کشیدگی پر مبنی بیانات کب تک؟

بھارت کی سیاسی وفوجی قیادت کی جانب سے جو بلاجواز اور پر اشتعال بیانات تسلسل سے دیئے جارہے ہیں اس کا مجبوراً جواب دینا پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی ذمہ داری ہے۔ جب سے بھارت میںمودی سرکار آئی ہے تب سے انتہا پسندانہ بیانات میں تیزی آئی ہے، بھارت کی سیاسی قیادت کے تیور دیکھ کر بھارت کی عسکری قیادت بھی الفاظ کی گولہ باری کرنے میں پیش پیش ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا سخت جملوں کے تبادلے اور دھمکیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھی ہمسائیگی ممکن ہے، اس سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت جو بلاوجہ کی گیڈر بھبکیاں دے رہی ہے آیا اس پر عملدرآمد اتنا آسان ہے، کیا ایک مضبوط فوج اورقربانی کے جذبے سے سر شار عوام کو اس قسم کے بیانات سے مرعوب کیا جا سکتا ہے ۔بھارتی فضائیہ کو جو دھچکہ گزشتہ فروری میں لگا تھا اور اس کیساتھ ساتھ جن کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا کیا بھارت ان حقائق سے لا علم ہے، یقینا ایسا نہیں بلکہ بھارت کو جو سخت دھچکہ لگا تھا وہ ان کی اس پہلکاری کا مسکت جواب تھا پاکستان نے کوئی جلد بازی نہیں کی اور نہ ہی پاکستان نے پہلکاری کی تھی، مسکت جواب ملنے کے بعد بھارت کو بجائے اس کے کہ سخت جواب کی سمجھ آجاتی اُلٹا ایک تسلسل کیساتھ خواہ مخواہ کی بیان بازی اور اشتعال انگیزی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے جو کسی طور بھی مناسب امر نہیں۔ دوسری جانب اگردیکھا جائے تو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان کا ردعمل اس درجے کا نہیں تھا کہ تصادم کی نوبت آجاتی، پاکستان اب تک تصادم سے گریز ہی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس ساری صورتحال میں جہاں دونوں جانب سے تصادم سے گریز کی عملی صورتحال ہے کیا یہ بہتر نہیں کہ لفظی گولہ باری سے بھی اجتناب کیا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی طور پر اور بیک ڈور چینل کے ذریعے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہ تو کسی مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی اس جنگ میں کسی کا میابی کا کوئی امکان ہے، دونوں ممالک کے درمیان جنگ دونوں ممالک کی تباہی اور عوام کی بربادی ہوگی۔ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل ثابت نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس ایسے مہلک اور تباہ کن ہتھیار ہیں کہ ان کا صرف چلنا خطے کی زمین کی تباہی نہیں بلکہ ماحول پر اس کے اثرات ہر ذی روح کیلئے ہلاکت اور تباہی کا باعث ہوں گے۔ یہ سارے حقائق ایسے نہیں جس کا دونوں ممالک کی قیادت کو ادراک نہ ہو، اس کے باوجود دونوں ممالک کشیدگی ہی کا ماحول بنارہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم خود بھارت کے حق میں بہترنہیں کسی علاقے کے عوام کوکوئی بھی ملک زیادہ دیر تک ظلم وتعدی کا شکار نہیں رکھ سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام کو جس قسم کے جبر اور فوجی حصار میں رکھا گیا ہے بھارت کو سوچنا چاہئے کہ وہ آخر کب تک اپنے عوام کو سنگینوں کے حصار میں رکھ پائے گا۔ بھارت کو بالآخر اس امر پر مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کرے، دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہوگا کہ وہ جتنا جلد ہوسکے کشیدگی میں اضافہ کرنے والے بیانات سے اجتناب کریں اوربات چیت کا راستہ اپنائیں۔عالمی فورم پر جب بھی ان تنازعات کی بات ہوگی ان کو یہی مشورہ دیا جائے گا کہ وہ کشیدگی کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔