجھی جاتی ہے۔ مسلمان ممالک کی جغرافیائی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ آٹھ ممالک کے علاوہ باقی سب ممالک جغرافیائی قربت کی ڈوری میں بندھے ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا’ ملائشیا’ بنگلہ دیش’ مالدیپ’ البانیہ’ گیانا اور سودی نیم کے علاوہ باقی کے 49ممالک کی جغرافیائی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگریہ ممالک مشترکہ منڈی کے تصورکی تکمیل کے لئے آمادہ ہوجائیں تو 27ممالک پر مشتمل یورپی یونین سے کتنا بڑا جغرافیائی اتحاد وجود میں آسکتا ہے۔ مسلمان آبادی کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی قوم ہیں۔ 1.57ارب آبادی کا مطلب ہے کہ دنیا کا ہر تیسرا شخص مسلمان ہے۔ ایک بڑی آبادی ایک بڑی لیبر فورس کا سبب بنتی ہے۔ او آئی سی ممالک کی شماریاتی کتاب 2009ء کے مطابق 600 ملین لیبر فورس مسلمان ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آبادی کی بڑھی ہوئی شرح کو مد نظر رکھیں تو آج اس لیبر فورس کی طاقت 750ملین یعنی 75کروڑ سمجھی جاسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں یورپی یونین کی لیبر فورس اندازاً 450ملین افراد پر مشتمل ہے۔ لیبر فورس کے ضمن میں دو باتیں بڑی اہم سمجھی جاتی ہیں’ اول لیبر فورس میں کام کرنے والوں کی شرح کیا ہے؟ دوم آبادی کے لحاظ سے لیبرفورس کس طرح تقسیم ہے؟ مسلمان ممالک میں لیبر فورس کی کام کرنے کی شرح اوسطاً 63فیصد ہے جسے یورپی یونین (65فیصد) کے تقابل میں برابر قرار دیاجاسکتاہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی آبادی اور رقبے میں مثبت باہمی نسبت ہونے کی وجہ سے یہ لیبر فورس تقریباً مساوی طور پر تقسیم ہے۔ قوت کے اعتبار سے ان سب سے بڑھ کر جو فیکٹر سب سے زیادہ اہم ہے وہ مسلمان آبادی کا اسلام کی مخلصانہ اور دل سے اطاعت ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمان خواہ دنیا کے کسی خطے یا علاقے میں رہتے ہوں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور محبت کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایک ملک کے رہنے والے مسلمان دوسرے مسلمان ملک کے عوام کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور ان کی کسی مصیبت اور پریشانی میں تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ عوام کے درمیان تو یہ جذبہ خیر سگالی اور باہمی محبت و پیار کا رشتہ موجود ہے مگرمسلمان ممالک کے حکمران اپنے شخصی مفادات کو اہمیت دیتے ہیں اور یوں مسلمان ممالک کے مابین کھنچائو اور باہمی جنگ و جدل کی فضا گزشتہ ایک صدی سے دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کیفیت کی ترجمانی او آئی سی کے پلیٹ فارم پر ہوتی آئی ہے لہٰذا ایک بڑے مقصد کو پانے کیلئے بننے والی مسلمانوں کی عالمگیر تنظیم او آئی سی مسلمانوں کی بھلائی اور مضبوطی کے لئے کوئی کارہائے نمایاں سر انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔او آئی سی کے پلیٹ فارم کو اگر خلوص نیت سے استعمال کیا جاتا تو مسلمان ممالک کی زمینوں میں چھپے ہوئے پوشیدہ خزانوں’ تیل اور گیس کی طاقت’ آبادی اور لیبر فورس اور جغرافیائی اہمیت کو مسلمانوں کے حق میں طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ او آئی سی نے مسلمان ممالک کے باہمی اتحاد کو کبھی ”طاقت” نہ بننے دیا ورنہ مسلمانوں کے مصائب پر یک زبان ہو کر مسلمان ممالک مشترکہ موقف اپناتے اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیتے تو کیا دنیا 57 مسلمان ملکوں کی آواز کو نظر انداز کرنے کی جسارت کرسکتی تھی۔ آج مسلمان دنیا میں او آئی سی کے متبادل فورم کی آوازیں اٹھ رہی ہیں تو اس کی وجہ او آئی سی کی مایوس کن کارکردگی ہے۔ پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں اس وجہ سے شرکت نہ کی کہ تاثر بن رہا تھا کہ اس اقدام سے خدانخواستہ مسلمان دنیا تقسیم ہو جائے گی۔ کوالالمپور کانفرنس کا اعلامیہ سامنے آیا تو یہ خدشات بے جا ثابت ہوئے۔ آج ملائیشیا کے دورے میں وزیر اعظم عمران خان نے یہی بات کی۔ وہ او آئی سی سے مایوس نظر آئے’ کشمیر کے حوالے سے انہوں ے بجا طور پر شکوہ کیا کہ او آئی سی نے کشمیر پر سربراہ اجلاس نہیں بلایا۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عرب ممالک کا عمومی رویہ مایوس کن رہا ہے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے یکجہتی اور کشمیری عوام کی حمایت میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ او آئی سی کے بارے میں یہ تاثر دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ عرب ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے بنائی جانے والی تنظیم ہے۔ 70ء کی دہائی میں مسلمان ممالک کی قیادت نے خواب تو بہت دیکھے مگر ان کی عملی تعبیر آج تک ممکن نہ ہوسکی۔ (باقی صفحہ 7پر)