کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی پر سرعام پھانسی کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ ہماری قومی اسمبلی میں یہ قرارداد وزیرمملکت علی محمد خان نے پیش کی جو ایک مطالبہ تھا، ایک خواہش تھی جس کی بازگشت ملک کے عوامی حلقوں یا مختلف طبقات فکر سے ہوتی ہوئی ارکان قومی اسمبلی تک پہنچی اور وزیرمملکت نے اسے ایک قرارداد کی صورت پیش کرکے کثرت رائے سے منظوری حاصل کرلی، یہ اس اجتماعی شعور کی فتح تھی جو بچوں سے جنسی زیادتی کو نہ صرف ایک قبیہ جرم سمجھتا ہے بلکہ ایسی حرکت کرنے کے بعد بچوں کو قتل کر دینے والوں کو عبرتناک اور ایسی ہی سنگین یا کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے،
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
اسمبلی میں اس قرارداد کو پیش کرنے اور اس کی منظوری کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے راجہ اشرف کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کرکے اپوزیشن کی بنچوں پر بیٹھنے والوں کے اجتماعی شعور کا اظہار کیا گیا اور یوں اس قرارداد کے منظور ہونے کے فوراً بعد اس موضوع پر بحث وتمحیص کے در دریچے کھلنے لگے، جس کے زیراثر نہ صرف اپوزیشن کی صفوں سے اس قرارداد کی مخالفت کا شور اُٹھنے لگا بلکہ پی ٹی آئی حکومت کے سرکردہ اراکین اسمبلی بھی اس قرارداد کی مخالفت میں اپنے اپنے ٹویٹ داغنے لگے۔ اس قرارداد کی مخالفت میں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرعام پھانسی دینا ظالمانہ تہذیب کا طریقہ اور انتہا پسندی کی ایک شکل ہے، انہوں نے اس قرارداد کی مذمت کی جس کے جواب میں ممتاز سکالر عامر لیاقت حسین اور فواد چودھری کے درمیان ٹویٹر پر گرما گرم بحث چل نکلی، عامر لیاقت حسین فواد چودھری کے موقف کی مخالفت کرنے لگے وزیر مملکت برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز رویہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ جس وقت یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی گئی وہ اسمبلی میں موجود نہیں تھیں ورنہ وہ اس قرارداد کی مخالفت کرتیں، دریں اثناء وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اس قرارداد کی مخالفت میں اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ 1994ء کے دوران سرعام پھانسی کی سزا کو مسترد کرچکی ہے اسلئے ایسا کرنا شریعت اور آئین کے منافی ہے، ظاہر ہے یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہر کس وناکس کو بات کرنے کا حق حاصل ہے، ایسے موقعوں پر سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث چل نکلی ہے اور ٹی وی چینلوں کے کیمرہ بدوش اور مائیک بدست اہلکار گلیوں اور بازاروں میں عوامی رائے معلوم کرنے آن کھڑے ہوئے ہیں اور کوئی کسی کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا کے مصداق
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
جسے جہاں بجا کہے اسے بجا سمجھو
کا نظریہ غالب آنے لگتا ہے، اس سلسلہ میں ہم نے جب اپنے ملنے ملانے والوں سے بات کی تو انہوں نے کہا اگر پاکستان میں ایسے گھناؤنے جرائم کیخلاف کڑی سزاؤں کا چلن چل نکلے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہوس پرستوں کے اس ظلم ناروا اور بربریت کا خاتمہ نہ ہوسکے جس کا شکار ہمارے پھول اور کلیوں جیسے معصوم بچے ہورہے ہیں، بچوں کیساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد ان کو قتل کر دینے کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو پھانسی کی سزا کی منظوری کے بعد بھانت بھانت کی بولیوں جیسی جتنے منہ اتنی باتوں کا یوں شور سنائی دے رہا ہے کہ کانوں پڑی آواز سجھائی نہیں دے رہی، یوں لگتا ہے جیسے ہر کوئی اپنا مافی الضمیر پیش کرنے کے علاوہ اپنا نکتہ نظر منوانا چاہتا ہو، اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان میں اظہار رائے یا نکتہ نظر بیان کرنے پر کوئی پابندی نہیں
اپنی غیرت بیچ ڈالیں اپنا مسلک چھوڑدیں
رہنماؤں میں ہی کچھ لوگوں کا یہ منشا ہی تو ہے
بچوں کیساتھ زیادتی کرکے ان کو سرعام تختہ دار پر لٹکانے کے علاوہ ان کو چونے کے بھٹے میں جلا دینے کا مشورہ بھی دیا جارہا ہے لیکن یہ سب باتیں، صرف باتیں ہیں، اس حوالہ سے بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کی منظوری بھی اس وقت تک خالی خولی باتوں سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتیں جب تک ان باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا، مجھے اپنی ایک دانشمند ریڈر سلمیٰ بی بی کا وہ ای میل اچھی طرح یاد ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ”مبارک ہو، اخبار میں منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو سزائے موت دئیے جانے کا اعلان ہوگیا” جس کے جواب میں اتنا ہی عرض کر سکا کہ یہ کوئی خبر نہیں، اعلان ہے، جی ہاں اعلان، بیان اور خبر میں جو فرق پایا جاتا ہے ہر ذی شعور کو اس سے آگاہ ہونا چاہئے، قومی اسمبلی سے معصوم بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکائے جانے کی قرارداد کی منظوری کی خبر ایک اعلامیہ ہی نہیں متنازعہ اعلامیہ ہے، اس پر کی جانے والی بحث اس کو موم کا ناک بھی بنا سکتی ہے اور اس کے عملی اطلاقات کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے، یوں کہہ لیجئے کہ اک دل بہلوا یا اشک شوئی ہے ان معصوم اور ننھی جانوں کے وارثوں یا ان کے والدین کی جن کے باغ کی کلیوں کو بلاوجہ روند ڈالا جاتا ہے، کاش ہم اس جرم کے ارتکاب سے پہلے ہی اسلامی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے بے حیائی اور ہوس پرستی کے گلا گھونٹنے کی ترکیب نکالتے اس تلقین پر عمل کرسکتے کہ
مگس کو باغ میں نہ جانے دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا