کیا کیا دنیا میں انسانوں نے انسانوں کیساتھ

کیا قوم ہیں ہم، خداجانے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حضور کیسے جائیں گے، اپنی ناکردنیوں کی کیا توجیح پیش کریں گے۔ ویسے تو بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی، موقع سے فائدہ اُٹھا کر عام غریب لوگوں کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کا کوئی موقع ضائع کرنا ہم نے سیکھا ہی نہیں، تاہم یہ سلسلہ عام زندگی کے حوالے سے ہو اور اشیائے صرف یا دیگر ضروریات زندگی ہی محدود رہے تو قابل برداشت بھی ہے کہ عام لوگ اس قسم کی بے قاعدگیوں کے عادی ہیں اور طوعاً وکرہاً سب کچھ سہ جاتے ہیں مثلاً ہر سال رمضان کے مقدس مہینے میں جس طرح غریب لوگوں کی کھال اُتارنے کیلئے اشیائے ضروریہ مہنگی کردی جاتی ہیں اس پر شور و غوغا تو بہت ہوتا ہے،حکام بھی نمائشی طور پربعض اوقات بازاروں میں چھاپے مارکر گراں فروشوں کو چند روز کیلئے آہنی سلاخوں کے پیچھے بھی دھکیل دیتے ہیں مگر حرام ہے جو یہ سلسلہ رکنے کا نام لے لیتا ہو اور تو اور رمضان اور عید الفطر کو اپنے لئے غنیمت جانتے ہوئے جوتوں کے مشہور برانڈز کی قیمتیں بھی جوتوں پر نئی قیمتوں کے ٹیگ لگا کر یا ریڈی میڈ گارمنٹس کیساتھ ساتھ کپڑے بیچنے والے بزاز بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرتے ہیں غرض زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہے جس میں عام لوگوں کے استحصال کا اہتمام نہ کیا جاتا ہو، اس حوالے سے گزشتہ برسوں میں رمضان شریف کے دوران انہی کالموں میں عوام کا رونا روتے رہنا ہمارا وتیرہ رہا ہے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے تاہم آج ناجائز منافع خوری کے حوالے سے جو مسئلہ ہمارے سامنے ہے وہ انتہائی قابل افسوس بلکہ شرمناک ہے، گویا بقول سعید احمد اختر مرحوم
بلانے اپنے بچوں کو دعا دی
خدا محفوظ رکھے ہر بشر سے
اتنی لمبی تمہید کی بنیادی وجہ ایک خبر ہے جو چین میں حالیہ دنوں میں پھیلنے والی خطرناک اور جان لیوا بیماری کے حوالے سے پوری دنیا میں تشویش کا باعث بن رہی ہے اور اس بیماری یعنی کرونا وائرس کا تیزی سے پھیلائو ہے جس سے کئی ممالک اب تک متاثر ہو چکے ہیں اور اس بیماری سے بچائو کیلئے اگرچہ عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں کرونا وائرس کیلئے اینٹی ڈوٹ بنانے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں مگر ابھی تک کسی بھی ملک میں اینٹی وائرس کی تیاری میں کامیابی کے بارے میں حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی، البتہ اس سے محفوظ رہنے کیلئے پوری دنیا میں حتی الامکان کوششیں کی جارہی ہیں جن میں نہ صرف ہسپتالوں میں متعلقہ عملے کیلئے خصوصی لباس پہننا لازمی قراردیا گیا ہے،اسی طرح ایئر پورٹس پر بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے جبکہ اس سارے مسئلے کے حوالے سے جس پہلو کی جانب ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ میڈیکل ماسک کی ڈیمانڈ اور نرخوں میں اضافہ ہے جس سے اخباری اطلاعات کے مطابق مارکیٹ میں بحران پیدا ہوگیا ہے، میڈیکل ماسک کی سپلائی بھی معطل ہوگئی ہے،تاہم یہ وہ میڈیکل ماسک ہیں جن کا استعمال ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ کرتا ہے اور یہ کپڑے سے بنائے جاتے ہیں، خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں اور طبی اداروں کیلئے مقامی سطح پر ماسک کی فراہمی ایک مسئلہ بن گیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سٹاک مہیا کرنے کی منصوبہ بندی تجویز کی گئی ہے۔وہ ماسک جو عام طور پر اب تک چین سے درآمد ہوتے تھے اور جو چند برس پہلے5 روپے میں عام مل جاتا تھا اور اب دس روپے میں دستیاب ہے اور لوگ سردی سے بچنے یا پھر زکام نزلے سے بچائو کیلئے استعمال کرتے تھے، اس کی بھی قلت پیدا ہورہی ہے بلکہ لوگوں نے مارکیٹ سے سٹاک غائب کر کے آنے والے دنوں میں (خدانخواستہ) کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہی سستے ماسک بھی مہنگے داموں فروخت کرنے کی سوچ اپنالی ہے،جو صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے چند سٹاکسٹوں کی تجوریاں بھرنے کا باعث تو ضرور ہوں گے مگر افسوس تو اس بات پر ہے کہ ایک جان لیوا مرض جو نہایت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اس کی وبائی کیفیت کو نظرانداز کر کے جلب زر سے مغلوب ہوئے منافع خور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ وائرس خود ان کو بھی نگل سکتا ہے،انہیں فکر ہے تو صرف یہ کہ لوگ مرتے رہیں کوئی پرواہ نہیں، بس ان کی تجوریاں بھرنی چاہئیں بقول آفتاب ضیائ
آسماں پر ہو رہی ہیں جابجا سرگوشیاں
کیا کیا دنیا میں انسانوں نے انسانوں کیساتھ
لالچ، طمع اور ہوس زر کے جذبات سے مغلوب لوگوں کو نہ خوف خدا ہے نہ انسانیت ان کے قریب پھٹک سکی ہے، اس معاشرے میں ایسے لوگوں کی پہلے ہی کوئی کمی نہیں ہے جو ہر سال ناجائز منافع خوری سے جیبیں بھرتے ہیں اور پھر تسبیح رولتے ہوئے ہر رمضان میں عمرے اور حج سیزن میں حج کا فریضہ ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں مگر انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری سے یہ عمرے اور حج ادا کرتے ہیں،ایسی عبادات کا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے حوالے سے دین میں بہت وضاحت اور صراحت سے بتایا گیا ہے اور اب تو جو وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اس میں ایک بار پھر موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی جیبیں بھرنے کی جو سوچ بعض لوگوں کے اعصاب پر سوار ہوچکی ہے اس میں دولت کمانے کیساتھ ساتھ گناہوں کا بوجھ بھی جس قدر بڑھے گا اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے، البتہ اس روز جسے روز حساب کا نام دیا گیا ہے اس روز ایک ایک ذرے کا حساب لیا جائے گا۔
سکندر خوش نہیں ہے لوٹ کر دولت زمانے کی
قلندردونوں ہاتھوں سے لٹا کر رقص کرتا ہے