کوئی صورت نظر نہیں آتی

زندگی دبے پاؤں آگے بڑھتی رہتی ہے، وقت کیساتھ ساتھ چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، زندگی کے انداز بدل جاتے ہیں مقام بدل جاتے ہیں لوگ بدل جاتے ہیں تبدیلی کا یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہتا ہے۔ جب کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو کتنی ہی خوبصورت یادیں دامن دل اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں!
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
پرانی باتوں کو یاد کرکے آہیں بھرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، آج ہمیں جو کچھ اپنے اردگرد نظر آتا ہے اس کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تبدیلی فطرت کے اصولوں کے عین مطابق ہوتی ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ حضرت انسان ماضی میں جیتا ہے اسے گزرے ہوئے دن، بچپن کی باتیں، بزرگوں کی شفقت اور پھر ان کا منظر سے ہٹ جانا کہاں بھولتا ہے۔ وہ ان کی محبتیں یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھرتا رہتا ہے، اپنے بزرگوں کیساتھ بیتے ہوئے خوشگوار دن بچوں کیساتھ شیئر کرکے دل ناداں کی تسلی کا سامان کرتا رہتا ہے۔ یہ سب کچھ اسی لئے یاد آتا ہے کہ آج ہم ماڈرن ہوگئے ہیں گاڑی میں، پیدل چلتے ہوئے، دفتر میں کام کرتے ہوئے جسے دیکھئے اس کے ہاتھ میں سیل فون ہے، جس پہ ضروری کام بھی ہورہے ہیں اور ساتھ ساتھ وقت کا بے تحاشہ ضیاع بھی ہورہا ہے۔ ایک دوڑ ہے ہنگامہ ہے انتشار ہے، ننانوے کے پھیر نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا، ذہن میں ایک ہی خناس سمایا ہوا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانا ہے، بس یہی ایک کام رہ گیا ہے۔ ہماری خوبصورت اقدار ایک ایک کرکے ختم ہوتی چلی جارہی ہیں! کل اپنے ہیئر ڈریسر کی کرسی پر مجبور وبے بس مردہ بدست زندہ کے مصداق سر جھکائے بال کٹوا رہا تھا کہ اچانک ہمارا سیل فون بول اُٹھا حجام کے دبدبے کی وجہ سے بے حس وحرکت بیٹھے رہنے ہی میں عافیت سمجھی لیکن تھوڑی دیر بعد پھر سیل فون بجنے لگا ہم نے حجام سے جان کی امان چاہتے ہوئے سیل فون پر بات کی تو وہ ہماری طرف قہرآلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جناب اس مصیبت کو تھوڑی دیر کیلئے بند ہی رکھئے تو بہتر ہوگا، مجھے تو اس منحوس کی آواز سے ہی نفرت ہے اس نے تو انسان کی بے قدری کی انتہا کردی ہے۔ ایک کمرے میں چار آدمی بیٹھے ہوں تو سب اپنے اپنے سیل فون کیساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں، گھروں میں والدین اور بچے ایک دوسرے سے لاتعلق اس جنجال میں اُلجھے رہتے ہیں، ایک عجیب سی جادونگری ہے، چھوٹے بڑے سب اس کے جادو میں گرفتار ہیں۔ پہلے مہمان کی کتنی قدر ہوا کرتی تھی اب مہمان کے سامنے بھی سیل فون کیساتھ اٹکھیلیاں جاری رہتی ہیں۔ جناب حد ہوتی ہے بے حسی کی! پہلے کوئی مسافر ہو جاتا تھا تو گھر والوں کو اس کی یاد بے چین رکھتی تھی، ماں کی آنکھیں دروازے پر لگی رہتی تھیں کہ کب اس کا بیٹا گھر واپس آئے گا؟ ہمارا تعلق چکوال سے ہے، ہمارے ایک ماموں پاک فوج میں ملازم تھے اور کوئٹہ میں تعینات تھے ایک مہینے بعد ان کا خط آیا کرتا تھا، خط آتا تو اسے سنبھال کر رکھ دیا جاتا، میری نانی جان اس دن لالٹین کے شیشے صاف کرتی بتی درست کرتی اور ہم سب کو سرشام اپنے گھر بلایا جاتا کہ رات کو کھانے کے بعد ماموں کا خط پڑھا جائے گا۔ میرے نانا جان وہ خط بڑی محبت اور احترام کیساتھ پڑھتے، ایک ایک جملے پر رک جاتے، خط پڑھنے کے دوران آنسو مسلسل بہتے رہتے، نانی جان کی تو ہچکی بندھ جاتی، خط کے آخر میں ہم سب کا نام لیکر ماموں جان نے سلام بھجوایا ہوتا، کیا زمانہ تھا کیا لوگ تھے، کتنی محبت تھی! آج کوئی مسافر نہیں رہا، آپ جہاں بھی ہوں گھر والوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ وصال ہی وصال جدائی کا تصور بھی ناپید ہوچکا ہے، ہر طرف بھاگ دوڑ مچی ہوئی ہے! ہم نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے غالب کا یہ شعر داغ دیا:
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اس نے جیسے ہمارا شعر سنا ہی نہیں وہ اپنی رو میں مسلسل بولتے چلا جارہا تھا، قینچی کی جگہ اس کی زبان چل رہی تھی! جناب ہر چیز میں ملاوٹ ہے، کچھ بھی تو خالص نہیں رہا! ڈاکٹر لیبارٹری والے سے کمیشن لے رہے ہیں، سارا بوجھ مریض پر پڑ رہا ہے، مریض کو اتنا خوفزدہ کر دیا جاتا ہے کہ بیچارا بیوی کے زیور بیچ کر آپریشن کرواتا ہے جس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی! اب ہم اسے کیسے کہتے کہ ہم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں! دودھ میں پانی، دہی اور گھی میں کیمیکل! سرخ مرچ میں اینٹوں کا بورا ملایا جارہا ہے، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے اس کیساتھ ساتھ رنگ والی چائے کی پتی بازار میں سرعام بک رہی ہے! پھلوں کو میٹھے انجکشن لگائے جارہے ہیں، پیٹرول میں گندے تیل کی ملاوٹ جاری ہے، معصوم بچوں کیلئے کھانے پینے کی چیزوں میں زہریلا میٹریل ملایا جارہا ہے، بکر ے کے گوشت کو وزن زیادہ کرنے کیلئے پانی کے انجکشن لگائے جارہے ہیں، شوارمے کے گوشت میں کتوں کا گوشت! نلکے کا پانی منرل واٹر کے نام پر بیچا جا رہا ہے! جعلی صابن، جعلی سرف، جعلی شیمپو، زندگی بچانے والی جعلی ادویات بازاروں میں بک رہی ہیں! اگر ایک دن کا رونا ہو تو بندہ رودھو کر چپ ہوجائے مگر یہ تو روز کا رونا ہے:
کوئی اُمید بھر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی