نئی اُمہ تنظیم

گزشتہ روز یو م یکجہتی کے سلسلہ میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا ”بھارت نے پانچ اگست کو جو غلطی کی ہے، اس کے بعد وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ مودی نے جو قدم اُٹھایا ہے اس کے بعد انہیں یقین ہے کہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ بات درست ہے کیونکہ مو دی نے کسی بھی وقت اپنے اقدام یا اپنے مئو قف سے پیچھے ہٹنے کا اشار ہ تک نہیںدیا ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اُجاگر کیا ہے اور اقوام متحدہ میں تقریر کے علاوہ اس معاملے کو عالمی رہنماؤں کے سامنے بھی رکھا ہے۔یہ بات ان کی تو جہ طلب ہے کہ ایک مسئلہ جو تقربیاًبہتر سال سے چلاآرہا ہے اور اس بارے میں کئی مرتبہ اقوام متحدہ کے اجلا س بھی ہو چکے ہیں اور سلامتی کونسل میں بھی پیش ہو چکا ہے تما م دنیا اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ پاکستان اوربھارت کے ما بین کشید گی کی وجہ تنا زع کشمیر ہے خود عمران خان کے دورہ امریکا کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی جبکہ ابھی مو دی نے کشمیر کے بارے میں ایسا مکر وہ قدم اُٹھایا بھی نہ تھا جبکہ عمر ان خان نے اپنی تقریر میں فرما یا کہ انہو ں نے تین بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ کشمیر کا مسئلہ کیا ہے۔ مو صوف نے تقریر میں جرمن چانسلر کو بھی اس بارے میں بتانے کی بات کی اور کہا کہ جس کے بعد انگیلا مرکل نے نئی دہلی میں مسئلہ کشمیر پر بات کی۔ میں نے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی اس حوالے سے بات کی۔ عمران خان نے بتایا کہ انہوں نے دنیا کے ہر فورم اور بین الاقوامی میڈیا پر مسئلہ کشمیر اور بھارت کی انتہا پسندی کو بے نقاب کیا۔ بہرحال اگر ایسا کیا گیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے بحیثیت وزیراعظم پاکستان ان کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات اُٹھائیں خود ستائشی سے پرہیز کریں اور عملی اقدامات کی بات کریں اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج عوام کے سامنے رکھیں، حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کو جس اند از میں مو دی نے ہڑپ کیا ہے وہ دنیا میں داداگیری کی مضحکہ خیز اور مکر وہ ترین مثال ہے جہا ں تک حکو مت وقت کا معاملہ ہے تو قوم نے یہ ہی دیکھا کہ پا کستان اس مید ان میں اکیلا ہی کھڑا ہے صرف چار ممالک کی جانب سے آواز اُٹھی جس سے پاکستانیو ں او ر کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوئے، ان میں ترکی، ملائیشیا، ایران اورچین شامل ہیں، باقی دنیا جس میں عرب ممالک بھی شامل ہیں دھیناکاڑا پی کر سوئے رہے جن میں سعودی عرب جیسا پاکستان دوست ملک بھی شامل ہے، سعودی عرب کہاں کھڑاہے کہ سلامتی کو نسل کے اجلاس میں ایر ان نے بدگمانی کے باوجود پاکستان کے حق میں ووٹ دیا جبکہ سعودی عرب نے دو ہمدردانہ بول بھی نہیں بولے اور مخالفت میں گئے، اب سعودی عرب کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے وزراء خارجہ کی کونسل کا فوری طور پر اجلاس بلانے کی مخالفت کی گئی ہے جس پر پاکستان میں کئی حلقوں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ کراچی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاض اس بات کا خواہاں نہیں ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس بلایا جائے بلکہ وہ پاکستان کی خواہش کے برعکس اس حوالے سے دوسری تجاویز دیتا رہا ہے۔ وزراء کونسل کے اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، جو جدہ میں نو فروری کو ہوگا۔ تاہم اس بات کا امکان نہیں کہ اس کونسل کا کوئی سیشن بھارت کے زیرکنٹرول کشمیر پر بھی ہو، جس کا پاکستان مطالبہ کرتا رہا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس سعودی روئیے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاض سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت نے اس مسئلہ پر اپنی رائے دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا ”وقت آگیا ہے کہ ہم ریاض سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں کیونکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بہت زیادہ بھارتی اثر و رسوخ میں ہیں اور وہ پاکستان کی حمایت نہیں کرنا چاہتے۔ پاکستان کو ان ممالک کی قدر کرنا چاہیے جو ہمارے لئے نقصان اُٹھاتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ملا ئیشیا کے حالیہ دورے کے دوران فرمایا کہ کوالا لمپور کا نفرنس میںعد م شر کت کا ان کو افسو س ہے تاہم نہ تو وزیراعظم پاکستان نے اپنی قوم کو بتایا اورنہ متعلقہ فورم پر بات کی تاہم لوگوں میں ہنوز چہ ماگوئیاں ہو رہی ہیں کہ یہ سعودیوں کا دباؤ تھا ، کیو نکہ جس تام جھام سے مو صوف سعودی عرب تشریف لے گئے تھے اور پھر واپس بھی خالی ہاتھ لو ٹے تو ایسے میں افسوس کا ہو نا تو قدرتی امر ہے حالا نکہ کشمیر کی حما یت کر کے ملائیشیا نے بھارت سے تعلقات بھی خراب کئے اور معاشی نقصان بھی اُٹھا یا لیکن وہ اپنے کشمیر کے مؤقف پر ڈٹے رہے کیونکہ یہ مسلم اُمہ کا معاملہ ہے۔ ایسے حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ سعودی عرب جو اب یہ مؤقف اختیا ر کر چکا ہے کہ اُمہ اُمہ کی رٹ لگانی چھوڑ دی جائے تو ایسے میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ترکی اور ملائیشیا کیساتھ مل کر ایک نئی اسلامی تنظیم بنانی چاہیے جو او آئی سی کی طرح غیرمتحرک اور ناکارہ نہ ہو”دیکھنے میںیہ آرہا ہے کہ سعودی عرب اب اسرائیل سے تعلقات بہتر کر رہا ہے اور خالصتاً معاشی مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات دیگر ممالک سے استوار کر رہا ہے۔ بھارت سے بھی اس کے معاشی مفادات کی بنیاد پر تعلقات بن رہے ہیں۔ اس سعودی موقف سے پاکستان کو بہت مایوسی ہوئی ہے اور پاکستان کو اصولی طور پر چاہیے کہ وہ ترکی اور ملائشیا کی طرف سے نئی اسلامی تنظیم کی کوششوں کا ساتھ دے لیکن عملاً ایسا بہت مشکل ہے کیونکہ پاکستان اپنی معیشت کی وجہ سے ریاض پر بہت انحصار کرتا ہے جو اسے ادھار تیل دیتا ہے اور وہاں پر لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔