آستانوں کے دور میں

سابق رکن قومی اسمبلی اور ایک عدد ذاتی پارٹی کے مالک جمشید دستی جمعرات کو آئل ٹینکر ڈکیتی کیس میں گرفتار کرلئے گئے۔ چار شریک ملزمان جن میں دو ایلیٹ فورس کے جوان بھی شامل ہیں پہلے ہی پولیس کی ہراست میں ہیں۔ مظفرگڑھ میں ”ون فائیو” کہلانے والے جمشید دستی ضلع کونسل کی مزدور نشست سے سیاست میں داخل ہوئے اور پھر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ ڈگری کیس میں افتخار چودھری نے انہیں مستعفی ہونے کیلئے وقت دیا۔ ضمنی انتخاب میں وہ پھر رکن منتخب ہوئے۔ 2013ء کے انتخابات میں مظفرگڑھ کے دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن بنے اور پھر چھوڑے گئے حلقہ سے برادر خورد کو میدان میں اُتارا، نتیجہ یہ نکلا کہ نور ربانی کھر نے ان کے بھائی کو شکست دیدی۔ یہ سچ ہے کہ اگر جمشید دستی اپنے بھائی کی بجائے ضمنی انتخابات میں کسی اور کو اُمیدوار بناتے تو وہ جیت سکتا تھا مگر خود پسندی اور زبان درازی اسے لے ڈوبی۔ اسی دور میں نہری پانی کی چوری کے مقدمہ میں گرفتار ہوئے۔ یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا تھا، سرائیکی وسیب میں ہر خاص وعام نے نون لیگ کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا مگر دستی نے سرگودھا کچہری میں روتے ہوئے خود پر بیتی کا جو احوال سنایا اس سے وہ لوگوں کے دلوں سے اُتر گئے۔ جس جماعت نے انہیں فٹ پاتھ سے اُٹھا کر قومی اسمبلی پہنچایا اس سے الگ ہوئے تو شیخ رشید کے انداز میں بلکہ ان سے سات قدم آگے بڑھ کر اسی جماعت کیخلاف بد زبانیاں فرمائیں۔ 2018ء کے انتخابات میں بری طرح ہار گئے، باوجود اس کے کہ تحریک انصاف ان کی حمایت کر رہی تھی۔ دستی پر الزام ہے کہ انہوں نے ساتھیوں سمیت ایک آئل ٹینکر کو عملے سمیت اغواء کیا۔ ڈکیتی کا پرچہ درج ہوا، اب وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ان کی اٹھان اور روزہ داری بارے جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں لکھ رہا تو وجہ یہی ہے کہ پولیس کی تحویل میں موجود شخص بارے کیا لکھا جائے۔ ہاں فقیر راحموں کی یہ بات درست ہے کہ احسان فراموش اور بدزبان شخص بالآخر ایک دن اپنے اصل سمیت لوگوں پر عیاں ہوجاتا ہے۔ حکومت کے اتحادی ناراض ہیں، شکوے ہیں شکایات ہیں، وعدوں کے ایفا نہ ہونے کا رونا ہے لیکن یہ شکایت ان سے کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اتحاد کی تسبیح میں انہیں دانے کی طرح پرویا؟ ق لیگ اور نون لیگ کے درمیان بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے ان سطور میں قبل ازیں عرض کرچکا۔ مکرر عرض ہے کہ نون لیگ اس پر آمادہ ہے کہ اگر ق لیگ سرکاری اتحاد سے الگ ہو تو پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنوانے کیلئے حمایت دی جاسکتی ہے۔ گو جوابی طور پر تحریک انصاف نے نون لیگ کے 30ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کیا مگر جب اسے معلوم ہوا کہ خود تحریک انصاف کے 15ارکان پنجاب اسمبلی نون لیگ اور پرویز الٰہی سے رابطوں میں ہیں تو کھلبلی مچ گئی۔ سرکاری وغیر سرکاری ہرکارے دوڑائے گئے، بزدار متحرک ہوئے، وزیراعظم کو خود لاہور آنا پڑا۔ بظاہر راوی چین لکھتا ہے مگر راوی میں پانی ہے ہی کتنا۔ حکومت نے اتحادیوں کو منانے اور مشاورت کیلئے کمیٹیاں بنائی تھیں’ بظاہر ملاقاتیں اچھی رہیں لیکن ملاقاتیں ہی اچھی رہیں۔ کیا ”کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو سامان اُتارا جاتا ہے” والا مرحلہ آن پہنچا؟ ایسا ہے بھی اور نہیں بھی، ہے اسلئے کہ جن لوگوں نے مولانا فضل الرحمن سے بذریعہ چودھری برادران مذاکرات کرکے یقین دہانیاں کروائی تھیں ان کے پاس باقی ایک ماہ اور بیس دن کا وقت ہے’ 30مارچ تک طے شدہ پروگرام پر عمل نہیں ہوتا تو پھر فیصلہ مولانا کریں گے اور انہوں نے نیا سیاسی اتحاد بنا کر احتجاج کے تیسرے مرحلہ کا ڈول ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کیا جن لوگوں نے پچھلی بار چودھری برادران کے ذریعے مولانا کو شیشے میں اُتار لیا تھا وہ اب بھی انہیں ”دام” میں لاپائیں گے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب فقط مولانا کے پاس ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ”انہیں” ہر قیمت پر مارچ میں مارچ کروانا ہوگا۔ فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم کے چند حالیہ بیانات اور تقاریر درحقیقت اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ پتلی گلی سے جانے کو تیار نہیں، کر لو جو کرنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف نے ”کسی سے” بھرپور تعاون کے جو وعدے کئے تھے وہ لندن میں بیٹھ کر پورے کریں گے یا اگلے دو تین ہفتوں میں وطن واپس آکر عملی کردار نبھائیں گے؟ اطلاع یہی ہے کہ شریف برادران نے خواجہ آصف اور رانا تنویر کو معاہدہ کے مطابق کردار نبھانے کیلئے کہہ دیا ہے۔ اچھا تو کیا ان ہاؤس تبدیلی اتنی ہی آسان ہوگی۔ مراد سعید’ علی محمد خان’ واؤڈا وغیرہ مزاحمت نہیں کریں گے؟ تحریک انصاف تردید کر رہی ہے اور ان ہاؤس تبدیلی کے امکان کو مسترد بھی مگر مولانا فضل الرحمن نہ صرف پراُمید ہیں بلکہ یہ عندیہ بھی دے رہے ہیں کہ ہوگا وہی جو طے پایا تھا۔ ایک کہانی یہ بھی چل رہی ہے کہ مولانا سے وعدہ پورا ہوگا، ان ہاؤس تبدیلی قومی حکومت کی شکل میں آئے گی، نون لیگ اور پیپلز پارٹی قومی حکومت سے عملی تعاون کریں گے، بجٹ کی منظوری کے بعد 2021ء میں انتخاب کروانے کا اعلان کردیا جائیگا۔ یہ کہانی سنانے اور بڑھانے والے وہی لوگ ہیں جو 2014ء میں ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ہر مرض اور مشکل سے نجات کیلئے ”آستانہ عالیہ آبپارہ شریف” کے تعویذات کو موثر قرار دیتے تھے جن کا خیال ہے کہ اس آستانے کو کبھی زوال نہیں۔ آستانہ کے ذکر پر یاد آیا آج کل پنجاب کے چند آستانوں پر اُمیدواروں کا رش ہے۔ غیرمعمولی رش’ دو دن ادھر ایک رکن قومی اسمبلی سے فقیر راحموں نے پوچھا حضرت! آپ اور پیر خانہ یہ کیا چکر ہے؟ انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا بہت بھٹک لئے ادھر ادھر اب سکون کی تلاش ہے۔ میں نے پوچھا سکون یا نئے انتظام میں وزارت؟ کہنے لگے جو حالات بن گئے ہیں اور جس طرح حلقہ انتخاب کے لوگ ہم سے بیزار وناراض ہیں ایسے میں ”اللہ والوں” سے دعاؤں کی درخواست ضروری ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جدید دور کے اللہ والوں کی بہت ”دور” تک رسائی ہے، اللہ تک ہے یا نہیں یہ وہ بھی جانتے ہیں اللہ سئیں بھی اور کچھ کچھ فقیر راحموں کو بھی پتہ ہے اسلئے تو وہ آج کل اپنا آستانہ بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔