صرف وعدوں اور اعلانات سے مہنگائی کم نہیں ہوگی

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کو ریلیف دینے اور مہنگائی کو ختم کرنے کیلئے ان کی حکومت ہر ممکن قدم اُٹھائے گی۔ انہوں نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ”کسی بھی مد سے پیسہ کاٹیں مگر شہریوں کو سہولت دیں۔ وزیراعظم نے اپنی جماعت اور حکومت کے اس موقف کو پھر دہرایا کہ مہنگائی سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران روزمرہ ضرورت کی 16اشیاء مہنگی ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر پچھلے 6ماہ کے دوران مہنگائی میں 17.58فیصد اضافہ ہوا۔ دو دن قبل حکومت کی سبسڈی سے شہریوں کو سستی اشیاء فروخت کرنے والے ادارے یوٹیلٹی سٹورز پر مختلف اشیاء کی فی کلو قیمت 3سے 20روپے بڑھا دی گئی۔ آمدنی اور اخراجات میں پیدا ہونے والے اس عدم توازن کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی۔ ستم بالائے ستم یوٹیلٹی بلز میں ہونے والا اضافہ ہے’ سات سے دس مرلے کے تین کمروں والے مکان میں مقیم خاندانوں کو بجلی کا جو ماہانہ بل سال بھر قبل کے اسی موسم میں دو اڑھائی ہزار موصول ہوئے تھے اس بار پانچ سے سات ہزار روپے موصول ہوئے۔ گیس کے بلوں میں بھی پچھلے سالوں کے موسم سرما کے مقابلہ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نہیں کئی مواقع پر خود جناب وزیراعظم یہ اعلان کرچکے کہ سال دو ہزار اٹھارہ کے موسم سرما میں سوئی گیس کے گھریلو صارفین سے بلوں کے ذریعے وصول کی گئی اضافی رقوم واپس کی جائیں گی اور اس کیلئے انہوں نے ہدایات بھی جاری کیں مگر سال بھر گزر جانے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوا۔ عوام کے مسائل کا احساس اور ان کے حل کیلئے اقدامات کی ضرورت کے حوالے سے وزیر اعظم کے جذبات خوش آئند ہیں مگر محض جذبات کے اظہار سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ یہ بجاطور پر درست ہے کہ مہنگائی کی دو بڑی وجوہات ہیں اولاً پیٹرولیم مصنوعات’ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ثانیاً ذخیرہ اندوزی۔ غور طلب امر یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی’ پیٹرولیم مصنوعات’ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ تو حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے معاہدوں کے مطابق کیا ہے اس امرکی اطلاع بھی ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافے کیلئے زور دیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود ہمارے یہاں مسلسل اضافہ ہوا۔ حکمران جماعت کے رہنماؤں کو یاد تو ہوگا کہ وہ پچھلے ادوار میں قومی اسمبلی کے اندر کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے جو پیٹرول چالیس روپے لیٹر فروخت ہونا چاہئے وہ ستر سے اسی روپے لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان ماہ وسال میں بڑے دلکش وعدے کئے جاتے رہے مگر اقتدار ملنے کے بعد کے اب تک گزرنے والے اٹھارہ ماہ کے دوران ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیرصحت کو پچھلے سال ادویات کی قیمتوں میں 65سے 200فیصد اضافہ ہو جانے کے بعد ان اطلاعات پر وزارت سے الگ کیا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اس اضافے سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا راتوں رات فائدہ پہنچا کر کچھ مفادات حاصل کئے گئے۔ وزیراعظم نے اس وقت دو اعلانات کئے تھے، اولاً یہ کہ ادویہ ساز اداروں کو وصول کردہ زائد رقم صارفین کو واپس کرنا ہوگی ثانیاً ادویات کی قیمتوں میں 19فیصد اضافے کی منظوری کے باوجود 65سے 200فیصد تک اضافے کی تحقیقات کروائی جائے گی مگر بدقسمتی سے نہ تو تحقیقات ہو پائیں نا ہی صارفین کو وصول شدہ زائد رقم واپس ملی اُلٹا وزارت صحت سے ہٹائے گئے وفاقی وزیر کو چند ماہ بعد پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ مہنگائی اور دوسرے مسائل کے حوالے سے موجودہ حکومت سے عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات سے توجہ ہٹانے کیلئے ہمیشہ پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کا ذکر کیاجاتا ہے۔ جی بہلانے کیلئے تو یہ اچھی کوشش ہے لیکن اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو لوٹ مار کرنے والی ان حکومتوں کے ادوار میں ایسی ابتری نہیں تھی کم ازکم یوٹیلٹی بلز اور مہنگائی کی شرح میں آج کے مقابلہ میں صورتحال بہتر تھی۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ حال ہی میں گندم آٹے اور چینی کے جو بحران پیدا ہوئے اور جس طور ان کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ ہوا اس کے تدارک کیلئے کیا اقدامات ہوئے؟ نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی کا بحران دستک دے رہا ہے، اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کیلئے تین سے چار ارب ڈالر کی کاٹن بیرون ملک سے منگوانی پڑے گی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خالی خولی اعلانات اور بیانات یا پچھلی حکومتوں پر الزام تراشی سے مسائل حل ہونے کے نہیں۔ وزیراعظم کو اس امر کی تحقیقات کروانی ہوگی کہ وہ کونسی طاقتور شخصیات ہیں جنہوں نے گندم’ خوردنی تیل وگھی اور چینی ذخائر کیں اور پھر یہ اشیاء افغانستان کیسے بھجوا دی گئیں۔ حکومت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنانا ہوگا۔ یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ان میں سیاسی عمل دخل ہو ناانجمن تاجران کے نمائندے ہوں بلکہ شہریوں کے مختلف طبقات کے آزاد ارکان پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں شامل کئے جائیں۔ وزیراعظم خود چند روز قبل کہہ چکے کہ دو لاکھ روپے تنخواہ سے ان کے گھریلو اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ انہیں ٹھنڈے دل کیساتھ سوچنا ہوگا کہ دو افراد پر مشتمل کنبہ دو لاکھ روپے ماہوار میں گزر بسر نہیں کرسکتا تو پندرہ سے 20ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے ملازمین کیسے گزر اوقات کرسکتا ہے؟ اندریں حالات حکومت کا فرض ہے کہ وہ مہنگائی میں کمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے تاکہ عام آدمی پر بھی اچھی نا سہی مناسب زندگی کے دروازے کھل سکیں۔