ایک قابل توجہ رپورٹ

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ پچھلے 6ماہ کے دوران ان میں ایک ارب ڈالر کی کمی ہوئی جبکہ دوسری طرف اسی عرصہ کے دوران مقامی سرمایہ کاروں نے غیریقینی صورتحال کے پیش نظر دو سے اڑھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بیرون ملک کی۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے، اس امر پر غور اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف مقامی طور پر سرمایہ کاری کیلئے بہتر ماحول بنے بلکہ غیرملکی زرمبادلہ کے حوالے سے بینکوں کے اہداف مزید زوال کا شکار نہ ہونے پائیں۔ مالیاتی امور کے حکومتی ماہرین کو دیکھنا ہوگا کہ کیا ہر دو معاملات مناسب پالیسیوں کی عدم موجودگی سے ہوئے یا اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما تھی۔ اُمید واثق ہے کہ وزارت خزانہ روایتی تساہل برتننے کی بجائے اصلاح احوال کیلئے فوری اقدامات کرے گی۔
کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال
بھارتی افواج نے ہفتہ کے روز بھی آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر جارحیت کا ارتکاب کیا جس سے ایک شہری شہید اور خاتون زخمی ہوگئی جبکہ متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔ گو یہ اطلاعات بھی ہیں جوابی کارروائی سے دشمن کی متعدد چوکیوں کو نقصان پہنچا مگرکنٹرول لائن پر بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز کارروائیوں سے کشیدہ صورتحال کے باعث کنٹرول لائن سے ملحقہ آبادیوں میں روزمرہ کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت تنازعہ کشمیر اور خود بھارت کی اندرونی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن پر حالات کو بگاڑنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہفتہ کو چری کوٹ سیکٹر میں رونما ہونے والے افسسوناک واقعہ کی طرح کے واقعات اب کنٹرول لائن پر روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اس صورتحال پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ بھارتی حکومت کو امن دشمن اقدامات سے گریز کیساتھ اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بڑا حادثہ نہ رونما ہونے پائے۔
میڈیا بحران’ اشتہارات کے بزنس میں کمی کی وجہ سے ہے
پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں جاری بحران کے حوالے سے اے پی این ایس کا یہ موقف درست ہے کہ سرکاری اشتہارات میں سابقہ سالوں کے مقابلہ میں 60فیصد کمی آئی ہے اور دوسری طرف وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پچھلے واجبات کی ادائیگی کیلئے اعلانات تو کئے مگر ان پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا۔ دوسری طرف اگر نجی شعبہ سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کو ملنے والے بزنس کو دیکھا جائے تو وہ بھی پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران متواتر کم ہوا ہے۔ پچھلے موسم گرما میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی تشہیر کے اشتہارات میں سابقہ سالوں کے مقابلہ میں لگ بھگ 50فیصد کمی ہوئی۔ امسال کاٹن کا جو بحران دستک دے رہا ہے اس اشتہاری بزنس میں مزید کمی کا خطرہ ہے۔ سرمایہ کاری منفی رجحان کا شکار ہوگی تو تشہیر کی ضرورت کیوں پڑے گی۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے ہر دو معاملات اپنے سامنے رکھنا ہوں گے۔ سرکاری اشتہارات اور نجی شعبہ کے بزنس میں جس طور کمی آئی ہے اس سے میڈیا پر مالیاتی دباؤ بڑھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں اشتہارات کے اجراء کی پالیسی پر نظرثانی کیساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو۔ مسائل ومشکلات کی وجہ سے بند ہوئی صنعتیں بحال ہوں تاکہ مصنوعات کی تشہیر کیلئے نجی شعبہ سے بزنس میڈیا کو ملے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کے ذمہ اخبارات وجرائد اور ٹی وی چینلوں کے جو بقایاجات ہیں ان کی ادائیگی کیلئے بھی فوری پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر تو حکومتوں کو ادائیگیوں کا تسلسل قائم رکھنا چاہئے تاکہ میڈیا بحران میں اضافہ نہ ہو۔ وفاقی اور دیگر تین صوبوں کی حکومتوں کو اس حوالے سے سندھ حکومت کی میڈیا پالیسی اور اے پی این ایس سے ملکر مسائل کے حل کیلئے ہونے والی کوششوں سے رہنمائی لینی چاہئے۔