حب الوطنی پر سوال کیوں؟

آپ کسی کی بھی حب الوطنی پر کس طرح شک کر سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال تھا جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انتظامیہ کی جانب سے غداری کے الزام میں گرفتار کردہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کیا۔ یہ نوجوان مظاہرین پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کیخلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ یہ ایک پُرامن مظاہرہ تھا اور جس میں شرکاء نے کسی بھی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ انہوں نے صرف اور صرف اپنے احتجاج کے آئینی حق کو استعمال کیا اور اس کے باوجود ان کی حب الوطنی پر سوال اُٹھائے گئے۔ اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے والے کچھ سیاسی کارکن ضمانت پر رہائی پاچکے ہیں مگر اب بھی ملک بھر میں اس تنظیم سے وابستہ کئی کارکن جیلوں میں غداری اوردہشتگردی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے چند جبری گمشدگیوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ریاست کیخلاف مزاحمت کے سامراجی قانون کو کسی مختلف سیاسی بیانیے سے نمٹنے کیلئے کیسے استعمال کرنا ہے، یہ ہماری انتظامیہ خوب جانتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم حب الوطنی کی تعریف کس بنیاد پر کرتے ہیں اور وہ کیا پیمانے ہیں جس پر پرکھ کر ہم کسی شہری کو حب الوطن ہونے کی سند دے سکتے ہیں؟ ہم کس طرح کسی کی انصاف کیلئے کی جانے والی جدوجہد یا اس کے بنیادی آئینی مطالبات کو اس کی وطن دشمنی سے تعبیر کر سکتے ہیں؟ بلکہ ایسے کسی طاقتور کے جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجانا ہی تو عین حب الوطنی ہے ہمارے ہاں جن لوگوں پر ریاست مخالف سرگرمیوں یا غداری کے الزامات دھرے جاتے ہیں ان کا شمار ملک کے جوان اور روشن ترین اذہان میں ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو طاقتور کے جبر کو سہنے پر کسی صورت راضی نہیں ہوتے، یہ حالیہ گرفتاریاں اسی بات کا ثبوت ہیںکہ ہمارے کچھ اداروں میں مخالف بیانئے کے حوالے سے عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں اختلاف اور آزادی رائے کیلئے جگہ تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ کہ ہمارے ہاں آئے دن ان لوگوں پر ریاست مخالف اور غداری کے الزامات لگائے جانے لگے ہیں جو بنیادی طور پر ہی عدم تشدد کے داعی سمجھے جاتے ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی ہمارے وطن کے کئی سیاسی رہنماؤں سے ان کی حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا رہا ہے مگر موجود صورتحال کچھ زیادہ ہی گمبھیر ہے۔ جہاں ایک طرف ریاستی طاقت پُرامن مظاہرین کو فوراً مزہ چکھانے کو تیار ہوتی ہے وہیں یہ ان مظاہرین کے سامنے سر تسلیم خم کئے نظر آتی ہے جو شدت پسندی کے داعی ہونے کیساتھ اپنے ایک مظاہرے سے دارلحکومت میں زندگی بتانا حرام کر دیتے ہیں۔ ابھی چند سال قبل کی بات ہے جب تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی اپنی تقاریر کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے اور مذہب کے نام پر قتل پر اُکسانے میں ملوث رہے مگر اس کے باوجود آج انہیں ایک حب الوطن کے طور پر جانا جاتا رہا کہ وہ کچھ اداروں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کیا ہمارے ہاں کسی کی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے یہی ایک پیمانہ ہونا چاہئے؟ اداروں کی پالیسیوں پر تنقیدکرنا کسی کو غدار نہیں بنا دیتا۔ نہ ہی کوئی ایک ادارہ کسی کی حب الوطنی یا ملک دشمنی کے تعین کا مجاز ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں حب الوطنی صرف حمایت کا ہی نام نہیں، وہاں سیاستدانوں اور عسکری افواج پر تنقید کو کسی طور بھی ملک دشمنی سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔ احتجاج ایک آئینی حق ہے اور احتجاجیوں پر اس باعث کسی طور بھی غدار ی یا ان کی صفوں میں غیرملکی ایجنٹ شامل ہونے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسے مظاہروںکی تشہیر پر غیراعلانیہ پابندی نہ صرف ہمارے آزادی اظہار رائے کے دعوے کا جنازہ نکالنے کا سبب بنے گی بلکہ ہماری جمہوریت پرستی کو بھی داغدار کر دے گی۔ ویسے بھی سوشل میڈیا کے اس دور میں اظہار رائے یا ابلاغ عامہ پر کسی بھی قسم کی پابندی اُلٹا نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں ایسے احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں جنہیں کسی صورت بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا تھا مگر کسی مظاہرے کو ریاست کیخلاف سازش قرار دینا سے اصل مسئلہ کو حل کرنے میں کسی طور مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔جسٹس اطہر من اللہ کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ آئینی عدالتیں ایسے کسی بھی معاملے پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتیں۔ ہم اس کے بعد یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ عدالتیں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادروں کو غداری کا الزام لگا کر معاشرے میں دلیل اور عقل پر منتج آوازوں کا قتل عام کرنے سے باز رکھنے کیلئے کوئی اقدام ضرور کریں گی۔ یہ عدالتوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی یقینی بنانے کیساتھ ان آوازوں کا بھی تحفظ کریں جو آئین میں درج اپنے جائز حقوق کیلئے لڑتی نظر آتی ہیں۔ عدالتوں کی انصاف کی فراہمی میں ناکامی ملک کیلئے شدید خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔
مظاہروں اور احتجاجوں کے پیچھے بنیادی وجہ وہ مسائل ہوتے ہیں جن کا عوام کو ان کے گھروں میں سامنا ہوتا ہے۔ ان مسائل میں کسی قسم کے بیرونی ہاتھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ریاست اور حکومت ان مسائل کو بروقت حل کرنے میں ناکام رہے تبھی ان بیرونی طاقتوں کو صورتحال مزید بگاڑنے اور اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)