قرضوں کانیا بوجھ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مالی خسارے باہر نکل آئے ہیں، اب2020 معاشی ترقی اور روزگار کا سال ہوگا اس ضمن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا2020 ترقی کا سال ہوگا، اگر واقعی ایسا ہی ہے تو یہ سب کیسے ممکن ہوسکے گا، کیونکہ ورلڈ بینک اور پاکستان کے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اس کے برعکس کہانی بیان کر رہی ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت جس کی آبادی ہم سے دس گنا ہے یقینا اس کے مسائل بھی ہم سے زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت کی معیشت مغربی دنیا کیلئے اہم اور پُرکشش ہے جبکہ پاکستان بھارت سے بہت پیچھے ہے اگر محض 1988ء سے2020 تک کے سالوں کا خطے کے دو ممالک چین اور بھارت کی معیشت کا پاکستان کیساتھ موازنہ کیا جائے تو حقائق کچھ یوں ہیں کہ1988ء میں چین اور انڈیا کی معیشتوں کا حجم 300 ارب ڈالر تھا یعنی دونوں ممالک کی معیشتوں کا سائز تقریباً برابر تھا، 1998ء میں چین کی معیشت ایک ہزار ارب ڈالرز کراس کرگئی جبکہ بھارت کی معیشت صرف 410ارب ڈالرز تک پہنچی، صرف دس سال میں چینی معیشت کا حجم بھارت سے ڈھائی گنا زیادہ ہوگئی۔ 2010ء میں چین کی معیشت 5ہزار ارب ڈالرز تک پہنچ گئی جبکہ بھارتی معیشت اس وقت تک صرف 1300ارب ڈالرز تک پہنچ سکی تھی، 2014ء میں بھارتی معیشت2ہزار ارب ڈالرز تک پہنچی تو چینی معیشت10ہزار ارب ڈالرز تک پہنچ چکی تھی جو بھارتی معیشت سے پانچ گنا زیادہ تھی،2018ء میں چینی معیشت 13ہزار500 ارب ڈالرز تک پہنچی تو بھارتی معیشت محض2700 ارب ڈالرز تک پہنچی تھی۔ غورطلب بات یہ ہے کہ جس طرح چین بھارت کو پیچھے چھوڑ گیا اسی طرح بھارت پاکستان کو پیچھے چھوڑتا گیا،2018ء میں بھارتی معیشت کا حجم پاکستان سے دس گنا زیادہ ہوگیا، بھارتی معیشت 2 ہزار 700 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی اور پاکستان صرف300 ارب ڈالرز تک پہنچ سکا۔ جنرل مشرف کے دور سے پہلے تک پاکستان کی فی کس آمدنی بھارت سے زیادہ تھی، بھارت نے اپنے معاشی ماڈل پر عمل کیا، برآمدات پر فوکس کیا، معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے کھولا جبکہ ہماری معیشت مسلسل آئی ایم ایف کے زیرسایہ رہی، نائن الیون کے بعد پاکستان کو بیرونی امداد ملی مگر معیشت میں مستقل بنیادوں پر سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے مالی سال2019-20ء کیلئے جو بجٹ دیا تھا اس کی میعاد اب مکمل ہونے میں آخری سہ ماہی باقی ہے لیکن حکومت اہداف مکمل نہیں کرسکی ہے۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں کابینہ کے ارکان نے اپنی تنخواہوں میں رضاکارانہ طور پر دس فیصد کمی پر اتفاق کیا تھا۔ اب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا۔ بجٹ میں گردشی قرضے میں12ارب روپے فی ماہ کی شرح سے کمی کی گئی اور اس کو38ارب روپے کی سطح سے کم کرکے26ارب ماہانہ تک لانے کا دعویٰ کیا گیا، یہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوا۔ جب اہداف طے کئے جارہے تھے تو حکومت کو علم تھا کہ بجٹ بنانے کیلئے اس وقت چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ملنے والی مالی امداد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، اس کے باوجود حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ6ارب ڈالر کے ایک پروگرام پر دستخط کئے تھے، گویا سارا بجٹ قرض کی بنیاد پر تھا۔ اس کے علاوہ رعایتی نرخوں پر دو سے تین ارب ڈالر کا قرضہ ملا تھا اور سعودی عرب سے مؤخر ادائیگی کی سہولت پر ملنے والے تیل سے حکومت پر دباؤ کم ہوا تھا۔ غیرحقیقی بنیادوں پر بجٹ تیار کرکے اب حکومت اس میں مزید ترمیم چاہتی ہے۔ دعویٰ تھا کہ نئے پاکستان میں ٹیکس چوری کے کلچر پر قابو پالیا جائے گا، سول اور وفاقی اداروں نے اپنے بجٹ میں رضاکارانہ کمی پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد ان کا بجٹ 460ارب سے کم کرکے437ارب روپے کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالے75فیصد صارفین کو216ارب روپے کی اعانت دی جائے گی۔ حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے نئی وزارت تشکیل دی، غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کی غرض سے دس لاکھ افراد کیلئے راشن کارڈ اسکیم کا اعلان کیا گیا۔ کہا گیا کہ80ہزار افراد کو ہر ماہ بلاسود قرضے فراہم کئے جائیںگے، پانچ سو کفالت مراکز قائم کئے جائیںگے جہاں معذور افراد کو امداد دی جائیگی معمر افراد کیلئے احساس ہومز تعمیر کئے جائیںگے۔ اب آخری سہ ماہی پر اگر جائزہ لیا جائے تو حقائق سامنے ہیں کہ حکومت ان منصوبوں میں کتنی کامیاب ہوئی ہے، حکومت اپنے ابتدائی ڈیڑھ برس میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، حکومت نے ملکی کرنسی کی قدر میں کمی جیسے اقدامات کئے’ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، ٹیکس نیٹ بڑھا کر اور نئے ٹیکس لگا کر حکومت کی آمدنی اور خرچ کے فرق کو کم کرنے کے بھی اب تک خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے حکومت مسلسل نئے قرضے لے رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں وزارت خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ15ماہ کے عرصے میں پاکستان کے سرکاری قرض وواجبات میں40فیصد اضافہ ہو گیا ہے جو بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز اور فسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (ایف آر ڈی ایل ایکٹ) کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات کا اس حد تک پہنچنا ناگزیر ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے معاشی بحران کے خاتمے کیلئے اب تک جو اقدامات اُٹھائے ہیں وہ تسلی بخش دکھائی نہیں دیتے ہیں، حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے دوسال مکمل ہوتے ہی عوام کی طرف سے دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا اور اس کے بعد عوام حکومت کے اس عذر پر یقین نہیں کریں گے کہ مسائل کی ذمہ دار پہلی حکومتیں ہیں۔