بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے

نوشہرہ میں جنسی زیادتی کےبعد قتل ہونے والی بچی حض نور کے لواحقین اور شہریوں کا پریس کلب کےسامنےاحتجاج کیا

مظاہرین نے حض نورکےقاتلوں کےخلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیا – اور زینب الرٹ بل کی طرح کے پی میں بھی حض نور بل منظور کیا جائے-

 مظاہرین کا مزید کہنا ہے کہ حض نور کو انصاف دو اوربچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے، اور حکومت اور قانون نافظ کرنے والے ادارے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خاتمے کے لیے  عملی اقدامات اٹھائیں، اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف آگاہی مہم بھی چلائی جائے.

مظاہرین نے حکومت سے کہا کہ کے پی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل میں اضافہ حکومتی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے ، اور اس عمل کی روکتھام کے لئے تعلیمی اداروں مدرسوں میں کیمرے نصب کیے جائیں.

بچی حض نور کے والد اسجد جہاں نے سرعام پھانسی کی مخالفت کرنے والے وزراء کومخاطب کرکےکہا کہ اُن کو اس درد اور کرب کا اندازہ نہیں جو ہمیں ہے, میری بیٹی کے قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے ، تا کہ کسی اُور کی بیٹی کے ساتھ دوبارہ ایسا نہ ہو سکےاس  لیئے سرعام پھانسی ضروری ہے-