رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی گنجائش۔۔؟

پشاورسمیت خیبرپختونخواکے تمام اضلاع میں کمرشل سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونیوالے رہائشی گھروں اورچھوٹے قصبوں کی دکانوں سے بھی کمرشل ٹیکس وصول کرنے کی تیاریاںنہ صرف محصولات کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوگا بلکہ اس سے رہائشی آبادیوں میں کاروباری سرگرمیوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ہمارے نمائندے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پشاور میں قائم نجی سکولوں ‘ہسپتالوں،کلینکس اور دوسرے پرائیویٹ کاروباری دفاتر کو نیٹ ٹیکس میں لانے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کے تحت آئندہ ایسے تمام رہائشی گھروں کوبھی کمرشل پراپرٹی ڈکلیئر کردیا جائے گا۔اس فیصلے کا ایک اور پہلو البتہ یہ ہے کہ اب لوگ دھڑلے سے اپنے رہائشی مکانات کو کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کرنے لگیں گے اور کمرشل بنیادوں پر کرایہ پردیدیں گے جس کے باعث وہاں کے رہائشیوں کی زندگیاں اجیرن ہوںگی۔ اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا حکومت قانون میں تبدیلی لائے بغیر رہائشی علاقوں میںکمرشل استعمال ہونے والے گھروں سے کمرشل ٹیکس کی وصولی کر سکے گی نیز علاقہ مکین اگر رہائشی آبادی کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی اورکمرشل سر گرمیوں کی ممانعت کا معاملہ لیکر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو اس وقت کیا صورت ہوگی۔ان سارے سوالات پر فیصلہ سازوں نے ضرور غور کیا ہوگا اور انہوں نے عوامی ردعمل کی بھی تیاریاں کی ہونگی۔ فی الوقت کی صورتحال یہ ہے کہ عدالتوں سے جاری ہوئے کئی احکامات ایسے موجود ہیں جن میں رہائشی علاقوں سے کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں جن پر عملدرآمد ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ حکومت بااثر کاروباری عناصر کے دبائو میں آکر یا پھر ان کو رہائشی علاقوں میں کاروبار سے روکنے میں ناکامی کے بعد مالکان جائیداد پر کمرشل ٹیکس عائد کرنے کے ان کو متبادل جگہ فراہم کرے اور رہائشی آبادیوں کو کمرشل ہونے سے بچائے حکومت نے ٹیکس کے حصول کا جو راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے کاروباری عناصر کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ عوام کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ رہائشی آبادیوں میں کمرشل سرگرمیوں کی اب بھی پوری قیمت ادا ہورہی ہے لیکن اس سے سرکاری خزانے کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے افسران وعملے اور پولیس کو پوری طرح حصہ مل رہا ہے۔ ان عمارتوں کو کمرشل قرار دینے سے یہی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوگی، حکومت کو اس امر پر ضرور سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کا مقصد کسی نہ کسی طرح ریونیو بڑھا نا ہے یا پھر ملکی قوانین پر عملدرآمد، عدالت کے احکامات کی پابندی اور عوام کے آرام اور ان کے حقوق کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
پولیس کی ڈیجٹلائزیشن
سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ای روزنامچہ، ای ایف آئی آر اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی ڈیجٹلائزیشن کا باضابطہ افتتاح اور عوام کو آن لائن پورٹل، واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے ایف آئی آرز اور روزنامچوں کے اندراج کی سہولت کی فراہمی بظاہر تو انقلابی قدم نظر آتا ہے لیکن جب عوام حقائق کا سامنا کریں گے تو ان کے مایوس ہونے کا امکان زیادہ ہے،گھر بیٹھے ان سہولیات کی فراہمی ایک خوشگوار حیرت ہی ہوں گی۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ان وعدوں کو یقینی بنانے کیلئے سب سے ضروری امر پولیس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی ہے جس کے بغیر ان سہولتوں سے استفادہ اور خاص طور پر دادرسی کی توقع نہیں۔ قبل ازیں بھی سائلین کو خودکار طریقے سے ایف آئی آر کے اندراج اور شکایات درج کرانے کا عندیہ دیا گیا تھا اس کا کیا نتیجہ نکلا اور عوام کو اس نظام سے کیا شکایات ہیں عوام کی اکثریت کو ان سہولیات کا اب تک علم ہے بھی یا نہیں، ان تمام امور سے قطع نظر ہمارا تھانہ کلچر اب بھی یہ ہے کہ عام آدمی وہاں جانے سے گھبراتا ہے اور اگر کوئی چلا جاتا ہے تو آج بھی آسانی کیساتھ اس کی رپورٹ درج نہیں ہوتی جس کیلئے سفارش یا پھر رشوت کا سہارا لینا کوئی انکشاف نہیں۔بات اگر ایف آئی آر کے اندراج ہی سے ختم ہوتی تو آن لائن نظام سے توقعات کی وابستگی درست ہوتی، ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیش کا عمل اور چالان جمع کرانے کی ذمہ داری میں پولیس سائلین سے کیا سلوک کرتی ہے اس کا بھی حل تلاش کیا جائے اور ایف آئی آر کو نتیجہ خیز انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھائی جائے۔ برآمدگی وبازیابی اور حوالگی سمیت دیگر پیچیدگیوں کو سہل بنایا جائے اور حقیقی معنوں میں پولیس کو عوام دوست بنایا جائے ایک ایسا پولیس نظام جو طاقتور اور ظالم کی بجائے مظلوم کا ساتھ دے، تھانوں سے سیاسی مداخلت اور دبائوکا خاتمہ ہو تب ہی اچھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ جو نظام بھی وضع کیا جائے اس کی نگرانی اور جائزہ لینے کی بجائے اسے شتربے مہا چھوڑ دینا وہ خرابی ہے جس کے باعث نظام ناکام اور عوامی مسائل وشکایات جوں کے توں برقرار رہتے ہیں ان پر توجہ دی جائے تو بہتری ممکن ہے۔
کاغذی یادداشت
محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا اور محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے مابین شجرکاری کیلئے مفاہمتی یادداشت کے تحت صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں، کالجز اور جامعات سے کم و بیش40لاکھ طلباء و طالبات شجرکاری مہم میں حصہ لیں گے ۔ ایم او یو کے مطابق ہر طالب علم کم ازکم10 پودے لگائے گا اور اُن کی دیکھ بھال بھی کرے گا۔ منصوبے کے تحت ایک دن میں تقریباً4کروڑ پودے لگائے جائیں گے ۔شجرکاری کیلئے جس مفاہمتی یادداشت سے ہر طالب علم سے دس پودے لگوانے اور اس کی دیکھ بھال اور مجموعی طور پر چارکروڑ پودے لگانے کی توقعات وابستہ کی گئی ہیں، ہمارے تئیں یہ حقیقت پسندانہ نہیں بلکہ محض ایک دل خوش کن اقدام ہے جس کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابرہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں بلین سونامی ٹری اور ہرموسم کی شجر کاری کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر اندازوں سے کام لینا ہے۔اس امر کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ہر طالب علم دس پودے لگائے ان کی دیکھ بھال بھی کرے اورمطلوبہ تعداد پوری ہو۔ جب تک اس منصوبے کی نگرانی اور اس کو قابل عمل بنانے کاکوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاتا اور تسلسل سے اس کی نگرانی نہیں ہوتی اس وقت تک اس کی حیثیت کاغذی یادداشت سے زیادہ نہیں۔