یادوں کی کسک

چند دن پہلے میرے والد صاحب کے دوست، میرے چاچا سعید اظہر نے ایک مقامی اخبار میں ایک کالم لکھا۔ میرے بڑے ہی پیارے بھائی نے وہ کالم مجھے بھیج دیا اور فرمائش کی کہ میں بھی اس کا جواب کالم لکھں۔ میں کئی دن بڑی آزردہ رہی، میں اپنے والد صاحب کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی آج تک اسی وقت کی مٹھی میں قید ہوں جس میں میرے والد مسلسل میرے آس پاس ہی رہتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے میں ایک ہی وقت میں، وقت کے کئی دھاروں کو اپنے ہاتھوں سے تھامے رکھتی ہوں۔ ایک وہ وقت ہے جس میں میرے والد حیات ہیں۔ میرے دادا، دادی موجود ہیں۔ میری نانی بھی اپنے نازک وجود سمیت وہیں کہیں گھومتی رہتی ہیں۔ اس وقت میں میری خالائیں، میرے پیارے ماموں سب موجود اور خوبصورت ہیں۔اس وقت میں میرے چا چا سعید اظہر کو اپنے اس پرانے گھر میں عائشہ کے کمرے میں صوفے پر نیم دراز، لکھتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں، میں نے کھلے دروازے سے اندر جھانک کر دیکھا تو انہوں نے اپنے مخصوص شفیق لہجے میں کہا، پُت اندر آجا، آجا میں تجھے پڑھائوں میں نے کیا لکھا ہے؟ میں ہمیشہ ہی بڑی خوش قسمت رہی مجھے میرے پاپا کے دوستوں نے اسی طرح ہتھیلی کا چھالا بنا کر بڑے پیار سے رکھا جیسے میرے پاپا رکھتے تھے۔ تبھی تو آج جب وہ پا پا کو یاد کرتے ہیں تو میرا بھی ذکر کرتے ہیں۔ آج پاپا نہیں ہیں لیکن میرے چاچے ہیں، انکل حسین پراچہ جب فون کرکے مجھے کہتے ہیں کہ سہ پہر میں جم خانہ آجائو تو میں خوشی خوشی اپنے پا پا کی یاد کا ہاتھ تھامے چائے پینے چلی جاتی ہوں۔
میں اس کالم کی بات نہیں کرنا چاہتی جو انکل سعید اظہر نے لکھا ہے کیونکہ میں یہ برداشت ہی نہیں کرسکتی کہ غمزدہ آنکھوں اور ہشاش بشاش لہجے والے انکل سعید اظہر کے بارے میں کسی سے پوچھوں کہ وہ کیسے ہیں۔ وہ جو کالم میں اپنی بیماری کا ذکر کر رہے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے اور آخر وہ اتنے علیل کیوں ہیں۔ میں ان کے جملوں میں کھو کر رہ گئی ہوں ان کی اورمیرے پاپا کی محبت عجیب سی محبت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے حوالے سے بڑے مطمئن رہتے تھے۔ انکل سعید اظہر آجاتے، گھر میں ہوتے، اپنے لکھنے پڑھنے میں مشغول ہو جاتے۔ پاپا آفس سے ہو کر لوٹتے تو دونوں اپنی گپ شپ میں مصروف ہوتے۔ دنیا ومافیہا سے بے خبر۔ کب انکل کے واپس جانے کا دن آجاتا کسی کو پتا ہی نہ چلتا، ہم ان کے واپس جانے پر اکثر اُداس ہوتے۔ ہمیشہ ہی اگلی بار زیادہ دن رُکنے کی بات بھی ہوتی لیکن ہمیشہ ہی بات اگلی دفعہ پر جا پڑتی اور اب نہ پاپا ہیں نہ ہی انکل کو اسلام آباد آنے کی احتیاج باقی رہی ہے۔ وہ کتنی خوبصورتی سے اپنے دل کی بات کہہ گئے کہ اکتوبر2019ء نے میرے دل کے زخم ہرے کر دیئے۔ روح اشکبار ہوچکی اور ذہن میں اُداسیوں نے خود کو ایک بہترین بسیرے میں محصور کر لیا ہے۔ فاروق میرے آگے پیچھے رہتا اور میں روتا رہتا ہوں۔ اسے شروع سے میرے ارد گرد رہنے کا شوق تھا اور مجھے آج اس کی یاد میں رونے کی رفاقت میں زندگی ملتی ہے۔لیکن میں انہیں شایدیہ کبھی نہیں کہہ سکوں گی کہ ان کے محبت بھرے ہاتھ کی میرے سرکو کتنی ضرورت ہے شاید اسلئے بھی کیونکہ انسان اپنی اپنی ضرورتوں کے چھوٹے چھوٹے ترازو لئے ساری زندگی کھڑا رہتا ہے، ہر رشتے کو، ہر احساس کو، ہر تعلق کو، ہر محبت کو اپنی ضرورت کی چھوٹی سی کٹوری میں ڈال کر تولنا چاہتا ہے لیکن کچھ محبتیں اس سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ کسی سکے کی کھنک سے محجوب ہو کر کسی آنگن کا کواڑ نہیں کھولتیں، وہ بس اپنی جگہ قائم رہتی ہیں دل کو اپنی گرہ سے باندھے رکھتی ہیں، یہ میرے پاپا کی انکل سعید اظہر سے محبت تھی جو مجھے ورثے میں ملی۔ ان کے دوست اپنے اپنے رنگ میں، مجھے بہت عزیز ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو واقعی میرے چاچے ہیں، وہ کہیں بھی ہوں مجھے ان کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس ہوتا ہے، میں ان کی محبت میں سرشار رہی ہوں۔ میرے بچپن کے اس قدر مطمئن ہونے میں ان کی بڑی محبت ہے۔ میرے پاس جو وقت کا ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر میں اپنے باپ کے وقت میں ان کے گھر کے آنگن میں داخل ہو جاتی ہوں، میرے چاچوں کی وجہ سے کھلا ہے۔ان کی محبت کے اتنے رنگ ہیں کہ میں اپنے باپ کی جدائی کو برداشت کرنے کی ہمت انہیں رنگوں سے کشید کر لیتی ہوں۔
میں کیسے جواب کالم لکھوں، کیسے کہوں کہ یہ وقت ہی عجیب گورکھ دھندہ ہے، وہ ہیں بھی اور نہیں بھی۔ میں انہیں روز دیکھتی ہوں، روز سنتی ہوں، روز ان کی ہنسی سنائی دیتی ہے، روز ان کی آنکھوں کی چمک سورج کی کرنوں میں دکھائی دیتی ہے لیکن اب میں اپنے پاپا کے سینے پر سر نہیں رکھ سکتی ۔اب کوئی میرا بچہ کہہ کر نہیں بلاتا۔ اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ فکر نہ کر ابھی تمہارا باپ زندہ ہے، اب میں بڑی ہوں اور زندگی جھیل رہی ہوں۔ میں شاید دن بہ دن زندگی گزارنے کا فن بھی سیکھتی جاتی ہوں۔ میرے والد بہت خوش قسمت تھے انہیں ایسے محبت کرنے والے دوست ملے اور میں خوش قسمت ہوں کہ ان کی محبت کی مٹھاس میرے لئے باقی ہے۔ میرے پاس تو کبھی ایسے خوبصورت لفظ بھی نہیں ہو سکتے جو انکل سعید اظہر لکھ سکتے ہیں، جتنی خوبصورت مسکراہٹ انکل حسین پراچہ کی ہے،جتنا کشادہ سینہ انکل اظہارالحق کا ہے اور جیسی خاموش مگر مضبوط سہارا دینے والی محبت انکل توقیر کی ہے جنہوں نے ان سالوں میں ایک بار بھی اس یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیا جنہوں نے کبھی ہمیں اکیلا نہ چھوڑا۔ کبھی زندگی کی تپتی ہوا ہم تک نہ آنے دی، جن کے سینے سے لگ کر مجھے اپنے پاپا کے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔ میں تو بس مشکور ہوں،اللہ کی شکر گزار ہوں۔زندگی سے تعلق میں کچھ کمی ہر روز ہوتی ہے شاید سب کیساتھ ہی ایسا ہوتا ہوگا لیکن یہ محبتیں زندگی کے رنگ اُڑنے نہیں دیتیں۔