یہ بحث افسوسناک ہے

اس حکومت کا یہ سب سے احسن اقدام ہوگا کہ معصوم بچوں کیساتھ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا دی جائے۔ اس پرکسی کو اعتراض ہو یا بین الاقوامی قوتوں کا ڈر’ اس سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس اقدام کی درستگی کی صحت سے انکار کرنا ممکن نہیں وہ لوگ جنہیں اس بات پر اعتراض کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے انہیں چاہئے کہ ایک بار ان والدین کی اذیت کے لبادے کو اوڑھ کر دیکھیں۔ شیری رحمان کیلئے یقینا یہ کرنا ممکن نہیں ہوگا حالانکہ قدرت نے عورت کو بڑا رحم دل، دل ودیعت کیا ہے’ ماں ہونے کے ناطے وہ کسی بھی ماں کا دکھ محسوس کرسکتی ہے لیکن جب ایک عورت محض سیاستدان رہ جائے اور اس کی حسیات کا منبع انسانیت سے ہٹ کر معیشت سے وابستہ ہوجائے تو پھر وہ یقینا ایسی ہی باتیں کرسکتی ہے۔ حقیقت پسند ہونا اچھی بات ہے لیکن حقیقت پسندی کے جوش میں کسی کی تکلیف کے احساس سے بے بہرہ ہی ہو جانا ایک نہایت تکلیف دہ بات ہے۔جہاں تک بات فواد چودھری کی ہے توان کے بارے میں عامر لیاقت نے بالکل صحیح کہا کہ ”جب فواد چودھری کی اپنی عزت پر حرف آئے تو وہ طمانچہ جڑ دیتے ہیں۔ تو کیاہم بچیوں سے زیادتی کرنے والے کیلئے پھانسی کا مطالبہ بھی نہ کریں”۔ ویسے عمومی طور پر عامر لیاقت کی شخصیت کے کئی رنگ مجھے پسند نہیں لیکن محض اس وجہ سے ان کی بات سے اختلاف ممکن نہیں۔
وہ معصوم بچے جو کسی حیوان کی بربریت کاشکار ہوئے اور راہی عدم ہوگئے ان کی اذیت کا اندازہ کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے لیکن ان کے ماں باپ کی اذیت کا احساس تو کیاہی جاسکتاہے۔ ان کے شعور پر کس طرح اپنے بچوں کی ان سنی چیخوں نے گرفت کر رکھی ہوگی اس ماں کی کوکھ کیسے خوف سے سمٹتی ہوگی۔ اس باپ کا سینہ اپنے معصوم لخت جگرکی لاش کے بوجھ سے کیسے ٹوٹتا ہوگا’ کتنی معصوم خوبصورت بچیاں جو کوئی مدرسے جاتی تھی’ کوئی ٹیوشن پڑھنے جو زندہ تھیں تو لاڈ سے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر ٹافی کی فرمائش کرتی ہوں گی جو اتنی ننھی تھیں کہ مائوں نے ابھی یہ سوچنا بھی شروع نہیں کیا تھا کہ میں اس کے نام سے کچھ پس انداز کرنا شروع کروں’ جنہیں وہ بے دھڑک آنے جانے کی اجازت دیتی ہوگی’ ان بچیوں کو کوئی درندہ یوں مسل دے گا کسی نے سوچاہی نہ تھا’ ان مائوں کابھی تو سوچئے’ شیری رحمان میں’ فواد چودھری میں نہ تو یہ طاقت ہے اور نہ ہی تخلیل کی یہ پرواز’ سو وہ دنیاداری کی باتیں کر رہے ہیں، یہ بھی نہیں سوچتے کہ دنیا داری کی باتوں کابھی کوئی موقع محل ہواکرتا ہے۔ بچوں کی لاشوں پر سیاست نہیں کی جاتی۔ افسوس تو یہ بھی ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر فروغ نسیم جیسے وکلاء نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا اوریہاں تک کہا کہ سرعام پھانسی آئین وشریعت کے منافی ہے۔ فروغ نسیم سے ایسی بات کی اُمید ہی نہ تھی۔ ایک ایسا شخص جس کا کام ہی لوگوں کو انصاف دلانا ہو جو ایسے پیشے سے منسلک ہو کہ معاشرے میں انصاف کا علمبردار ہو’ وہ بھی ایسی بات کرے تو پھر انسان گلہ کس سے کرے۔ اسلام میں سزائوں کی بنیاد اور روح ہی اس بات پر ہے کہ ایک مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ لوگوں میں اس جرم کی سزا کا خوف بیٹھ جائے۔ ایسا خوف جو آئندہ کسی کے بھی اس جرم کے مرتکب ہونے کے مانع ہو۔ ان بچیوں کی نوچی کھسوٹی لاشوں کی تصاویر تو سب دیکھیں’ ان کے جنازے توہماری گلیوں سے گزریں لیکن قاتل کو سرعام پھانسی شریعت کے منافی ہو’ یہ کیسے ممکن ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگ بھیڑئیے ہوگئے ہیں۔ بچہ ایک لحظے کو ماں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے تو اس کے زندہ لوٹ آنے کی اُمید ہی نہیں رہتی اور یہ مٹھی بھر سیاستدان اقوام عالم کے پیمانوں کی کسوٹی پر پورا اُترنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ انہیں برملا یہ بھی کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر پھانسیوں سے معاملات درست ہوتے تودنیا میں جرم ہی نہ ہوتے۔ کیا کہنے!! دنیا میں جرم ہی اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ جرم سرعام ہوتا ہے اور سزائیں بند کمروں میں دی جاتی ہیں۔ جرم کی سزا’ جرم کے مطابق سرعام دی جائے تو دیکھنے والوں میں ایسی دہشت پیدا ہو جائے کہ آئندہ کسی کی ہمت ہی پیدا نہ ہو۔ یہ بیان بازی’ یہ بحث مباحثے نہایت ہی افسوسناک ہیں۔ یہ معاملہ اتنا حساس ہے کہ لوگوں کو اس حوالے سے بات کرنے سے پہلے بھی بہت سوچنا چاہئے کہ کہیں کسی مظلوم ماں کادل نہ دکھ جائے۔ کسی بے بس باپ کی آہ نہ لگ جائے’ کہیں کوئی معصوم بچی محض اسلئے اس ظلم کا شکار نہ ہوجائے کیونکہ چند انتہائی ماڈرن اور مغرب پرست سیاستدانوں نے محض علیحدہ نظر آنے کو اس بات کی’ اس اقدام کی’ اس قانون کی مخالفت کی تھی لیکن اتنا وقت کس کے پاس ہے۔ ایسا احساس ہی کہاں باقی ہے، یہ سیاستدان عوامی نمائندے ہیں لیکن عوام کے دکھ سے واقف نہیں۔ اس ملک میں رائج اکثریت کے مذہب کے قوانین سے بھی واقف نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی لا علمی پر شرمندہ بھی نہیں’ انہیں یہ احساس بھی نہیں کہ وہ ایک غلط بات کا پرچار کر رہے ہیں۔ شاید وہ اپنی سیاست سے خوش بھی نہیں اسی لئے چاہتے ہیں کہ ان کا سیاسی کیرئیر ختم ہوجائے۔ تبھی تو لوگوں کے دلوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کر رہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرے کے لوگوں کی یادداشت کی عمر سے پوری طرح واقف ہوں کہ وہ کچھ بھی کہیں’ انتخابات تک کسی کو یاد نہ ہوگا’ اس لئے ان کے سیاسی کیرئیر پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ جو بھی ہو یہ بات انتہائی افسوسناک ہے’ قابل مذمت ہے’ اس معاشرے نے اپنے بچوں’ اپنے مستقبل کے یوں بیدردی سے پامال کئے جانے کا دکھ برداشت کیا ہے’ مسلا کئے ننھے جسم اس ملک کی گود میں ہر روز ہم دفن کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو بین الاقوامی دنیا کی پڑی ہے۔ افسوس ہے صد افسوس، اگر دلوں کو دکھانے کے جرم میں اسمبلیوں کی رکنیت معطل کی جاتی تو یہ لوگ گھروں میں ہوتے اور شریعت کی کتابیں پڑھ رہے ہوتے تاکہ انہیں سمجھ آسکے کہ اصل شریعت کیا ہے؟ اب بھی وقت ہے انہیں شریعت کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے اور کسی ایک مقتول بچی کے گھر کا ایک چکر بھی لگا آنا چاہئے شاید کہ کچھ اثر ہو۔